021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد میں فجر کی نماز اور دعا کے بعد اجتماعی ذکر بالجہر اور تلاوت کی ترتیب
77859نماز کا بیانمسجدکے احکام و آداب

سوال

ہم فجر کی نماز کے بعد دعا سے فارغ ہوکر پہلے سورۂ یٰسین کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس کے بعد ذکر اللہ کی مجلس ہوتی ہے، مسجد کے اندر والا مائیک استعمال کرتے ہیں، اذان والا اسپیکر استعمال نہیں کرتے۔ ذکر بالجہر ہوتا ہے، امام صاحب درمیانی آواز میں ذکر کرتے ہیں اور مقتدی حضرات معمولی سی آواز میں ذکر کرتے ہیں۔  فجر کی نماز کے بعد کا وقت اس لیے اختیار کیا ہے کہ فجر کی نماز کے بعد اشراق تک کوئی نفل نماز نہیں ہے۔ یہ ذکر کی محفل دس بارہ منٹ ہوتی ہے۔ پھر مختصر دعا ہوتی ہے اور اشراق کا وقت ہوجاتا ہے۔ تمام ذاکرین اشراق کی نماز پڑھ کر اپنے اپنے گھر چلے جاتے ہیں. مغرب کی نماز کے بعد کچھ حضرات سورۂ واقعہ کی تلاوت کرتے ہیں اور عشاء کی نماز کے بعد سورۃ الملك کی تلاوت کرتے ہیں، اس کے لیے منبر کے پاس یہ سورتیں رکھ دی جاتی ہیں۔  

قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمارا یہ عمل درست ہے یا نہیں؟

وضاحت: سائل نے فون پر بتایا کہ ذکر میں وہ لوگ شریک ہوتے ہیں جو اشراق تک مسجد میں رکتے ہیں، ان میں امام صاحب کے مریدین بھی ہیں اور عام لوگ بھی۔

o

قرآن اور حدیث کی متعدد نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ ذکر میں اصل اخفاء یعنی آہستگی سے ذکر کرنا ہے۔ البتہ ذکر بالجہر یعنی اونچی آواز میں ذکر کرنا بھی چند شرائط کے ساتھ جائز ہے، مثلا: (1) ذکر بالجہر کو اصل اور بذاتِ خود مقصود نہ سمجھا جائے، بلکہ ایک علاج اور تدبیر سمجھا جائے۔ (2) اس کو لازم نہ سمجھا جائے اور اس میں شریک نہ ہونے والوں پر نکیر نہ کی جائے۔ (3) جہرِ مفرِط یعنی آواز بہت اونچی نہ ہو۔ (4) اس کی وجہ سے نمازیوں کی نماز یا تلاوت کرنے والوں کی تلاوت میں خلل واقع نہ ہو (5) ریاء وغیرہ کا اندیشہ نہ ہو۔  (باستفادۃٍ من معارف القرآن:3/579-576۔ 4/169-166)

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی اس ترتیب میں مندرجہ بالا شرائط موجود نہ ہوں یا کوئی اور شرعی

خرابی موجود ہو تو یہ ترتیب شرعا درست نہیں ہوگی۔ اور اگر یہ تمام شرائط موجود ہوں تو فی نفسہ اس کی گنجائش ہوگی، لیکن چونکہ مسجد میں یہ اندیشہ بہر حال رہتا ہے کہ انفرادی عبادت کرنے والوں کی عبادت مثلا نمازیوں کی نماز اور تلاوت کرنے والوں کی تلاوت میں خلل واقع ہو، یا عام لوگ اس کو لازم سمجھنے لگیں؛ اس لیے اگر کسی دوسری جگہ اس کا انتظام ہوسکے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ گنجائش پر عمل کرنے کی صورت میں وقتا فوقتا لوگوں کے سامنے اس کی حیثیت واضح کرتے رہنا چاہیے کہ یہ ترتیب بذاتِ خود لازم اور مقصود نہیں، بلکہ اس کی حیثیت علاج اور تدبیر کی ہے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:
                     {ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} [الأعراف: 55]
{وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ } [الأعراف: 205]
رد المحتار (1/ 660):
مطلب في رفع الصوت بالذكر:  قوله ( ورفع صوت بذكر الخ ) أقول اضطرب كلام صاحب البزازية في ذلك، فتارة قال: إنه حرام، وتارة قال: إنه جائز. وفي الفتاوى الخيرية من الكراهية والاستحسان: جاء في الحديث ما اقتضى طلب الجهر به نحو "وإن ذكرني في ملإ ذكرته في ملإ خير منهم" رواه الشيخان.  وهناك أحاديث اقتضت طلب الإسرار. والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال، كما جمع بذلك بين أحاديث الجهر والإخفاء بالقراءة.  ولا يعارض ذلك حديث "خير الذكر الخفي"؛ لأنه حيث خيف الرياء أو تأذى المصلين أو النيام، فإن خلا مما ذكر فقال بعض أهل العلم: إن الجهر أفضل؛ لأنه أكثر عملا، ولتعدي فائدته إلى السامعين، ويوقظ قلب الذاكر فيجمع همه إلى الفكر، ويصرف سمعه إليه، ويطرد النوم، ويزيد النشاط ا هـ ملخصًا. وتمام الكلام هناك فراجعه.  
وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفًا وخلفًا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها،  إلا أن يشوِّش جهرهم على نائم أو مصل أو قارىء الخ.  

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

24/صفر المظفر/1444ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔