021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف مواقع پر والد کی دی گئی رقم میں بھائیوں کا حصہ
77955میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرا نام اویس ہے،سن 2008 میں میں کراچی شفٹ ہو گیا تھا ،میں اپنے بہنوئی کے ساتھ کام کرتا تھا۔ میرے والد اور والدہ میرے ساتھ رہتے تھے، اب والد کے انتقال کے بعد میری والدہ محترمہ میرے ساتھ رہتی ہیں.میرے والد محمد الیاس میمن کا انتقال تاریخ 19 اگست 2021 کو ہوا۔ ہماری والدہ حیات ہیں، ہم تین بھائی اور ایک بہن شادی شدہ ہیں. میں اور میری فیملی اور میرے والدین سن 2008 سے آج تک میرے ساتھ  رہتے ہیں۔ سن 2008 سے اب تک  میرے والدین کے زیادہ تر اخراجات مکان کا کرایہ وغیرہ وغیرہ زیادہ تر میرے ذمے تھے اور ہیں۔ اور جو میرے والد محترم سے ہو سکتا تھا وہ تعاون کرتے تھے۔ اس میں نہ کبھی میرے بھائیوں نے اور نہ میرے خاندان کے کسی افراد نے تعاون کیا اور نہ ہی میں نے کبھی تقاضا کیا۔

1: میں نےسن 2014 میں جمشید روڈ کراچی میں ایک عدد فلیٹ 30 لاکھ روپے میں خریدا، جس میں میرے والد نے۔295500= رقم بطور قرض دی تھی۔ میں نے وہ فلیٹ سن 2018 میں 58 لاکھ کا فروخت کر دیا اور مکمل رقم والد کے ذریعےخریدار سے 2020 تک مجھے موصول ہوئی۔ میرے والد نے مجھ سے اس فلیٹ کی مد میں خریداری سے لے کر فروخت تک اور اپنے انتقال تک بھی رقم کا مطالبہ اور تقاضا نہیں کیا۔ اس فلیٹ میں ،میں اور میرے والدین رہائش پذیر رہے۔

2: بعدازاں سن 2015 میں میرے والد نے سکھرمیں اپنی ذاتی دکان فروخت کی تھی اور اس رقم کو استعمال کرتے ہوئے والد نےاپنا ایک ذاتی فلیٹ سن2016 فاطمہ جناح کالونی میں خریدا اوراس فلیٹ کو رہائش کے قابل بنانے کے لئیے متفرق اخراجات میں زیادہ تراخراجات میں نے ادا کیے اور میں اور میرے والدین اس فلیٹ میں رہائش پذیر ہو گئے۔

3:سن 2016 میں اسی فلیٹ میں میری شادی ہوگئی۔ شادی کے مختصر اخراجات ميرے والد نے ادا کيے ،بقايا تمام اخراجات میں نے اپنے خود ادا کیے اور ہم ہنسی خوشی رہنےلگے۔گھر کے اخراجات میرے ذمہ تھے اور ہیں،لیکن والد سے جو ہوسکتا تھا وہ اپنی خوشی سے کرتے تھے۔

4: بعدازاں سن 2019 میں اپنی فیملی اور اپنے والدین کے ساتھ کراچی سے سکھر منتقل ہوگئے۔اپنے والدین کی

مشاورت اور رضامندی سےمیں نے  اپنے چاچا جاوید میمن کے ساتھ سکھر میں مشترکہ کاروبار کا آغاز کیا۔

سکھر کا کاروبار میں نے اپنی ذاتی رقم سے شروع کیا، ذاتی رقم کے ساتھ ساتھ میرے والد محترم نے سکھر کے میرے کاروبار میں تقریباً /1432389= کی رقم مجھے کاروبار میں تعاون کے لیے دی تھی جو کہ اب بھی میرے پاس ہے۔

5: سکھر کےمیرے کاروبار میں میرے والد محترم زیادہ تر وقت میرے ساتھ دیتے تھے۔

6: سکھر میں بھی گھر کے اخراجات میرے ذمے تھے۔ والد نے اپنا کراچی والا گھر کرایہ پردیا تھا اور سکھر والے گھر کا کرايہ ديتے تھے۔

7: تقریباً 2 سال سے زائد عرصہ میں نہ ہی والد محترم نے  کوئی رقم کا مطالبہ کیا اور نہ ہی اپنی رقم کےعوض نفع کا مطالبہ کیا نہ ہی تقاضا کیا۔ اور نہ ہی اس مد میں کوئی رقم وصول کی۔

8: والد محترم کسی بھی ضرورت کے تحت کاروبار سے جو بھی رقم لیتے تھے وہ واپس کر دیتے تھے۔ بو‍قت انتقال کاروبار سے کچھ مختصررقم والد کی طرف بقايا ہے۔

اب والد کے انتقال کے بعد میرے بھائی تقاضا کرتے ہیں۔

1:- جمشید روڈ والے فلیٹ میں جو رقم والد نے مجھے دی تھی وہ رقم نفع سمیت دینی ہوگی۔

2:- والد کی اپنی زندگی میں اپنی رضامندی سے جو رقم آپ نے کسی بھی مد میں استعمال کی یا جو انہوں نےآپ پر کسی بھی مد میں خرچ کی اس میں ہمارا بھی برابری کا حصہ ہے اور ہمیں آپ حساب لکھ کر دو ،آپ پروالد نے کتنا خرچ کیا اور اس سے آپ کو کتنا فائدہ حاصل ہوا؟

سوال 1: والد نے مجھے جو رقم جمشید روڈ والے فلیٹ کے لیے دی تھی وہ لوٹانا ہوگی؟

سوال 2: اگر جمشید روڈ والے فلیٹ کی رقم لوٹانا ہوگی تو اصل رقم دینی ہوگی یا نفع سمیت دینی ہوگی؟

سوال 3:والد کی زندگی میں  ان کی رضامندی سے استعمال ہونے والی رقم چاہے گھرمیں، میری شادی میں، یا میرے بچوں پرخرچ ہوئی وہ لوٹانی ہوگی؟

سوال 4:والد نے جو رقم سکھر کے کاروبار میں تعاون کی وہ لوٹانی ہوگی تو اصل رقم دینی ہوگی یا نفع سمیت دینی

ہوگی؟

سوال5:والد کے انتقال کے بعد میرے بھائی مجھ سے میرے کاروبار،جائداد،اور دیگر معاملات میں میرے شریک

ہوسکتے ہيں؟

سوال6: والد کے انتقال کے بعد اب جو کراچی والا گھر کا کرايہ آتا ہے اس کا کیا کرنا ہوگا؟

سوال7: سکھر کےمیرے کاروبار میں میرے والد محترم زیادہ تر وقت میرے ساتھ دیتے تھے ،میرے بھائی ان کی اجرت مانگتے ہیں جو ان کی زندگی میں طے نہ تھی کیا وہ دینی ہوگی؟

سوال8: بو قت انتقال کاروبار سے کچھ مختصررقم میرے والد کی طرف بقايا ہے اس کا کیا کرنا ہوگا؟

o

 

1۔والد نے یہ رقم دیتے وقت اگر قرض کی صراحت کی تھی یا دونوں کے درمیان شراکت کا معاہدہ ہوا ہوتو معاہدہ کے مطابق وہ رقم لوٹانا لازم ہے،جو ترکہ کا حصہ بن کر تمام ورثہ میں تقسیم ہوگی، البتہ اگر قرض یا شراکت وغیرہ کی کوئی صراحت نہیں تھی تو یہ تبرع اور احسان ہے،جس  کا لوٹانا لازم نہیں ہے۔

2۔اگر رقم قرض کے طور پر ہوتو نفع دینا درست نہیں ہے،نیزاگر کاروباری معاہدے کے بغیر،محض تبرع اور احسان کے طور پرہوتو بھی نفع دینا لازم نہیں ہے۔اگر باقاعدہ شراکت کے طور پر یہ رقم دی ہوتو پھر نفع کی صورت میں بھائیوں کو ان کی میراث کے حصے کے مطابق حصہ ادا کرنا لازم ہوگا۔

3۔ ایسے مواقع پر والد کی طرف سے اولاد کی مدد احسان اور تبرع کے طور پر کی جاتی ہے،اس لیے اس رقم کو لوٹانا لازم نہیں ہے۔

4۔سکھر کے کاروبار میں والد نے رقم دیتے وقت اگر قرض کی صراحت کی تھی یا دونوں کے درمیان شراکت کا معاہدہ ہوا ہوتو معاہدہ کے مطابق وہ رقم لوٹانا لازم ہے،جو ترکہ کا حصہ بن کر تمام ورثہ میں تقسیم ہوگی، البتہ اگر قرض یا شراکت وغیرہ کی کوئی صراحت نہیں تھی تو یہ تبرع اور احسان ہے،جس  کا لوٹانا لازم نہیں ہے۔

5۔جو جائیداد آپ نے اپنی رقم اورمحنت سے بنائی ہے،وہ آپ کی ذاتی ہے ،اس میں کوئی شریک نہیں ہے،جو جائیدادقرض سے بنائی ہے،اس میں بھی کوئی شریک نہیں،البتہ قرض کی رقم ترکہ میں شامل ہوگی،اور تمام ورثہ کو ترکہ میں سے اپنے حصوں کے مطابق رقم ملے گی۔جو جائیداد والد کی جانب سے کاروباری معاہدے(شرکت وغیرہ)کے ساتھ دی گئی رقم سے بنائی گئی ہے،اوریہ معاہدہ گواہوں سے،یا دستاویزات سے یا آپ کے اعتراف سے ثابت شدہ ہوتو اس کے اصل سرمایہ اور نفع میں بھائی شریک ہوں گے۔

6۔کراچی والا گھر والدکے ترکہ میں شامل ہے،اس لیے اس کا کرایہ میراث کا حصہ شمار ہوگا اور تمام ورثہ پر اپنے

حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔

7۔والد صاحب کی فراہم کردہ رقم کے بارے میں تو اوپر حکم گزر چکا ہے،ان کی محنت اور کاروبار میں باقاعدہ محنت کرنے اور شریک ہونے کے بارے میں اگر کوئی معاہدہ طے تھا تو اس کے مطابق اجرت دی جائے گی جو اب  میراث کا حصہ بن کرتمام ورثہ پر ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔اگر طے شدہ نہیں تھاتو پھر ان کی محنت کے حساب سے اجرت مثل دی جائے گی،یعنی اس جیسی محنت کرنے والوں کی محنت کی جو مزدوری عام طور پر دی جاتی ہے اس کے بقدر اجرت دی جائے گی۔

8۔اگرآپ کے پاس اس رقم کاشرعی ثبوت(گواہ)موجود ہے تو پھر میراث میں سے وہ رقم لے سکتے ہیں۔

حوالہ جات

تنقيح الفتاوى الحامدية((2/391  :
"المتبرع لايرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين  غيره بغير أمره".
وفي بدائع الصنائع(6/264):
وَأَمَّا بَيَانُ حُكْمِ الْمِلْكِ وَالْحَقِّ الثَّابِتِ فِي الْمَحِلِّ فَنَقُولُ وَبِاَللَّهِ التَّوْفِيقُ حُكْمُ الْمِلْكِ وِلَايَةُ التَّصَرُّفِ لِلْمَالِكِ فِي الْمَمْلُوكِ بِاخْتِيَارِهِ لَيْسَ لِأَحَدٍ وِلَايَةُ الْجَبْرِ عَلَيْهِ إلَّا لِضَرُورَةٍ وَلَا لِأَحَدٍ وِلَايَةُ الْمَنْعِ عَنْهُ وَإِنْ كَانَ يَتَضَرَّرُ بِهِ إلَّا إذَا تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الْغَيْرِ فَيُمْنَعُ عَنْ التَّصَرُّفِ مِنْ غَيْرِ رِضَا صَاحِبِ الْحَقِّ وَغَيْرُ الْمَالِكِ لَا يَكُونُ لَهُ التَّصَرُّفُ فِي مِلْكِهِ مِنْ غَيْرِ إذْنِهِ وَرِضَاهُ إلَّا لِضَرُورَةٍ وَكَذَلِكَ حُكْمُ الْحَقِّ الثَّابِتِ فِي الْمَحِلِّ عَرَفَ هَذَا فَنَقُولُ لِلْمَالِكِ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي مِلْكِهِ أَيَّ تَصَرُّفٍ شَاءَ سَوَاءٌ كَانَ تَصَرُّفًا يَتَعَدَّى
ضَرَرُهُ إلَى غَيْرِهِ أَوْ لَا يَتَعَدَّى.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 18):
"قال علمائنا :أب وابن ‌يكتسبان ‌في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

04/ربیع الاول1444ھ

n

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔