021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مویشی منڈی میں ٹیکس ادا نہ کرنے کاحکم
78091جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

محترم  مفتی صاحب  میرا سوال  یہ ہے  کہ  ایک  بندہ  منڈی  میں جاکر    قربانی  کےجانور  کا سودا  کرتا ہے ،پھر  مالک  سے  کہتا  ہے  اس  جانور  کو   کسی طرح  چھپکے سے منڈی سے  باہر نکالدیں  تاکہ  منڈی  کا ٹیکس  ادا کرنے سے  بچ جاؤں ، پھر مالک    جانور   کومنڈی   سے باہر   نکا ل کر    خریدار  کے  حوالے  کردیتا  ہے ، اس طرح   ٹیکس  کی ادائیگی سے  بچت ہوجا تی  ہے ۔

اب  سوال یہ ہے کہ  ایسے   جانور  کی قربانی  کرنے کی صورت  میں  قربانی  پر  کوئی اثر پڑے  گا  ؟یا قربانی  بلاکراہت  جائز  ہوجائے گی ؟

o

حکومت کا  عوام پرکسی بھی شعبے میں  ظالمانہ ٹیکس لگانا   جائز نہیں ہے،تاہم اگر حکومت  بوقت  ضرورت  بقدر ضرورت انصاف کے ساتھ عوام کی طاقت کے مطابق ٹیکس لگائے تو عوام پر  اس کی ادائیگی لازم ہوجاتی ہے۔

لہذا  صورت  مسئولہ میں حکومت  اگر مویشی منڈی  کو سڑک ،پانی،  بجلی، سیکورٹی  وغیرہ کی سہولت  فراہم کرتی ہے ، اور اس کے  عوض میں منڈی  میں مال لاکر فروخت کرنے والوں سے  مناسب  مقدار میں ٹیکس  وصول  کرے  تو  ٹیکس ادا کرنا لازم  ہے ۔ اس طرح حیلہ کرکے  خود کو  ٹیکس  سے بچانا گناہ  ہے،لہذا جس نے منڈی  میں لاکر جانورفروخت کیا اور چوری  چھپکے باہر نکل گیا اور ٹیکس ادا نہیں کیا  تو  اس  نے  گناہ کا کام کیا اس پر توبہ استغفار کے ساتھ کسی ذریعہ سے ٹیکس ادا کردینا بھی لازم ہے ۔ لیکن حکومت کا جانور کے مالکان سے منڈی  میں مال  فروخت کرنے پر پوری ٹیکس  وصول کرنے کے باوجود  خریداروں سے  فی جانور  الگ  سے  ٹیکس  وصول  کرنا  یہ  ظلم  کے دائرہ میں  داخل  ۔لہذا خریدار اگر  بھاؤ تھاؤ  منڈی  میں کرے  اور منڈی سےباہر  آکر  سودا طے  کرے  اوراس حیلے کے ذریعہ  ٹیکس  کے اضافی  بوجھ سے  بچ جائے  تو اس  میں  کوئی  گناہ  نہیں  ہوگا۔لیکن اگراس حیلے کے ذریعہ  بائع  اور مشتری دونوٰ ں ہی ٹیکس ادا نہ کرے  تو  دونوں  گناہ گار ہونگے ۔

باقی ٹیکس  کی عدم  ادائیگی  اگرچہ صحت  قربانی سے  مانع  نہیں ہے ،لیکن  قربانی  جیسے نیک کام کرنے والے کو ٹیکس  چوری جیسا غلط کام نہیں کرنا چاہئےنہ غلط کام کرنے والوں  کا ساتھ دینا  چاہئے  ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 336)
دفع النائبة والظلم عن نفسه أولى إلا إذا تحمل حصته باقيهم وتصح الكفالة بها ويؤجر من قام بتوزيعها بالعدل وإن كان الأخذ باطلا وهذا يعرف ولا يعرف كفا لمادة الظلم
 (قوله: وهذا يعرف إلخ) المشار إليه غير مذكور في كلامه وأصله في القنية حيث قال وقال أبو جعفر البلخي ما يضر به السلطان على الرعية مصلحة لهم يصير دينا واجبا وحقا مستحقا كالخراج، وقال مشايخنا وكل ما يضربه الإمام عليهم لمصلحة لهم فالجواب هكذا حتى أجرة الحراسين لحفظ الطريق واللصوص ونصب الدروب وأبواب السكك وهذا يعرف ولا يعرف خوف الفتنة ثم قال: فعلى هذا ما يؤخذ في خوارزم من العامة لإصلاح مسناة الجيحون أو الربض ونحوه من مصالح العامة دين واجب لا يجوز الامتناع عنه، وليس بظلم ولكن يعلم هذا الجواب للعمل به وكف اللسان عن السلطان وسعاته فيه لا للتشهير حتى لا يتجاسروا في الزيادة على القدر المستحق اهـ.
قلت: وينبغي تقييد ذلك بما إذا لم يوجد في بيت المال ما يكفي لذلك لما سيأتي في الجهاد من أنه يكره الجعل إن وجد فيء۔       

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

۲ ربیع  الثانی ١۴۴۴ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے