021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کن رشتہ داروں سے پردہ کرنا ضروری ہے ؟
75803جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

ایک بندے کے کل کتنے رشتہ دار ہوتے ہیں، اور کن رشتہ داروں سے پردہ اور کن رشتہ داروں سے پردہ نہیں کرنا  ہے ؟

o

ایک شخص   کے کتنے رشتہ دار ہو سکتے ہیں ، اس کے متعلق شریعت میں کوئی تعداد متعین نہیں ہے، البتہ شریعت جن رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور اچھے برتاؤ کا حکم کرتی ہے انہیں  ذوالارحام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ذوی الارحام یا ذوی القربی میں وہ تمام رشتے دار داخل ہیں جن سے نسبی رشتہ ہو چاہے وہ رشتہ والد کی طرف سے ہو یا والدہ کی طرف سے اور چاہے وہ شتہ کتنا ہی دور کا ہو۔  والد کی طرف سے رشتہ داری ہو جیسے دادا دادی، پردادا، پر دادری، بھائی، بھتیجے، بھتیجی اور ان دونوں کی اولاد کا سلسلہ، بہن، بھانجا، بھانجی اور ان دونوں کا سلسلہ اولاد چچا اور ان کی اولاد در اولاد، پھوپھی اور ان کی اولاد آخر تک، والدہ کی طرف سے رشتہ داری ہو جیسے نانا، نانی پرنانا پرنانی، خالہ، ماموں اور ان دونوں کی پوری نسل وغیرہ اسی طرح بیوی کے رشتہ دار جیسے بیوی کے ماں باپ بھائی بہن اور ان کی اولاد در اولاد وغیرہ۔

ان درج بالا رشتہ داروں میں سے جن  سے پردہ کرنا  عورت پر لازم نہیں ان کی تعداد۱۶ کے قریب بنتی ہے، یعنی ان کے علاوہ تمام مردوں سے عورتوں کا پردہ کرنا لازم ہے۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

  باپ ، بھائی، چچا، ماموں، شوہر، سسر، بیٹا، پوتا، نواسہ، شوہر کا بیٹا، داماد،  بھتیجا، بھانجا، مسلمان عورتیں، کافر باندی اور ایسے افراد جن کو عورتوں کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ ( مثلاً:  چھوٹے بچے جن کو  ابھی یہ سمجھ نہیں کہ عورت کیا ہے، جسے مرد اور عورت میں فرق ہی نہ معلوم ہو)۔ جن مرد رشتہ داروں سے عورتوں کا پردہ کرنا لازم ہے انکی تفصیل درج ذیل ہے :

خالہ زاد، ماموں زاد، چچا زاد، پھوپھی زاد، دیور، جیٹھ، بہنوئی، نندوئی، خالو، پھوپھا، شوہر کا چچا، شوہر کا ماموں، شوہر کا خالو، شوہر کا پھوپھا،  شوہر کا بھتیجا اور شوہر کا بھانجا وغیرہ ۔ جہاں تک مرد کا تعلق ہے تو اس کیلئے اپنے درج ذیل رشتہ داروں سے پردہ کرنا ضروری ہے :

خالہ زاد بہنوں، پھوپھی زاد بہنوں اسی طرح ماموں زاد بہنوں اور چچا زاد بہنوں سے پردہ کرنا چاہیے اس لیے کہ یہ محرمات میں سے نہیں ہیں یعنی ان رشتہ دار عورتوں سے مرد کا نکاح کسی وقت بھی جائز ہے، بشرطیکہ پہلے سے وہ کسی کے نکاح و عدت میں نہ ہو، اسی طرح جن عورتوں سے نکاح کی حرمت وقتی ہے ان سے بھی پردہ ہے جیسے چچی جب تک چچا کے نکاح یا عدت میں ہو اس سے نکاح ناجائز ہے اسی طرح ماموں کی بیوی جب تک وہ ماموں کے نکاح و عدت میں ہو یا بھائی کی بیوی جب تک بھائی کے نکاح و عدت میں ہو اس سے نکاح ناجائز ہے اور پردہ لازم ہے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم، [النور: 30-31]:
﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (٣٠) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴾
[النساء: 23]:
 ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

27، جمادی الثانی 1443 ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔