021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسٹامپ پیپر پر تین طلاق لکھنے سے تین واقع ہو جاتی ہیں(قانونی طور پر ناقابل استعمال اور نکاح سے پہلے کی تاریخ پر مشتمل طلاقنامہ کاحکم)
78010طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میرا اور میری بیوی کی آپس میں کئی دفعہ لڑائیاں ہوئیں تھیں، گھریلو ناچاقی کی بناء پر  اور یہاں تک کہ نان و نفقہ سے متعلق معاملہ ایک مرتبہ کورٹ میں بھی لے جایا گیا،  دوسری بار عدالتی معاملات سے بچنے کی خاطر میں نے ایک  وکیل کے مشورے سے "ایک  جھوٹی تحریر لکھی، جس میں  یہ لکھا کہ میں مسمی محمد رمیض ولد محمد وسیم اپنی زوجہ مسماۃ فائقہ بنت  گلستان خان کو طلاق دیتا ہوں"۔ یہ تحریر ایک ایسے اسٹامپ پیپر پر لکھوائی، جس پر قانوناً نہ طلاق ہوتی ہے اور نہ کوئی وصیت کی جاتی ہے اس پر واضح لکھا ہوتا ہے :

NOT FOR FREE WILL & DIVORCE PURPOSE اور   یہ ارادتاً لکھوايا تھا، تاکہ وقت آنے پر اپنی وضاحت دے سکوں اور اس تحریر میں جان بوجھ کر نکاح سے پہلے کی تاریخ لکھوائی تھی، میرا مقصد صرف   رشتہ کی اہمیت کا احساس دلانا تھا، اس پیپر پر میں نے مذکورہ جملہ لکھ کر/دستخط کرکے  بھیج دیا بیوی کو کچھ عرصہ کے بعد پھر میں نے یہ الفاظ دو مرتبہ فون پر بولے "میں تمہارے خلع مانگنے پر تمہیں طلاق دیتا ہوں"

واضح رہے کہ اسٹامپ پیپر مذکورہ الفاظ میں نے اپنی بیوی کو صرف اس کی غلطی کا احساس دلانے کے لئے لکھ کر بھیجے تھے اور یہ جھوٹی تحریر ایسے  اسٹام  پیپر پر تحریر کروائی جس پر یہ واضح لکھا ہوتا ہے NOT FOR FREE WILL & DIVORCE PURPOSE، اور اس پر ارادتاً میں نے نکاح سے پہلے کی تاریخ 18-05-2020 درج کروائی تھی۔طلاق نامہ اور نکاح نامے کی کاپی منسلک ہے۔

 اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوگئی ہیں یہ تحریر بناتے وقت میں نے وکیل اور والدین سے یہی کہا تھا کہ میں قانونی کورٹ کے معاملات سے بچنے کے لئیے یہ تحریر کر رہا ہوں اور لڑکی کو اس کی غلطی کا احساس دلانے کے لئے یہ سب کر رہا ہوں اس کے بعد میں نے فون پر دو بار  یہ الفاظ کہے کہ میں تمہارے خلع مانگنے پر طلاق دیتا ہوں اور اس کے دو ماہ میں پھر جب میرا فون پر رابطہ ہوا تو لڑکی نے اپنے ہر عمل پر معذرت کی شرمندہ ہوئی اورپھر میں نے یہ الفاظ کافی دفعہ بولے کہ میں آپ سے رجوع کرتا ہوں اور تم سے راضی ہوں اورمیں تمہیں  قبول کرتا ہوں۔

o

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ آپ نے اسٹامپ پیپر لکھنے سے پہلے اپنے والدین اور وکیل کو بتا دیا تھا کہ میں طلاق نہیں دینا چاہتا اور پھر اسٹامپ پیپر پر تاریخ بھی نکاح سے پہلے کی لکھی اور اسٹامپ پیپر بھی وہ استعمال کیا جو قانونی طور پر طلاق اور وصیت کے لیے قابل استعمال نہیں، اس لیے مذکورہ اسٹامپ پیپر پر طلاق کے الفاظ لکھنے سے آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

البتہ اسٹامپ پیپر بھیجنے کے بعد آپ کے اپنی بیوی کو فون پر سوال میں ذکر کیے گئے الفاظ"میں تمہارے خلع مانگنے پر تمہیں طلاق دیتا ہوں" دو مرتبہ کہنے سے اس پر دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، جن کا حکم یہ ہے کہ آپ عدت (تین ماہواری)کے دوران رجوع کر سکتے ہیں اور عدت گزرنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، البتہ یہ بات یاد رہے کہ آئندہ آپ کو صرف ایک طلاق کا حق باقی ہے، لہذا آئندہ کے لیے طلاق کے معاملے میں سخت احتیاط کی ضرورت ہو گی، کیونکہ اگر خدانخواستہ مستقبل میں ایک طلاق بھی دے دی تو عورت پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو جائے گی اور پھر شرعاً بغیر حلالہ کے رجوع یا دوبارہ نکاح بھی جائز نہیں ہو گا۔

حوالہ جات

الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (3/ 293) دار الفكر-بيروت:
قال: أنت طالق أو أنت حر وعنى الإخبار كذبا وقع قضاء، إلا إذا أشهد على ذلك؛ وكذا المظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا صدق قضاء وديانة.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 271) دار الكتاب الإسلامي:
ومنه الألفاظ المصحفة وهي خمسة: تلاق وتلاغ وطلاغ وطلاك وتلاك فيقع قضاء ولا يصدق إلا إذا أشهد على ذلك قبل التكلم بأن قال امرأتي تطلب مني الطلاق وأنا لا أطلق فأقول: هذا ولا فرق بين العالم، والجاهل وعليه الفتوى.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراتشی

26/ربيع الاول 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے