021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پتنگ بازی، پتنگ سازی، اور اس کی خرید وفروخت کا حکم
77976جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

پتنگ بازی کرنا، پتنگ بنانے والی فیکٹری وغیرہ میں کام کرنا اور پتنگ کی خرید و فروخت کا حکم کیا ہے؟

o

کھیلوں کے بارے میں اصولی حکم یہ ہے کہ جو کھیل کسی خلافِ شرع کام پر مشتمل نہ ہو، اس میں کوئی دینی، دنیوی، جسمانی یا ذہنی فائدہ ہو، اور اس میں اتنا انہماک نہ ہو جس کی وجہ سے دیگر فرائض اور ذمہ داریوں سے غفلت ہوجائے تو وہ کھیل فی نفسہ جائز ہوتا ہے، اور جو کھیل ایسا نہ ہو وہ جائز نہیں۔

پتنگ بازی ایسا کھیل ہے جس میں کوئی دینی یا دنیوی فائدہ نہیں، بلکہ اس میں بے شمار مفاسد اور خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ انسانی زندگی کے لیے مستقل خطرہ ہے، اس کی ڈور کے کاٹنے سے انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور لوگ شدید زخمی ہوجاتے ہیں، جس کی خبریں وقتا فوقتا میڈیا پر آتی رہتی ہیں؛ اسی وجہ سے حکومتیں وقتا فوقتا پتنگ بازی اور اس کی خرید و فروخت پر پابندی بھی لگاتی ہیں، پنجاب حکومت نے 2011 میں پتنگ بازی اور پتنگ سازی پر پابندی لگائی، اس کے علاوہ بھی مختلف اوقات میں  اس حوالے سے حکومتی سطح پر قانونی تجاویز اور انتظامی حکم نامے جاری کیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ بھی پتنگ بازی میں متعدد خرابیاں ہیں جن کی تفصیل حکیم الأمت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے "اصلاح الرسوم" ص:21 تا 23 میں بیان فرمائی ہے، ذیل میں وہ تفصیل انہی کے الفاظ میں درج کی جارہی ہے:-  

"اب کنکوے بازی (پتنگ بازی) کی نسبت بھی سن لیجیے۔ جس قدر خرابیاں کبوتر بازی میں ہیں، قریب قریب اس میں بھی موجود ہیں۔

  1. کنکوے کے پیچھے دوڑنا، جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے دوڑنے والے کو شیطان فرمایا ہے۔
  2. دوسرے کے  کنکوےکو لوٹ لینا،جس کی ممانعت حدیث شریف میں صراحتاً وارد ہے کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے: نہیں لوٹتا کوئی شخص ایسا لوٹنا جس کی طرف لوگ نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہوں اور پھر بھی وہ مومن رہے۔روایت کیا اس کو بخاری اور مسلم نے۔یعنی یہ خصلت ایمان کے خلاف ہے۔ اس حدیث کے خواہ کچھ ہی معنیٰ ہوں مگر ظاہراً تو پیغمبر صاحبﷺنے ایسے شخص کو خارج از ایمان فرمادیا۔اگر کوئی شخص کہے کہ اس لوٹنے میں تو مالک کی اجازت ہوتی ہے تو اس کے ساتھ وعید متعلق نہیں ہے ۔جواب اس کا یہ ہے کہ یہ بالکل غلط ہے،مالک کی ہرگز اجازت نہیں ہوتی ۔چونکہ عام رواج اس کا ہورہا ہے،اس لئے خاموش ہو جاتا ہے، دل سے ہرگز رضامند اور خوش نہیں ۔اگر اس کا بس چلے تو خود دوڑے اور کنکوا ہرگز بھی دوسرے کونہ لینے دے۔یہی وجہ ہے کہ جب کنکوا (پتنگ) کٹ جاتا ہے تو وہ بڑی کوشش سے جلدی جلدی ڈور کھینچتا ہے کہ جو ہاتھ لگ جائے غنیمت ہے۔
  3. ڈور کو لوٹ لینا، بلکہ اس میں ایک اعتبار سے کنکوے کے لوٹنے سے بھی زیادہ قباحت ہے؛ کیونکہ کنکوا تو ایک ہی کے ہاتھ آنا ہے، سو ایک ہی آدمی گناہ گار ہوتا ہے، اور ڈور تو بیسیوں کے ہاتھ لگتی ہے، بہت سے آدمی گناہ میں شریک ہوتے ہیں، اور باعث ان تمام آدمیوں کے گناہ گار ہونے کے وہی کنکوا اڑانے والے ہیں، تو حسبِ وعدہ مذکورہ بالا ان سب کے برابر اس اکیلے اڑانے والے کو گناہ ہوتا ہے۔
  4. ہر شخص کی نیت کہ دوسرے کے کنکوے کو کاٹ دوں اور اس کا نقصان کردوں، سو کسی مسلمان کو ضرر پہنچانا حرام ہے، اس حرام فعل کی نیت سے دونوں گناہ گار ہوں گے۔
  5. نماز سے غافل ہوجانا، جس کو اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے حرام ہونے کی علت فرمایا ہے، جیساکہ اوپر مذکور ہوا ہے۔
  6. اکثر کوٹھوں (گھروں) پر کھڑے ہو کر کنکوا اڑانے سے آس پاس والوں کی بے پردگی ہونا۔
  7. بعض اوقات کنکوا چڑھاتے چڑھاتے پیچھے کو ہٹتے جاتے ہیں اور کوٹھے سے نیچے آگرتے ہیں، چنانچہ اخبارات میں اس قسم کے واقعات شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اس میں صریح اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے جو کہ آیتِ قرآنی سے حرام ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ رسولِ مقبول ﷺ نے ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے جس پر آڑ نہ ہو، اس کی وجہ یہی احتمال ہے کہ شاید گر پڑے۔ سبحان اللہ ! ہمارے پیغمبر ﷺ ہم پر کس قدر شفیق ہیں کہ ایسے ایسے احتمالاتِ مضرت سے ہمیں روکیں اور ہم ان احکام کی ایسی بے قدری کریں۔
  8. ایک خرابی اس میں یہ ہے کہ کاغذ جو کہ آلاتِ علم میں سے ہے، اس کی اہانت ہوتی ہے، اور گذی آٹے سے بنتی ہے، اس کی اہانت ہوتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ رسولِ مقبول ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ روٹی کا اکرام کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہانت رزق کی ممنوع ہے۔ اسی طرح علم کے ادب کو کون نہیں جانتا کہ ضروری ہے۔ اس میں دونوں کی اہانت ہے۔
  9. ان سب کھیلوں میں مفت مال ضائع ہوتا ہے، اور فضول خرچی کا حرام ہونا اوپر قرآنِ مجید سے ثابت ہوچکا

ہے۔"

چونکہ عام طور سے پتنگ بازی میں یہ مفاسد اور خرابیاں موجود ہوتی ہیں؛ اس لیے ہمارے اکابر نے پتنگ بازی اور اس کا کاروبار کرنے سے منع فرمایا ہے، لأن العبرة للغالب الشائع لا للنادر۔ ملاحظہ فرمائیں:-  

  • بہشتی زیور، چھٹا حصہ:303
  • احکامِ اسلام عقل کی نظر میں:243
  • احسن الفتاویٰ: 8/176۔
  • جواہر الفقہ: 4/566
  • فتاویٰ محمودیہ:16/134
  • جدید فقہی مسائل، از مولانا خالد سیف اللہ رحمانی:1/236

اس تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ پتنگ بازی، پتنگ سازی، پتنگ ساز فیکٹری میں کام کرنا اور پتنگ کی خرید وفروخت درست نہیں، ان سب کاموں سے بچنا چاہیے، اور ان کے بجائے اپنے لیے کوئی اور مناسب روزگار تلاش کرنا چاہیے۔ جن علاقوں میں پتنگ اڑانے اور اس کی خرید وفروخت پر حکومت کی طرف سے پابندی ہو، وہاں یہ سارے کام اس وجہ سے بھی ناجائز ہوں گے؛ کیونکہ جائز امور اور عوام کی مصلحت اور فائدے پر مبنی حکومتی قوانین اور احکامات کی پابندی شرعا لازم ہوتی ہے، ان کی خلاف ورزی جائز نہیں ہوتی۔    

یہ تو مروجہ پتنگ بازی اور پتنگ سازی کے حکم کا بیان ہوا۔ لیکن اگر کوئی اس طرح پتنگ اڑائے جس میں نہ تو مذکورہ بالا خرابیاں ہوں اور حکومتی پابندی بھی نہ ہو تو اگرچہ بے فائدہ کام ہونے کی وجہ سے پھر بھی اس سے بچنا اولیٰ ہے، لیکن اس کو ناجائز نہیں کہا جائے گا۔ جامعہ دار العلوم کراچی کے فتویٰ نمبر: 114/15 میں بچوں کے لیے اس طرح پتنگ اڑانے کو عدمِ جواز سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، یہ فتویٰ مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے اور حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب اور مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہما کی تصدیق سے جاری ہوا ہے، اور "کھیل اور تفریح کی شرعی حدود" کے نام سے مستقل رسالے کی شکل میں بھی شائع ہوا ہے، اس کے صفحہ نمبر: 65-64 پر حکمِ شرعی کا خلاصہ اور نوٹ حسبِ ذیل درج ہے:-

"سابقہ وجوہات کی بناء پر فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ پتنگ بازی کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ یعنی موجود صورت میں پتنگ اڑانا، پتنگ لوٹنا، ڈور لوٹنا، پتنگ بیچنا سب ناجائز ہے، حتی کہ اس پیشہ سے تعلق رکھنے والے حضرات کو کوئی دوسرا جائز پیشہ اختیار کرنا ضروری ہے جس کی آمدنی شرعا حلال ہو۔ (تبویب الفتاوی جامعہ دار العلوم کراچی: 34د/1510۔ 34ب/807)

نوٹ:- یہ حکم رائج الوقت پتنگ بازی کا ہے جس میں مندرجہ بالا مفاسد یقینی طور پر پائے جاتے ہیں جس کا ہر آدمی مشاہدہ کرسکتا ہے، بلکہ یہ مفاسد روز بروز ترقی پر ہیں۔ لیکن اگر کوئی بچہ ہلکا پھلکا رنگین کاغذ دھاگے میں باندھ کر پتنگ کی طرح ہوا میں اڑالے جس میں مندرجہ بالا خرابیاں موجود نہ ہوں جو اوپر تحریر کی گئیں تو پھر اس کا وہ حکم ہوگا جو چھوٹے بچے کے لیے غبارہ اڑانے کا ہے کہ گو وہ مفید نہ سہی، مگر ناسمجھ بچوں کے لیے اس میں شرعا کوئی قباحت بھی نہیں ہے۔ واللہ اعلم"

حوالہ جات

سنن أبى داود (4/ 440):
حدثنا موسى بن إسماعيل حدثنا حماد عن محمد بن عمرو عن أبى سلمة عن أبى هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رأى رجلا يتبع حمامة فقال: " شيطان يتبع شيطانة".
أحکام القرآن للتهانوی (3/202-199):
فالضابطة فی هذا الباب – عند مشایخنا الحنفیة – المستفادة من أصولهم و أقوالهم المذکورة آنفا:  أن اللهو المجرد الذی لا طائل تحته و لیس له غرض صحیح مفید فی المعاش و لا المعاد حرام أو مکروه تحریما. و هذا أمر مجمع علیه فی الأمة، متفق علیه بین الأئمةو ما کان فیه غرض و مصلحة دینیة أو دنیویة، فإن ورد النهی عنه من الکتاب و السنة کان حراما أو مکروها تحریمیا، و ألغت تلك المصلحة و الغرض لمعارضتها النهی المأثورة حکما بأن ضرره أعظم من نفعه، و لیس من الضرورات أن یکون کل غرض و نفع یکتسبه الإنسان جائزا مباحا، کیف و الشیئ إذا غلب شره علی خیره و ضرره علی نفعه عد من المضرات عند العقلاء قطعا؟ و إلا فلا شیئ من السموم و المهلکات لا یکون فیه نفع ما و فائدة، و لکن لما غلب ضرره علی نفعه عدوه من المضرات، فکذلك لما ورد الشرع بالنهی عنه مع ما فیه من بعض الفوائد و المنافع، علمنا أن ضرره أعظم من نفعه، و الغیت تلك المنافع و المصالح فی جنب ما یتولد منه من المضار و المفاسد. ألا تری فیه قوله عز و جل: "فیهما إثم کبیر و منافع للناس و إثمهما أکبر من نفعهما"؟ فلم ینکر القرآن العزیز المنافع المودعة فیها، و لکن ورد علی أسلوب الحکیم حیث وضع المنافع و المضار فی میزان الحکمة و غلب غالبها.
و هذا أیضا متفق علیه بین الأئمة غیر أنه لم یثبت بعض النهی عند بعضهم فجوزه و رخص عنه، و ثبت عند غیره فحرمه و کرهه، و ذلك کالشطرنج؛ فإن النهی الوارد فیه متکلم فیه من جهة الروایة و النقل، فثبت عند الحنفیة و عامة الفقهاء فکرهوه، و لم یثبت عند ابن المسیب و ابن المغفل – و فی روایة عند الشافعی أیضا – فأباحوه.
و أما ما لم یرد فیه النهی عن الشارع، و (فیه) فائدة و مصلحة للناس فهو بالنظر الفقهی علی نوعین: الأول: ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه، و مفاسده أغلب علی منافعه، و أنه من اشتغل به ألهاه عن ذکر الله وحده (و) عن الصلوات و المساجد التحق ذلك بالمنهی عنه لاشتراك العلة، فکان حراما أو مکروها. و الثانی: ما لیس کذلك، فهو أیضا إن اشتغل به بنیة التلهی و التلاعب فهو مکروه، و إن اشتغل به لتحصیل تلك المنفعة و بنیة استجلاب المصلحة فهومباح، بل قد یرتقی إلی درجة الاستحباب أو أعظم منه.
خلاصة الکلام:
 و فذلکة الکلام أن اللهو علی أنواع:
 (1) لهو مجرد (2) و لهو فیه نفع و فائدة و لکن ورد الشرع بالنهی عنه (3) ولهو فیه فائدة و لم یرد فی الشرع نهی صریح عنه، و لکنه ثبت بالتجربة أنه یکون ضرره أعظم من نفعه ملتحق بالمنهی عنه (4) و لهو فیه فائدة و لم یرد الشرع بتحریمه، و لم یغلب علی نفعه ضرره، و لکن یشتغل فیه بقصد التلهی (5) و لهو فیه فائدة مقصودة، و لم یرد الشرع بتحریمه، و لیس فیه مفسدة دینیة، و اشتغل به علی غرض صحیح لتحصیل الفائدة المطلوبة لا بقصد التلهی.
فهذه خمسة أنواع، لا جائز فیها إلا الأخیر الخامس، فهو أیضا لیس من إباحة اللهو فی شیئ بل إباحة ما کان لهوا صورة، ثم خرج عن اللهویة بقصد صالح و غرض صحیح فلم یبق لهوا…….. و ما یلعب به الصبیان من الجواز و البوتام (بتن) و الکرات الزجاجیة (کولیان) و أمثالها فإنها تشتمل علی القمار، فالواجب علی أولیائهم أن یمنعوهم عنها. و کذلك ما یقال له فی عرفنا (کنکوا)، سواء اشتمل علی القمار أم لا، و کذا التحریش بین البهائم و الطیور و اللعب بالناریات (آتش بازی) و أمثالها؛ فإنها کلها لو لم یتضمن معاصی و منکرات لاتخلو عنها عادة، فهی فی نفسها من اللهو المجرد الذی وقع الإجماع علی تحریمه أو کراهته. وإلی الله المشتکی عما وقع فیه کثیر من المسلمین من الملاهی المحرمة حتی جعلوها دیدنهم و اتخذوا دینهم لهوا و لعبا.
تکملة فتح الملهم (4/435):
الألعاب التی یقصد بها ریاضة الأبدان أو الأذهان جائزة فی نفسها ما لم یشتمل علی معصیة أخری، و ما لم یؤد الانهماك فیها إلی الإخلال بواجب الإنسان فی دینه و دنیاه. والله سبحانه أعلم.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  4/ربیع الاول/1444ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔