021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے بال رکھے؟
77846سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے بال رکھے اور کن بالوں کے رکھنے کی تلقین فرمائی؟

o

حج عمرہ کے علاوہ عام حالات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں روایات میں تین قسم کے بال رکھنے کا ذکر ملتا ہے، جن کی تفصیل یہ ہے:

الوفرة: کانوں کی لو تک

اللِمّہ: کانوں کی لو اور کندھوں کے درمیان تک

الجُمّہ: کندھوں تک

 محدثین کرام رحمہم اللہ نے ان روایات میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مبارکہ وفرہ یعنی کانوں کی لو تک بال رکھنے کی تھی، البتہ کبھی کاٹنے میں تاخیر ہو جاتی تو بال  کانوں کی لو سے نیچے تک بڑھ جاتے تھے اور کبھی غزوات میں شرکت اور سفر وغیرہ کی وجہ سے مزید تاخیر ہو جاتی تو بال کندھوں تک آجاتے تھے تو جس صحابی نے جس حالت میں دیکھا اسی حالت کو آگے نقل کر دیا،(شمائل ترمذی: ص:44)

باقی کوئی مخصوص قسم کے بال رکھنے کی ترغیب دینے کا ذکر کسی حدیث میں منقول نہیں، لہذا آدمی جس طرح چاہے بال رکھ سکتا ہے، البتہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے کچھ بالوں کا حلق کرنے اور کچھ کا حلق نہ کرنے سے منع فرمایا ہے، اس لیےحلق ہو یا قصر، تمام سر کے برابر بال کاٹے جائیں، کچھ چھوٹے اور کچھ بڑے بال رکھنا خلاف ِسنت ہے۔

حوالہ جات

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (6/ 256) دار الرسالة العالمية:
عن هشام بن عروة، عن أبيه عن عائشة، قالت: كان شعر رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فوق الوفرة، ودون الجمة.
شرح السنة للبغوي (12/ 100، رقم الحديث: 3187) المكتب الإسلامي بيروت:
أخبرنا أبو محمد الجوزجاني، أنا أبو القاسم الخزاعي، أنا الهيثم بن كليب، نا أبو عيسى الترمذي، نا هناد بن السري، نا عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: «كنت أغتسل أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم من إناء واحد، وكان له شعر فوق الجمة، ودون الوفرة»
وصح عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، قال: «كان أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يأخذن من رءوسهن حتى تكون كالوفرة» .
قال الإمام: يقال: الوفرة: الشعر إلى شحمة الأذن، والجمة: إلى المنكب، واللمة: التي ألمت بالمنكبين.
                  مختصر سنن أبي داود للمنذري (3/ 72) مكتبة للنشر والتوزيع، الرياض:
وفي حديث عائشة: "كان شعر رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم- فوق الوَفْرة ودون الجمة" وهي توضح معنى اختلاف الألفاظ.
وفي حديث عائشة ما يدل على أن الجمة أطولُ من الوفرة، وهو الذي قاله العلماء.
والوفرة: إلى شحمة الأذن. واللَّمَّة: هي التي ألمت بالمنكبين. والجُمَّة: ما سقط على المنكبين. وقال بعضهم: الوَفْرة، ثمَّ الجمة، ثمَّ اللمة.
 سنن أبي داود ت الأرنؤوط (6/ 260، رقم الحديث: 4193) دار الرسالة العالمية:
حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا عثمان بن عثمان -قال أحمد: كان رجلا صالحا- أخبرنا عمر بن نافع، عن أبيه عن ابن عمر، قال: نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن القزع. والقزع: أن يحلق رأس الصبي، فيترك بعض شعره .
مختصر سنن أبي داود للمنذري (3/ 72) مكتبة للنشر والتوزيع، الرياض:
قيل: الجمع بين هذه الألفاظ في شعر رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم-: أن ما يلي منها الأذن: هي التي تبلغ شحمة أذنيه، وهي التي بين أذنيه وعاتقه، وما خلفهُ منها: هو الذي يضرب منكبيه.
وقيل: بل ذلك لاختلاف الأوقات، فإذا ترك تقصيرها بلغت المنكب، وإذا قصر: كان إلى أنصاف الأذنين، وبحساب ذلك يطول ويقصر.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

17/صفرالمظفر 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔