021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذاتی جائیداد میں بھائیوں کی شرکت
77827میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سلام کے بعد میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد محترم مرحوم عبد الرزاق اپنے والد امام بخش اور دو بھائیوں ،خدابخش اور محمد نواز کے ساتھ اپنے آبائی علاقے ضلع ٹانک میں رہائش پزیر تھا۔میرا والد ایک درزی تھا اور مالی وکاروباری لحاظ سے (اس وقت)کمزور تھا جبکہ چچا ودادا بھی مزدوری کرکے گزر بسر کررہے تھے اور ایک چچا خدا بخش کچھ نہیں کرتے تھے اور کرایہ کے مکان میں رہائش پزیر تھے ،میرے دادا کی کوئی خاندانی جائیداد،مال ودولت اور نقدی وغیرہ کچھ نہ تھی۔ میرے والد محترم کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے قرض دار ہوگیا تھا،جس پر قرض داروں کے تنگ کرنے پر والد اور بھائیوں  نے والد کو گھر سے علیحدہ کردیا۔جس کی وجہ سے میرے والد ناراض ہوکر ضلع ٹانک سے ضلع ژوب جاکر آباد ہوئے، ژوب میں میرے والد کا روبار میں محنت کرنے لگا اور ساتھ ہی پولیس میں نوکری لگ گئی ،چند سال گزرنے کے بعد میرے والد نے اپنے تمام مقروض رقم وسود ادا کرلیا اور بعد میں اپنی شادی کی (شادی میں  والد اور بھائیوں کی طرف سے کوئی مالی تعاون نہیں ہوا )وقت گزرنے کے بعدمیرے والد محترم عبد الرزاق نے ایک مکان، کچھ نقدی اور قسط پر لے لیا اور قسط ادا کرتا رہا،بعد میں دوسرا مکان اور ایک پلاٹ ضلع ٹانک میں خریدا۔میرے والد محترم اپنی فیملی کے ساتھ ژوب میں رہائش پذیر تھے،میرے والد نے اپنے بھائیوں کو اپنے ذاتی خریدے ہوئے مکان میں بحثیت کرایہ دار بغیر کسی معاوضے/کرایے کے رہائش دی اور ان کےساتھ ایک معاہدہ تحریر کیا کہ میری جائیداد کے ساتھ اپ لوگوں  کا کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہوگا۔میرے دادا 1998میں وفات پاگئے تھے اور کچھ وقت کے گزرنے کے بعد میرے والد محترم 2004 میں وفات پاگئے۔میرا ایک چچا اپنے سسرال میں رہائش پذیر تھا جبکہ دوسراچچا ہمارے مکان میں رہائش پزیر تھا،اس چچا نے 2014 میں ہمارے ساتھ مکان مذکورہ پر دعوی کیا کہ مکان میرا ہے،کیونکہ میں اپنے چھوٹے بھائی کی جائیداد میں سے اس بناء  پر حصہ مانگتا ہوں ،کہ میں نے چھوٹے بھائی کو پالا پوسا ہے،حالانکہ میرے دادا کی وفات پر میرے والد خود  3بچوں کا والد تھا،مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں  مجھے شرعی راہنمائی چاہیے۔

 

o

اگر سوال میں موجود صورت حقیقت کے مطابق ہے،تو ذاتی کمائی سے خریدے گئے مکان وغیرہ میں کسی اور کا حصہ نہیں ہوگا۔بھائی نے یہ دعوی کیا ہے کہ اس نے فوت شدہ بھائی کی پرورش کی ہے ،اگر یہ دعوی شرعی گواہ سے ثابت ہوبھی جائے تب بھی یہ تبرع اور احسان میں شامل ہوتاہے،اس لیے کہ باپ کی موجودگی میں نفقہ اس کے ذمہ لازم نہیں تھا،اور اگر کسی وجہ سے لازم ہوبھی رہا ہوتوبھی محض نفقہ کی ذمہ داری پوری کرنے سے مستقبل میں اس کی جائیداد میں حصہ دار نہیں بن سکتا ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں چچا کا دعوی شرعا باطل اور کالعدم ہے۔

حوالہ جات

وفي بدائع الصنائع(6/264):
وَأَمَّا بَيَانُ حُكْمِ الْمِلْكِ وَالْحَقِّ الثَّابِتِ فِي الْمَحِلِّ فَنَقُولُ وَبِاَللَّهِ التَّوْفِيقُ حُكْمُ الْمِلْكِ وِلَايَةُ التَّصَرُّفِ لِلْمَالِكِ فِي الْمَمْلُوكِ بِاخْتِيَارِهِ لَيْسَ لِأَحَدٍ وِلَايَةُ الْجَبْرِ عَلَيْهِ إلَّا لِضَرُورَةٍ وَلَا لِأَحَدٍ وِلَايَةُ الْمَنْعِ عَنْهُ وَإِنْ كَانَ يَتَضَرَّرُ بِهِ إلَّا إذَا تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الْغَيْرِ فَيُمْنَعُ عَنْ التَّصَرُّفِ مِنْ غَيْرِ رِضَا صَاحِبِ الْحَقِّ وَغَيْرُ الْمَالِكِ لَا يَكُونُ لَهُ التَّصَرُّفُ فِي مِلْكِهِ مِنْ غَيْرِ إذْنِهِ وَرِضَاهُ إلَّا لِضَرُورَةٍ وَكَذَلِكَ حُكْمُ الْحَقِّ الثَّابِتِ فِي الْمَحِلِّ عَرَفَ هَذَا فَنَقُولُ لِلْمَالِكِ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي مِلْكِهِ أَيَّ تَصَرُّفٍ شَاءَ سَوَاءٌ كَانَ تَصَرُّفًا يَتَعَدَّى
ضَرَرُهُ إلَى غَيْرِهِ أَوْ لَا يَتَعَدَّى.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 18):
"قال علمائنا :أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب."

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

22/صفر1444ھ

n

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔