021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھولنا اوراس پرملنےوالے فری منٹس کا حکم
77397سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ضرورت کےلیے ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھولنے کا کیاحکم ہے؟  اورایزی پیسہ اکاؤنٹ میں جب ہم پیسے رکھتے ہیں تو کمپنی والے ہمیں فری منٹس دیتے ہیں تو کیا ان کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔

o

      ایزی  پیسہ کی سروسز فراہم کرنے والے حضرات کی طرف سے  دی گئی معلومات کے مطابق ایزی  پیسہ کی سہولت فراہم کرنا اور  کسٹمرز کے لیے  سہولت لینا  جائز ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ  ایزی پیسہ  کی سروس میں شرعی نقطۂ نظر سے  دو معاملے ہوتے ہیں ۔ ایک حوالہ ( مذکورہ صورت میں ایک جگہ رقم  بطور قرض دے کر دوسری جگہ وصول کرنا) کا معاملہ جو  تین اشخاص  یعنی کسٹمر (محیل)، دوکاندار (محتال علیہ) اور رقم وصول کرنےوالے  شخص (محتال لہ)کی رضامندی سے منعقد ہوتا  ہے ۔اور دی گئی  رقم  کی شرعی حیثیت قرض کی ہے،کیونکہ وہی  رقم بعینہ  مطلوبہ شہر میں نہیں پہنچائی جاتی ،   بلکہ اس  کی بجائے دوسری  رقم دی   جاتی ہے، نیز رقم نہ وصول ہونے  کی صورت میں ایزی پیسہ  کی سہولت فراہم کرنے والا  شخص یا  ادارہ  ضامن بھی   ہوتا ہے۔ البتہ  اس طرح قرض دے کر دوسری جگہ وصول کرنے کو فقہائے کرام رحمہم اللہ کی اصطلاح میں سفتجہ کہتے ہیں  جو کہ مکروہ ہے کیونکہ اس میں  مقرض  قرض دے کر راستے کے خطرات سے بچنے کی منفعت حاصل کرتا ہے اور قرض پر نفع حاصل کرنا جائز نہیں ، لیکن درج ذیل وجوہ کی بناء پر  ایزی پیسہ کے معاملے کو مکروہ نہیں کہا جا سکتا:

١۔ ایزی پیسہ  میں اصل مقصود ایک جگہ  رقم جمع کروا کر دوسری جگہ وصول کرنا ہوتاہے نہ کہ راستے کے خطرات سے بچنا۔ اگرچہ ضمن میں راستے کے خطرات سے حفاظت بھی ہو جاتی ہے۔  اور قرض کے معاملے میں اس طرح ضمنا  کوئی سہولت حاصل ہو  جائے تو وہ ناجائز نہیں ۔

۲۔قرض پر منفعت لینا  اس وقت ناجائز  ہے جب قرض دیتے وقت نفع کی شرط لگائی گئی ہو ۔ اگر  عقد میں   منفعت  کی شرط نہ ہو تو وہ حرام نہیں ، جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں امام کرخی رحمہ اللہ سے منقول ہے  کہ اگر کسی نے اس نیت سے قرض دیا کہ مستقرض  عمدہ دراہم  واپس لوٹائے لیکن قرض دیتے وقت یہ شرط نہیں لگائی  گئی  تھی  اور  مستقرض نے عمدہ دراہم دے دیے تو اس میں کچھ حرج نہیں ۔

دوسرا ِ  معاملہ اجارہ کا  ہے جو رسید کاٹنے ،  شناختی کارڈ نمبردرج کرنے ، میسج  لکھنے ، کمپنی کو سینڈ کرنے اور ا سکے علاوہ دیگر خدمات سر انجام دینے کے لیے منعقد ہوتاہے ۔ لہذا دوکاندار گاہک سے جو  اضافی رقم وصول کرتا  ہے  وہ  حقیقت میں  قرض پر نفع نہیں ، بلکہ  مذکورہ خدمات سر انجام دینے کے  عوض حق الخدمت ہے۔

جہاں تک اس  سوال  کا تعلق ہے کہ مذکورہ  معاملہ میں دو عقدوں کو ایک ساتھ  جمع کرنا لازم آتا ہے جو کہ شریعت  کی رو سے درست نہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ  ایزی پیسہ میں مقصود تو ایک ہی عقد ہوتا ہے اور وہ حوالہ  کا عقد ہے۔ جہاں تک  اجارہ کے معاملہ کا تعلق   ہے   تو وہ ضمنا ً اور تبعا ً   واقع ہوتا ہے۔ اورضرورت  اور ابتلائے عام کے وقت  اس طرح دو عقدوں کے جمع ہونے کی گنجائش ہے۔ جیسا کہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدّس اللہ سرّہ نے امداد الفتاوی(ج:3ص:146) میں  منی آرڈرسے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :

"منی آرڈر مرکب ہے دو معاملوں  سے، ایک قرض  جو اصلی رقم سے متعلق ہے، دوسرے اجارہ جو رقم لکھنے اور روانہ کرنے پر بنام فیس دی جاتی ہے، دونوں معاملے جائز ہیں ، پس  ان کا مجموعہ بھی جائز ہے اور چونکہ اس میں ابتلائے عام ہے ، اس لیے یہ تاویل کر کرے جواز کا فتوی مناسب ہے"۔

خلاصہ یہ کہ ایزی پیسہ کی سروسز فراہم کرنا اور وصول کرنا  جائز ہے۔البتہ موبائل اکاؤنٹ میں رکھی ہوئی رقم چونکہ قرض ہوتی ہےاور قرض پر ملنے والا مشروط نفع سود اور ربا ہوتا ہے لہذا مذکورہ صورت میں کمپنی کی طرف سے ملنے والے فری منٹس چونکہ مشروط نفع کے حکم میں ہے، اس لیے یہ سود ہے۔ ان فری منٹس کا استعمال جائز نہیں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية - (ج 22/ ص394)
إن أبا حنيفة رحمه الله تعالى كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به۔
الفتاوى الهندية - (ج 24 / ص 43، کتاب الکفالۃ، مسائل شتی)
كره السفاتج وهو قرض استفاد به المقرض سقوط خطر الطريق وقد { نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قرض جر نفعا } وصورته دفع إلى تاجر عشرة ليدفعها إلى صديقه ، وإنما يدفع على سبيل القرض لا على سبيل الأمانة ليستفيد به سقوط خطر الطريق فإن لم تكن المنفعة مشروطة ولا كان فيه عرف ظاهر فلا بأس به كذا في الكافي في كتاب الحوالة .
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (ج 17 / ص 423، فصل فی شرائط رکن القرض)
مسألة السفاتج ، التي يتعامل بها التجار ، أنها مكروهة ؛ لأن التاجر ينتفع بها بإسقاط خطر الطريق ؛ فتشبه قرضا جر نفعا فإن قيل : أليس أنه روي عن عبد الله بن عباس - رضي الله عنهما - أنه كان يستقرض بالمدينة على أن يرد بالكوفة ، وهذا انتفاع بالقرض بإسقاط خطر الطريق ؟ فالجواب : أن ذلك محمول على أن السفتجة لم تكن مشروطة في القرض مطلقا ، ثم تكون السفتجة ، وذلك مما لا بأس به على ما بينا ، والله تعالى أعلم
تکملۃ عمدۃ الرعایۃ(ج:3ص119، بحوالہ احسن الفتاوی: ج:7ص:107)
ویجب ان  یعلم ان التی فی زماننا المسامۃ فی لساننا (بھندی منی آرڈر) لیس من  ھذا ولا لہ  حکم السفاتج کانت لسقوط خطر الطریق وذا للوصول۔ فان قلت علۃ الکراھۃ وھی النفع سواء کان لسقوط الخطر  او للوصول ولکن الخطر مما لایجوز الکفالۃ بہ ولااجر علیہ لانہ لیس فی وسع الانسان الا دفع اللصوص والحفظ بفضل اللہ تعالیٰ واما الایصال تحل الاجرۃ علیہ ویمکن العھدۃ  علیھ فلایلزم من النھی عن نفع سقوط الخطر کراھۃ اجرۃ الایصال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وانت تعلم ان الحوالۃ قد تکون بمعنی الوکالۃ  وقد تکون ان یحتال للدائن وقد یحتال لغیر الدائن وکذالک المحتال علیہ قد یکون مدیونا للمحیل وقد لایکون۔ وقد یعطی المال من عندہ ثم یأخذ  من المحیل و یأخذ  من المحیل  ثم یودی الی المحتال لھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاذا دفع المحیل مالا الی المحتال علیہ وقال ادفعھ الی فلان فی البلد الفلانی ولک اجرۃ فی ایصالھ وحسابھ فای محذور یلزم لیحکم بالمنع ولاروایۃ ان الوکیل او المحتال علیہ حرام علیہ الاجرۃ والاخذ من الموکل والمحیل ان عمل فیھ عملا فلا باس بھ ان شاء اللہ تعالٰی۔    
مسند أحمد ط الرسالة (6 / 324):
عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود،، عن أبيه، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين في صفقة واحدة "
احسن الفتاوی(ج:7ص:107)
بندہ کے خیال میں  اسقاط ِخطر ِطریق  مقصود نہ ہو ، بلکہ صرف  دوسرے مقام تک ایصال مقصود ہو تو یہ سفتجہ مکروہ میں داخل نہیں ، اگرچہ یہ سقوط خطرِ طریق کو مستلزم ہے، مگر مقصود اور لازم میں فرق ہے، چانچہ مقامی قرض میں بھی حفظ ِ مال کا نفع لازم ہے۔،مع ہذا اس کو کل قرض جرنفعا میں داخل کر کے حرام نہیں  قرار  دیاجاتا۔
احسن الفتاوی(ج:7ص:107)
  "اس میں  بھی کوئی محظور نظر نہیں آتا کہ فیس منی آرڈر کوقرض دوسرے مقام تک پہنچانے کی اجرت قرار دیا جائے "
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6 / 83):«نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن قرض جر نفعا»
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5 / 166):(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

30/12/1443ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔