021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثت کے سونے کے سیٹ گم ہونے پر ورثاء کا اختلاف
78051میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری والدہ کے پاس سونے کے سیٹ تھے، جو تقریباً چالیس تولے کے ہوں گے، نیز میرے والدین نے دوسرے حج کے موقع پر سونے کی چوڑیوں کا ایک سیٹ خریدا، جو تقریباً چھ تولے کا تھا، اس کی رقم میں نے یہاں آکر ادا کی، یہ میری طرف سے والدین کے لیے حج کا تحفہ تھا۔ اس کے علاوہ میری شادی کے موقع پر میرے سسرال اور خالاؤں نے مجھے کچا سونا دیا جو تقریباً چار تولے تھا، وہ والدہ نے مجھے نہیں دیا، اب علم نہیں کہ یہ سارا سونا کہاں گیا؟ بہنوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ سونا والدہ نے زندگی میں ختم کر دیا تھا، جبکہ میری والدہ اٹھارہ سال سے بیمار تھیں، پانچ چھ سال سے دماغی طور پر بھی ایکٹو نہیں تھیں، والدہ نے مجھ سے سونے کے خرچ کرنے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی، بہر حال کیا والدہ کے اس تمام سونے میں میرا حصہ نہیں تھا؟

o

اصول طور پر آپ کی والدہ مرحومہ نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ آپ کی والدہ مرحومہ نے بوقت ِانتقال مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحومہ کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الادء ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن ودفن کے متوسط اخراجات نکالنے، واجب الاداء قرض ادا کرنے اور جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ بچے اس میں سب ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہیں۔

جہاں تک سونے کا تعلق ہے تو جو سونا آپ کی شادی کے موقع پر آپ کے سسرال اور خالات نے آپ کو دیا تھا تو وہ آپ کی ملکیت تھا اور والدہ کے ذمہ لازم تھا کہ زندگی میں وہ سونا آپ کے سپرد کرتیں، لیکن زندگی میں جب انہوں نے سونا آپ کو نہیں دیا تو اب ان کی وفات کے بعد آپ ان کے ترکہ سے وہ سونا وصول کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ آپ کی طرف سے والدہ کو بطورِ تحفہ دیے گئے سونے سمیت  بوقتِ انتقال والدہ کی ملکیت میں جو بھی سونا تھا اس میں دیگر  ورثاء کے ساتھ آپ بھی اپنے شرعی حصے کے مطابق حق دار تھے،  اب اگر وہ سونا نہیں مل رہا تو تمام ورثاء کو آپس میں مل بیٹھ کر اس کی تحقیق کرنی چاہیے کہ وہ سونا کہاں گیا؟ تحقیق اور تفتیش کے بعد والدہ کے زندگی میں خرچ کرنا علم ہو جائے یا کسی وارث کے دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف کرنے کا علم ہو جائے تو اس کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

۔۔۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

29/ربيع الاول 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے