021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
معاہدہ کی بنیاد پر نقصان کا ضمان لینے کا حکم
78015خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ایک شخص نے دوسرے شخص سے لینٹر ڈالنے کے لیے سیمنٹ کا آرڈر کیا، دوسرے دن مشینری اور مزدور وغیرہ پہنچ گئے، مگر سیمنٹ نہ پہنچا، جس کی وجہ سے آرڈر دینے والے کو مشینری کا کرایہ اور مزدوروں کی تنخواہ دینے کے سلسلہ میں نقصان پہنچا، کیا یہ شخص سیمنٹ بیچنے والے کو شرعاً اس نقصان کا ضامن ٹھہرا سکتا ہے؟

اسی طرح ایک شخص نے دوسرے شخص کے ساتھ فیڈ میٹیریل کا سودا کیا اور کہا کہ میں فلاں دن  تک پہنچاؤں گا، اور ساتھ ہی اس نے خریدار کو اس بات کا پابند بنا دیا کہ کسی اور شخص سے مال نہ خریدے، پھر اس نے مقررہ دن کو میٹیرل نہ پہنچایا، جس کی وجہ سے مرغی بھوکی ہو جاتی ہے اور کچھ مرغیاں مرجاتی ہیں، کیونکہ دوسری جگہ خریدنے سے تین چار دن لگ جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا فیڈ بیچنے والے کو اس نقصان کا ضامن ٹھہرایا جا سکتا ہے؟

o

اگر دو فریق آپس میں کسی چیز کا وعدہ کریں تو اصولی طور پر اس وعدے کو دیانتاً پورا کرنا واجب ہوتا ہے، لیکن اگر کہیں وعدہ کے ساتھ دوسرے شخص کا اس طرح مالی حق متعلق ہوکہ وعدہ پورا نہ کرنے کی صورت میں دوسرے فریق کا مالی نقصان ہوتاہو تو ایسی صورت میں وعدہ  پورا کرناقضاءً بھی واجب اور لازم ہوتا ہے اور وعدہ خلافی کی بناء پر دوسرے فریق کو جو نقصان ہوا ہو، وعدہ خلافی کرنے والا فریق شرعاً اس نقصان کا ضامن ہوتا ہے، چنانچہ مجلة الاحکام العدلیہ(ص: 26) میں ہے:

"المواعيد باكتساب صور التعاليق تكون لازمة"

یعنی وعدے تعلیقات کی صورت میں لازم ہوتے ہیں۔

لہذا سوال میں مذکور دونوں صورتوں میں وعدہ خلافی کرنے والے فریق کو حقیقی نقصان کا ضامن ٹھہرانا درست ہے۔

 حقیقی نقصان کی تفصیل یہ ہے کہ پہلی صورت میں سیمنٹ نہ پہنچانے کی وجہ سے مزدوروں کی اس دن کی اجرت اور مشین کا کرایہ اس سےلیا جا سکتا ہے اور دوسری صورت میں وقت پر خوراک(Feed Material) نہ پہنچانے کی وجہ سے جتنی مرغیاں  بھوک کی وجہ سے مرگئی ہوں یا  انتہائی کمزور ہونے کی وجہ سےقیمت میں کافی زیادہ کمی واقع ہوئی ہو تو اس کی تلافی وعدہ خلافی کرنے والے شخص سے کروائی جا سکتی ہے۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 26) (ص: 26،     المادة 84) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، كراتشي:
(المادة 84) المواعيد باكتساب صور التعاليق تكون لازمة، مثلا لوقال رجل لآخر: بع هذا الشيئ لفلان وإن لم يعطك ثمنه فأنا أعطيه لك فلم يعط المشتري الثمن لزم على الرجل أداء الثمن المذكوربناء على الوعد المعلق.
تبيين الحقائق مع حاشية الشلبي (5/ 184) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
إن ذكر البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على الوجه المعتاد جاز البيع ويلزمه الوفاء بالميعاد؛ لأن المواعيد قد تكون لازمة قال - عليه الصلاة والسلام - «العدة دين» فيجعل هذا الميعاد لازما لحاجة الناس إليه.  
المعايير الشرعية (ص:1190):
4/3: الوعد بفعل أو تصرف مالي مباح شرعا يجب الوفاء به ديانة، بمعنى أن إخلافه بدون عذر إثم، ولكنه غيرملزم في القضاء، فإن ترتب على عدم الوفاء بالوعد ضرر على الموعود له فيلزم الواعد التعويض عن الضرر قضاء مثل: أن يقول الواعد لتاجر: اشتر هذه البضاعه لنفسك وإني أعدك بأني سوف إشتريها منك، فاشتراها التاجر اعتمادا على ذلك الوعد، فلم يف الواعد، فحينئذ يلزم قضاء مايجبر ما لحق التاجر الموعود له من ضرر فعلي، بمعنى أنه إن لم يستطع التاجر أن يبيعه في السوق بما يغطي  تكلفته، فالواعد بالشراء يتحمل الفرق بين التكلفة والثمن الذي باعه به. وليس من الضرر الفعلى الفرصة الضائعة.
المعايير الشرعية (ص:1191):
2/4: المواعيد بفعل مباح غير واجب شرعا يجب إيفاءها على الطرفين ديانة، وهي غير لازمة في القضاء إلا في الحالات التي لا يمكن فيها إنجاز معاملة تجارية بدون معاملة ملزمة، إما بحكم القانون أو بحكم الأعراف التجارية العامة، وليس لأغراض التمويل فقط، مثل:
1/2/4: المواعيد في التجارات الدولية عن طريق الاعتمال المستندي.
2/2/4:  المواعيد في اتفاقيات التوريد.
3/4: في الحالات المذكورة في البند التي تكون فيها المواعة ملزمة للطرفين، فإن المواعدة ليست عقدا مضافا إلى المستقبل، ولذا فإن العقد الموعود لا يتم تلقائيا عند حلول الموعد، بل يجب أن ينجز في حينه بتبادل الإيجاب والقبول. وبما أن المواعدة ملزمة للطرفين، فأي الطرفين قام بالإيجاب، وجب على الطرف الاخر قبوله ديانة وقضاء. فإن لم يفعل يلزمه قضاء تحمل الضرر الفعلي، وهو الفرق بين السعر المتواعد عليه وبين ما أنجز به العقد مع ثالث (دون فرصة ضائعة)  

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

25/ربيع الاول 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے