03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لمبی مدت کے بعد تقسیم وراثت میں حساب کا طریقہ کار
77801میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

محترم مفتی صاحب:         السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ!

مفتی صاحب!  میرے والد صاحب (خورشید احمد)  6  مارچ  1988ء  کو فوت ہوئے۔ پسماندگان میں ایک بیوی ، چار بیٹے اور ایک بیٹی کو چھوڑا ۔ میری والدہ صاحبہ  20  ستمبر  1998ء  کو فوت ہو گئیں۔ والد صاحب کی طرف سے جو زمین وراثت میں ملی اس کا ٹھیکہ ہر سال والدہ کو آتا تھا جو کہ ہم بھائیوں اور بہن پے خرچ ہو جاتا تھا۔ والدہ کی وفات کے بعد چونکہ بھائیوں میں میں بڑا ہوں، تو سربراہ ہونے کے ناطے زمین سے ملنے والی آمدنی میں           بھائیوں اور بہن پے خرچ کرتا رہا۔  2002ء  میں بہن کی شادی کے بعد بہن کا حصہ میں اسے دیتا رہا۔  2019ء  میں بہن بھی فوت ہو گئی تو میں بہن کے حصے کا ٹھیکہ اس کے شوہر اور زیر کفالت بچوں کو دیتا رہاہوں۔

میرے نانا جان  18  جون  2014ء  کو فوت ہوئے۔ ان کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ میری والدہ پہلے ہی فوت ہو چکی۔ میری چھوٹی خالہ    20  جون  2018ء  کو فوت ہو گئی، جن کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں حیات ہیں۔ 

مجھے اب پتا چلا ہے کہ میری والدہ کی وفات کے بعد شرعی ورثاء میں نانا بھی شامل ہیں ،  جنہیں ٹھیکے میں سے حصہ ملنا چاہیے تھا۔ اب جبکہ وہ دنیا میں نہیں ہیں تو زمین سے آنے والی آمدنی کو میں نانا جان کے شرعی ورثاء میں کیسے تقسیم کیا کروں؟  اور اب تک ٹھیکے کی رقم کا شرعی حصہ جو میں نانا جان کو پھر ان کے          ورثاء کو نہیں دے سکا اس کا کیا کروں؟ والدہ کی وفات  (1998ء)  کے بعد سے میرے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ ٹھیکے کی کتنی رقم مجھے ملتی تھی۔ میرے   پاس صرف گذشتہ تقریباً  8  سال کا ریکارڈ موجود ہے۔ والدہ کی وفات کے وقت صرف میں اور بڑی بہن بالغ تھے باقی تین بھائی نابالغ تھے۔ ٹھیکے کی رقم گذشتہ تین

سالوں سے  87500روپے سالانہ آرہی ہے۔

اس تمہید کے بعد برائے مہربانی بندہ کی رہنمائی فرمائیں کہ اب کیسے تلافی ہو سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔ سب سے پہلے آپ کے والد خورشید احمد صاحب کی  میراث اس طرح تقسیم ہوگی کہ انہوں نے  فوت ہوتے وقت  ترکہ میں جو کچھ چھوڑا  تھا ان  تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے،ان کے ورثہ میں ایک بیو ی،4بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ،جن میں میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:

1۔ بیوی: 12.5 فیصد حصہ ملے گا۔

2۔ 4بیٹوں کا مجموعی حصہ:77.78(یعنی ہر بیٹے کو19.44فیصد حصہ ملے گا۔)

3۔ایک بیٹی کا  حصہ:09.72

2۔ والدکی میراث میں سے،ٹھیکے کی رقم سمیت آپ کی بہن کا جو حصہ بنتاہے،وہ ان کے شوہر کے حوالے کردیاجائےتاکہ بہن کے فوت ہونے کے بعد بطورمیراث ان کے ورثہ میں تقسیم ہو۔

3۔والدہ کی میراث میں بھی بہن کا حصہ بنتا ہے،جو آگے صورت نمبر4میں واضح ہے،وہ حصہ بھی ان کے شوہر کے حوالے کیاجائے۔

4۔اگر والدہ کی وفات کے وقت یہی ورثہ (ان کے والدیعنی آپ کے نانا،چار بیٹے،ایک بیٹی) حیات تھے تو ان کی میراث اس طرح تقسیم ہوگی۔انہوں نے  فوت ہوتے وقت  ترکہ میں جو کچھ چھوڑا  تھا ان  تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے،ان کے ورثہ میں والد،4بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ،جن میں میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:

1۔ والد: 16.67فیصد حصہ ملے گا۔

2۔ 4بیٹوں کا مجموعی حصہ:74.07(یعنی ہر بیٹے کو18.52فیصد حصہ ملے گا۔)

3۔ایک بیٹی کا  حصہ:09.26

5۔آپ کی والدہ کی میراث میں آپ کے نانا کا جو حصہ ہے وہ اوپر صورت نمبر4میں بیان ہوچکا،لہذا وہ ان کے

حوالے کیا جائے،ابھی تو وہ حیات نہیں ہیں ،لہذا ان کے ورثہ کو دیدیا جائے۔جس قدر رقم کا ریکارڈ آپ کے پاس ہے اس میں ان کے بننے والے حصہ کی مقدار معلوم ہوسکتی ہے،جس زمانے کا ریکارڈ نہیں ہےاس کے بارے میں محتاط اندازہ لگا کرایک رقم کی تعیین کی جائے اور پھر وہ رقم ان کے ورثہ کے حوالے کی جائے۔

حوالہ جات

...

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

17/صفر1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب