021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
"اگر میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا تو ایک طلاق واقع ہو جائے گی” کہنے کا حکم
77860طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میں نے مؤرخہ یکم ستمبر 2022 کو اپنی اہلیہ سے بدمزگی کے دوران کچھ اس طرح کے الفاظ منہ سے نکالے:

"اب اگر میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا تو ایک طلاق واقع ہوجائے گی۔ دوسری دفعہ پر دوسری اور تیسری دفعہ پر تیسری طلاق۔ (ہاتھ اٹھانے سے میری نیت   کسی موقع پر خدانخواستہ مارپیٹ  کرنا تھا،  گو کہ  اس  مارپیٹ  کے دوران  خدانخواستہ ایک سے زائد مرتبہ ہاتھ اٹھانے کی نوبت ہی کیوں نہ آ جائے ۔)

ازراہ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ درج بالا جملے کا کیا حکم ہے؟ کیا ہاتھ اٹھانے سے طلاق ہوجائے گی؟

"ہاتھ اٹھانے"سے میری نیت "لڑائی جھگڑا  اور مارپٹائی" کرنا تھا ۔ ایک مرتبہ ہاتھ اٹھانے (یعنی لڑائی جھگڑا اور مارپٹائی کرنے)سے ایک  طلاق واقع ہوگی  ؟ یا خدانخواستہ (بفرض محال) ایک جھگڑے کے دوران متعدد مرتبہ ہاتھ اٹھنے سے متعدد طلاقیں واقع ہوجائیں گی؟اس جذباتی انداز پر مجھے شرمندگی ہے، نیز میں انسان ہوں  اور خدانخواستہ زندگی میں  کبھی جھگڑے کی نوبت بھی آسکتی ہے۔ درج بالا مشروط طلاق  بالخصوص  تین  طلاقیں واقع ہونے  سے بچنے کا کوئی شرعی حل ہو تو رہنمائی فرمائیں !

o

صورتِ مسئولہ میں آپ کے اپنی بیوی کو " اگر میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا تو ایک طلاق واقع ہوجائے گی، دوسری دفعہ پر دوسری اور تیسری دفعہ پر تیسری طلاق" تین طلاقیں آپ کے اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانے کے ساتھ معلق ہو گئیں اور ہاتھ اٹھانے سے آپ کی نیت چونکہ لڑائی جھگڑے کے دوران مارپیٹ کرنے کی تھی، لہذا ایک موقع پر مارپیٹ کرنے سے آپ کی بیوی پر ایک  طلاق واقع ہوجائے گی، اسی طرح دوسرے موقع اور تیسرے موقع پر مارنے سے دوسری اور تیسری طلاق کے وقوع کا حکم ثابت ہو جائے گا،  نیز قسم کا مدار عرف پر ہوتا ہے اور عرف میں ایک موقع پر متعدد بار مارنے سے ایک ہی مرتبہ مارنا شمار کیا جاتا ہے، اس لیے ایک موقع پر لڑائی جھگڑے کے دوران متعدد بار مارنے سے ایک ہی طلاق واقع ہو گی۔

جہاں تک ان معلق تین طلاقوں سے بچنے کا تعلق ہے تو مذکورہ صورت میں ان طلاقوں سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، لہذا اب آپ کے لیے یہی حکم ہے کہ آپ اپنی اہلیہ کو مارنے سے مکمل طور پر اجتناب کریں، نیز بیوی کو بلا وجہ مارنا اچھے انسان کی صفت نہیں ہے، اسی لیے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی گیارہ بیویوں میں کسی پر بھی ہاتھ اٹھانا ثابت نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ تم میں سے اچھے لوگ کبھی بیویوں کو نہیں ماریں گے۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (5/ 96) دار الفكر،بیروت:
الأصل أن الأيمان مبنية على العرف عندنا لا على الحقيقة اللغوية كما نقل عن الشافعي - رحمه الله -، ولا على الاستعمال القرآني كما عن مالك - رحمه الله -، ولا على النية مطلقا كما عن أحمد - رحمه الله -، لأن المتكلم إنما يتكلم بالكلام العرفي: أعني الألفاظ التي يراد بها معانيها التي وضعت لها في العرف، كما أن العربي حال كونه بين أهل اللغة إنما يتكلم بالحقائق اللغوية فوجب صرف ألفاظ المتكلم إلى ما عهد أنه المراد بها.
معرفة السنن والآثار  لأبي بكر البيهقي (10/ 291) دار الكتب العلمية، بيروت:
14555 - قال الشافعي في رواية أبي سعيد: يشبه أن يكون صلى الله عليه وسلم نهى عنه على اختيار النهي وأذن فيه بأن يكون مباحا لهم الضرب في الخوف، واختار لهم أن لا يضربوا لقوله: «لن يضرب خياركم» قال: ويحتمل أن يكون قبل نزول الآية بضربهن، ثم أذن بعد نزولها بضربهن، وفي قوله: «لن يضرب خياركم»، دلالة على أن ضربهن مباح لا فرض أن يضربن، ونختار له من ذلك ما اختار رسول الله صلى الله عليه وسلم.  

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

25/صفرالمظفر 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔