021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جی ڈی اے کے پاس بطورِ ضمانت رکھوائی جانے والی زمین کی شرعی حیثیت
77804امانتا اور عاریة کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

Gawadar Development Authority ((GDAگوادر کا ایک حکومتی ادارہ ہے۔جب کوئی بلڈرگوادر میں زمین خریدتا ہے تو GDA بلڈر کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ پلاٹنگ سے لے کر ڈیولپمنٹ کے اختتام تک سارے کام اصول وضوابط   کے مطابق صحیح طریقہ پر انجام دے۔ بلڈر لوگوں کو پلاٹ بیچتے ہیں، پلاٹوں کی تعمیر لوگ پھر خود کرتے ہیں۔ البتہ سوسائٹی کی سوک سروسز جیسے روڈ، فٹ پاتھ، پانی کی لائن وغیرہ یہ سب کرنا بلڈر کی ذمہ داری ہوتی ہے، بلڈر پلاٹ لینے والوں سے سوک سروسز کے پیسے بھی وصول کرتا ہے، یہ پلاٹ کی قیمت سے الگ ڈیولپمنٹ چارجز کے نام سے ہوتے ہیں، بلڈر تخمینہ لگاتا ہے اور پھر انہیں بتادیتا ہے کہ آپ کے اوپر اتنے اتنے ڈیولپمنٹ چارجز آتے ہیں، بلڈر یہ رقم عموما ان سے ڈیولپمنٹ سے پہلے ہی لے لیتا ہے، البتہ بعض لوگ ایسا بھی کرتے ہیں کہ کام کے دوران میں تھوڑے تھوڑے کر کے دیتے ہیں۔

چونکہ بعض دفعہ بلڈر پلاٹنگ کر کے سوک سروسز کے کام حکومت کی ہدایات کے مطابق نہیں کرتے اور بھاگ جاتے ہیں؛ اس لیے GDA پورا کام اصول و ضوابط کے مطابق کرنے کو یقینی بنانے کےلیے بلڈر سے قابلِ فروخت پراپرٹی (salable area) کا تیس فیصد حصہ اپنے پاس بطورِ ضمانت رکھتا ہے، ضمانت کا مطلب یہ ہے کہ بلڈر اس تیس فیصد پراپرٹی میں تعمیر وغیرہ کا کام تو کرسکتا ہے، لیکن اس کو نہ بیچ سکتا، اجارہ پر نہیں دے سکتا، اور خود بھی استعمال نہیں کرسکتا۔ معاہدے میں اس کے لیے اس زمین کے لیے Mortgage کا لفظ لکھا جاتا ہے کہ بلڈر یہ زمین GDA کے پاس بطورِ مورگیج رکھ رہا ہے۔

GDA اور بلڈر کے درمیان یہ معاہدہ (Mortgage Deed) بالکل ابتداء میں ہوتا ہے، جب بلڈر جی ڈی اے کے پاس یہ زمین بطورِ ضمانت رکھواتا ہے تو اس کو این او سی ملتا ہے جس کے بعد اس کو ایڈورٹائزمنٹ، پلاٹنگ وغیرہ کی اجازت ملتی ہے، چنانچہ اس کے بعد وہ لوگوں کو پلاٹ بیچتا ہے اور پلاٹ کی قیمت اور ڈیولپمنٹ چارجز لیتا ہے۔

پھر جب بلڈر 50 فیصد کام مکمل کرلیتا ہے تو GDA اس کو اس زمین کا 25 فیصد حصہ واپس دیدیتا ہے، جب بلڈر 75 فیصد کام مکمل کرلیتا ہے تو GDA مزید 25 فیصد زمین واپس کردیتی ہے، جب بلڈر 100 فیصد کام مکمل کرلیتا ہے تو GDA مزید 30 فیصد زمین واپس کردیتی ہے، اور جب بلڈر پانی کی سپلائی اور سیوریج سسٹم کو فعال کردیتا ہے تو GDA باقی ماندہ 20 فیصد زمین بھی واپس کردیتا ہے۔ اگر وہ کام مکمل کرنے سے پہلے بھاگے گا یا کام مکمل نہیں کرے گا تو GDA اس زمین کو بیچ کر اس کی قیمت سے بقیہ کام مکمل کرے گا اور بچ جانے والی رقم بلڈر کو واپس کرے گا، یہ بات معاہدے میں لکھی ہوتی ہے اور فریقین اس پر دستخط کرتے ہیں۔ اگر کوئی بلڈر زمین نہیں رکھنا چاہتا تو پھر وہ GDA کے پاس سوسائٹی کی ڈیولپمنٹ کی لاگت کے بقدر پیسے رکھے گا، یا پھر وہ GDA کو بینک کی گارنٹی دے گا جس میں بینک اس بات کی گارنٹی دےکہ وہ (طے شدہ تفصیلات کے مطابق) GDA کو اتنی اتنی رقم دینے کا پابند ہوگا۔   

یہ مورگیج قانونی طور پر ضروری ہے اور بلڈر کا یہ معاملہ جی ڈی اے کے ساتھ ہوتا ہے، عام طور پر پلاٹ خریدنے والے کسٹمرز سے مورگیج کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوتی، ہاں اگر کوئی بندہ پلاٹ لینے میں دلچسپی رکھتا ہو اور شک وشبہ کا اظہار کر رہا ہو یا پوچھے کہ اگر یہ آپ نے تیار نہیں کیا تو کیا ہوگا ؟ تو اس کی تسلی کے لیے اس کو یہ بات زبانی بتادی جاتی ہے کہ اگر خدا نخواستہ کچھ ہوا تو بھی آپ محفوظ ہیں؛ کیونکہ جے ڈی اے نے یہ قدم اٹھایا ہوا ہے، اللہ نہ کرے اگر بلڈر ڈیفالٹ کرجاتا ہے تو جی ڈی اے اس زمین کو بیچے گا اور آپ کو آپ کی چیز مل جائے گی۔  

سوال یہ ہے کہ جو زمین GDA کے پاس بطور ضمانت رکھی جاتی ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آیا یہ حکومت کے پاس امانت ہوگی یا رہن؟ امانت کی صورت میں یہ اشکال ہوتا ہے کہ امانت کے باب میں امانت رکھنے والا جب چاہےاپنی چیز واپس لے سکتا ہے، حالانکہ یہاں بلڈر کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا۔ اور رہن کی صورت میں یہ اشکال ہوتا ہے کہ  رہن کسی قرض یا وعدۂ قرض کے بدلےمیں ہوتا ہے، جبکہ اس صورت میں کوئی قرض یا وعدۂ قرض نہیں ہوتا۔   

o

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکورہ زمین جی ڈی اے کے پاس رہن نہیں، امانت کے طور پر رہے گی، جس کی تفصیل درجِ ذیل ہے۔  

یہ زمین رہن اس لیے نہیں ہوگی کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ دو چیزوں کے مقابلے میں رہن کو درست قرار دیتے ہیں، (1) دین، اور (2) عین مضمون بنفسہا۔ علامہ قاضی خان رحمہ اللہ نے "منفعتِ واجبہ اور عملِ واجب فی الذمہ" کے مقابلے میں بھی رہن کو درست فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ "منفعت یا عملِ واجب فی الذمہ" ذمہ میں واجب ہونے کے اعتبار سے دین ہی کی ایک صورت ہے۔

1. علامہ قاضی خان رحمہ اللہ تعالیٰ "فتاویٰ خانیہ" میں فرماتے ہیں:  

ولو استأجر دارًا أو شيئاً وأعطى بالأجر رهنا جاز، فإن هلك الرهن بعد استيفاء المنفعة يصير مستوفيا للأجر، وإن هلك قبل استيفاء المنفعة يبطل الرهن ويجب على المرتهن رد قيمة الرهن. ولو استأجر خياطاً ليخيط له ثوبا و أخذ من الخياط رهنا بالخياطة جاز، وإن أخذ الرهن بخياطة هذا الخياط بنفسه لا يجوز. وكذا لو استأجر إبلاً إلى مكة فأخذ من الحمال بالحمولة رهنا جاز، ولو أخذ بحمولة هذا الرجل بنفسه أو بدابة بعينها لا يجوز. ولو استعار الرجل شيئاً له حمل و مؤنة فأخذ المعير من المستعير رهنا برد العارية جاز، وإن أخذ منه رهنا برد العارية بنفسه لا يجوز. ولو أخذ رهنا من المستعير بالعارية لا يجوز لأنها أمانة في يده. ولو استأجر نواحة أو مغنية وأعطاها بالأجر رهنا لايجوز ويكون باطلاً. وكذا الرهن بدين القمار، أو بثمن الميتة والدم، أو الرهن بثمن الخمر من المسلم لمسلم أو ذمي، أو بثمن الخنزير باطل. (الفتاوی الخانیة :3/ 376)

2. علامہ محمد علامہ خالد الاتاسی رحمہ اللہ تعالیٰ شرح المجلہ میں فرماتے ہیں:

شرح المادة 710:  وفي الخانیة: ولو استأجر داراً أو شيئاً وأعطى بالأجر رهنا جاز، فإن هلك الرهن بعد استيفاء المنفعة يصير مستوفيا للأجر، وإن هلك قبل استيفاء المنفعة يبطل الرهن ويجب على المرتهن رد قيمة الرهن. ولو استأجر خياطاً ليخيط له ثوبا و أخذ من الخياط رهنا بالخياطة جاز، وإن أخذ الرهن بخياطة هذا الخياط بنفسه لايجوز. وكذا لو استأجر إبلاً إلى مكة فأخذ من الحمال بالحمولة رهنا جاز، ولو أخذ بحمولة هذا الرجل بنفسه أو بدابة بعينها لا يجوز. ولو استعار شيئاً له حمل و مؤنة فأخذ المعير من المستعير رهنا برد العارية جاز، وإن أخذ منه رهنا برد العارية بنفسه لايجوز. ولو أخذ رهنا من المستعير بالعارية لم يجز؛ لأنها أمانة. ولو استأجر نواحة أو مغنية وأعطاها بالأجر رهنا لايجوز ويكون باطلاً. وكذا الرهن بدين القمار أو بثمن الميتة والدم أو الرهن بثمن الخمر من المسلم لمسلم أو ذمي أوبثمن الخنزير باطل.  (شرح المجلة للأتاسي:3/145)

3. المعاییر الشرعیۃ میں ہے:

3/3/1 - یشترط أن یکون المرهون به دینًا مشروعًا، کثمنِ مبیع أو ضمان إتلافٍ أو مسلمٍ فیه أو مستصنعٍ أو منفعةٍ فی الذمة. ولایشترط لصحة الرهن أن یکون الدین ثابتًا في الذمة، بل یصح الرهن قبل العقد الذي یثبت به الدین أو معه. ولایصح أن یکون المرهون به  دینًاغیر مشروعٍ کقرضٍ ربويٍ، أو غیر دین، کالثمن المعین ومنفعة عینٍ معینةٍ، والمبیع المعین الحال الثمن في ید البائع. (المعاییر الشرعیة:987)  

اور صورتِ مسئولہ میں جب زمین بطورِ ضمانت رکھوانے کا یہ معاملہ ہوتا ہے تو اس وقت ابھی بلڈر نے پلاٹ لینے والوں سے ڈیولپمنٹ چارجز لیے ہوتے ہیں، نہ ہی سوک سروسز کی ذمہ داری لی ہوتی ہے، بلکہ اس وقت تک تو اس کو پلاٹنگ اور ایڈورٹائزمنٹ کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ اس لیے اس وقت اس کے ذمے میں کوئی دین، عین مضمون بنفسہا یا کوئی کام اور خدمت واجب نہیں ہوتی جس کے بدلے میں اس زمین کو دین قرار دیا جائے؛ لہٰذا یہ معاملہ "رہن بالدرك" کے زمرے میں آتا ہے جوکہ جائز نہیں۔

1. ہدایہ میں ہے:

قال: والرهن بالدرك باطل، والكفالة بالدرك جائزة. والفرق أن الرهن للاستيفاء، ولا استيفاء قبل الوجوب، وإضافة التمليك إلى زمان في المستقبل لا تجوز، أما الكفالة فلالتزام المطالبة، والتزام الأفعال يصح مضافا إلى المآل كما في الصوم والصلاة؛ ولهذا تصح الكفالة بما ذاب له على فلان، ولا يصح الرهن.  فلو قبضه قبل الوجوب فهلك عنده يهلك أمانة؛ لأنه لا عقد، حيث وقع باطلا، بخلاف الرهن بالدين الموعود، وهو أن يقول: رهنتك هذا لتقرضني ألف درهم، وهلك في يد المرتهن، حيث يهلك بما سمى من المال بمقابلته؛ لأن الموعود جعل كالموجود باعتبار الحاجة ولأنه مقبوض بجهة الرهن الذي يصح على اعتبار وجوده فيعطى له حكمه كالمقبوض على سوم الشراء فيضمنه. (الهداية:4/ 134)

2. توثیق الدیون میں ہے:

فإن قدم الشریك أو المضارب رهنًا بشرط استخدامه عند ثبوت الدین علیه بسبب تعدیه أو تقصیره؛ فإنه من باب الرهن المعلق، وقد تقدم أن الرهن المعلق لایصح عند الأئمة الثلاثة، إلا ما قدمنا عن المالکیة من جوازه. وعلی ذلك مشی المجلس الشرعي في المعیار الشرعي رقم 12 بشأن الشرکة (المشارکة والشرکات الحدیثة) …….. الخ

فالذي یظهر أنه لو قدم الشریك أو المضارب رهنًا لضمان التعدي أو التقصیر، فإنه یبقی أمانةً في ید الشریك الآخر أو رب المال في المضاربة، إلی أن یتبین التعدي أو التقصیر، ولاتثبت علیه أحکام الرهن قبل ذلك، فلایکون الشریك الآخر ولا رب المال أحق به قبل ثبوت التعدي أو التقصیر، بل یصح علیه دعوی الغرماء.                                                                                                                                                                                                         (توثیق الدیون:179-178)

جہاں تک اس زمین کو امانت قرار دینے پر سوال میں ذکر کردہ اشکال کا تعلق ہے کہ امانت میں امانت رکھوانے والا جب چاہے، اپنی چیز واپس لے سکتا ہے، جبکہ یہاں ایسا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ:

  • یہ حکم عام امانت کا ہے جو صرف حفاظت کی غرض سے دی جاتی ہے۔ جو امانت کسی معاہدے یا وعدے کو پورا کرنے کی اطمینان کے لیے دی جاتی ہے، اس قسم کی امانت میں جب تک وہ وعدہ یا معاہدہ اپنی انتہاء کو نہیں پہنچتا، امانت رکھنے والا اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ یہ ایک انتظامی معاملہ ہے جو فریقین باہم رضامندی سے کرتے ہیں، اس میں کوئی قابلِ اشکال بات نہیں۔
  • دوسری بات یہ ہے کہ  اگر امانت رکھوانے والے کو اس کی امانت واپس کرنے میں یہ اندیشہ ہو کہ وہ اس کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچائے گا تو مودِع کے لیے اس کو اپنے پاس روکنا جائز ہوتا ہے۔  

صورتِ مسئولہ میں بھی جی ڈی اے بلڈر سے یہ زمین عوام کی مصلحت کی خاطر امانتًا قبضہ میں لیتا ہے؛ تاکہ بلڈر اپنے ذمہ میں جو کام لے اس کو مکمل کرے اور لوگوں کو نقصان نہ پہنچائے۔ لہٰذا جب تک بلڈر معاہدے میں طے شدہ تفصیلات کے مطابق کام مکمل نہیں کرے گا، یہ زمین اسے واپس نہیں کی جائے گی، بلکہ یہ جی ڈی اے کے پاس بطورِ امانت رہے گی، جب وہ معاہدے کے مطابق کام مکمل کرلے گا تو زمین اس کو واپس کردی جائے گی۔     

اس کی نظیر اجارۃ الاعیان میں وہ "سیکورٹی ڈپازٹ" ہے جو گھر، دکان اور گاڑی وغیرہ کسی کو کرایہ پر دیتے وقت لیا جاتا ہے۔ ایسی رقم اصولی طور پر مالک کے پاس کرایہ دار کی امانت ہوتی ہے، لیکن جب تک ان کی کرایہ داری کا معاملہ ختم نہیں ہوتا، وہ اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ واضح رہے کہ کرایہ دار کی طرف سے صراحۃً یا دلالۃً استعمال کی اجازت پائی جانے کی صورت میں "سیکورٹی ڈپازٹ" کی رقم کا قرض میں تبدیل ہوجانا الگ مسئلہ ہے جس سے اس کی اصل حیثیت یعنی امانت ہونے پر فرق نہیں پڑتا۔   

اس کی ایک اور نظیر "ہامشِ جدِّیَّۃ" بھی ہے۔ "ہامشِ جدِّیَّۃ" اس رقم کو کہتے ہیں جو وعدۂ بیع یا وعدۂ اجارہ میں خریداری اور اجارہ کا وعدہ کرنے والا  فروخت کنندہ اور مؤجِر کو اس بات کا اطمینان دلانے کے لیے دیتا ہے کہ میں یہ چیز (جس کی بیع یا اجارے کا وعدہ کیا جارہا ہو) خریدنے یا اجارہ پر لینے میں سنجیدہ ہوں۔ یہ رقم بیع اور اجارہ کا معاملہ ہونے تک بائع کے پاس امانت ہوتی ہے، اور بیع یا اجارہ کا معاملہ ہوجانے کے بعد فروخت کنندہ کے ذمے یہ رقم خریدار اور مستاجر کو واپس کرنا لازم ہوتا ہے، الا یہ کہ معاملہ کرنے والے اس کو خریدی ہوئی چیز کی قیمت یا اجارہ پر لی ہوئی چیز کے کرایہ میں شمار کرنے پر متفق ہوجائیں۔   

حوالہ جات

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (2/ 275):
للمستودع أن يمتنع عن رد الوديعة في مسألتين : المسألة الأولى : للمستودع أن يمتنع عن رد الوديعة إذا عجز حسا أو معنى …….. المسألة الثانية : إن كان المودع ظالما في طلبه وديعته فللمستودع أن يمتنع عن إعطائها . مثلا لو كانت الوديعة سيفا وكان قصد المودع أخذه وضرب أحد به فللمستودع أن يمتنع عن إعطائه إياه , ويستمر على الامتناع حتى يتيقن أن المودع عدل عن فكرة الضرب فإذا طلبه المودع وقام الريب بين أن يستعمله للانتقام أو في المسائل المباحة . فللمستودع أن يمتنع عن تسليم الوديعة أيضا (تكملة رد المحتار) .
وإذا حررت امرأة سندا يحتوي على إقرارها بأخذ مطلوبها من زوجها أو أن المال الفلاني هو ملك زوجها وأودعت السند المذكور أثناء مرضها عند شخص على أن يعطى إلى زوجها بعد وفاتها ثم أبلَّتْ من مرضها وأرادت أن تأخذ السند من ذلك الشخص، فلذلك الشخص أن يمتنع عن إعادة السند المار ذكره إلى الزوجة المودعة صيانة لحقوق زوجها .
فقه البیوع(1/119):
قد جرت العادة في بعض المعاملات الیوم أن أحد طرفي العقد یطالب الآخر بدفع بعض المال عند الوعد بالبیع قبل إنجاز العقد، وذلك للتأکد من جدّیته في التعامل.
وهذا کما یشترط طالب العروض في المناقصات (Tenders) أن یقدم صاحب العرض مبلغا یثبت جدیته في التعامل، وکما جری العادة في بعض البلاد أن المشتري یقدم مبلغا من الثمن إلی البائع قبل إنجاز البیع، وذلك لتأکید وعده بالشراء. ویسمی في العرف "هامش الجدیة"، أو  "ضمان الجدیة"  (وإن لم یکن ضمانًا بالمعنی الفقهي) فهذه الدفعات لیست عربونًا، وإنما هي أمانة بید البائع، تجري علیها حکم الأمانات.
المعاییر الشرعیة، المعیار التاسع: الإجارة والإجارة المنتهیة بالتملیك(242):
2/3- یجوز للمؤسسة أن تطلب من الواعد بالاستئجار أن یدفع مبلغًا محددًا إلی المؤسسة تحجزه لدیها لضمان جدیة العمیل في تنفیذ وعده بالاستیجار وما یترتب علیه من التزامات……. الخ
2/4- المبلغ المقدم لضمان الجدیة إما أن یکون أمانة للحفظ لدی المؤسسة فلا یجوز لها التصرف فیه، أو أن یکون أمانة للاستثمار بأن أذن العمیل للمؤسسة باستثماره علی أساس المضاربة الشرعیة بین العمیل والمؤسسة، ویجوز الاتفاق مع العمیل عند إبرام عقد الإجارة علی اعتبار هذا المبلغ من أقساط الإجارة.  

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   20/صفر المظفر/1444ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔