021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاقِ صریح کے بعد کنائی الفاظ ذکر کرنے کا حکم اور ضابطہ
78067طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرا مسئلہ میری شادی کو آٹھ سال ہو گئے، اس عرصے میں میرے شوہر نے بہت بار مجھے کہا کہ میں نے تمہیں فارغ کر دیا، اب تم میری بیوی نہیں رہی، اپنا سامان اٹھاؤ اور ماں کے گھر چلی جاؤ، قسمیں کھا کر کہ اب میرا تم سے کوئی رشتہ نہیں رہا، اور 3،4 بار یہ بھی کہا کہ فلاں کام کیا یا فلاں کے گھر گئی تو فارغ ہو گی، اس طرح کے مسیج کر کے ڈیلیٹ کر دیتا اور اپنے الفاظ سے مکر جا تا سب کے سامنے، اور ایک بار کہا کہ اگر بہن کے گھر گئی توطلاق ہو گی، کافی ٹائم تک میں رکی رہی، بہن کے گھر نہیں گئی، لیکن جب اس نے ماں کی گالی دے کر کہا کہ میں نے تمہیں فارغ کر دیا، اب نکل جا میرے گھر سے، تب میں بہن کے گھر بھی گئی۔ آپ کے ادارے سے میں نے فتویٰ (نمبر:61/ 74778) لیا جس میں طلاق بائن واقع ہوئی، اور پھر ہمارا دوبارہ نکاح ہوا۔  

وضاحت: سائلہ نے فون پر بتایا کہ شوہر نے یہ الفاظ " اگر بہن کے گھر گئی توطلاق ہو گی" تقریبا پانچ سال پہلے کہے تھے، میں رکی رہی، لیکن جب میں نے مذکورہ بالا فتویٰ لیا اور مجھے پتا چلا کہ میرے اوپر طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے تو پھر میں بہن کے گھر چلی گئی۔ یعنی شوہر نے پہلی دفعہ جب مجھے "تو فارغ ہے" کے الفاظ کہے تھے، اس کے بعد میری تین ماہواریاں گزرچکی تھیں، اس کے بعد میں بہن کے گھر گئی ہوں۔

 اب 3ماہ پہلے اس نے فون پر مجھے کہا کہ تمہیں طلاق چاہیے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اپنا سامان اٹھاؤ اور نکل جاؤ ادھر سے، اگر نہیں نکلتی تو میرا باپ آ کے نکالے گا، میں اب بچو ں کا خرچ بھیجوں گا، تمہارا نہیں۔ اس سے پہلے اس نے ہمبستری پہ قسم کھائی کہ تمہیں ہاتھ نہیں لگاؤں گا، تمہارے پاس نہیں آؤں گا، لیکن پھراحساس ہوا تو کفارہ ادا کر دیا۔ اب وہ پھر سب کے سامنے مکر گیا کہ یہ مانگ رہی تھی، میں نے نہیں دی، سب مجھے کہتے ہیں کہ اس کا گناہ اسے ہو گا، تمہیں نہیں، تم بسں اس کے ساتھ زندگی گزارو، لیکن میرا ضمیر نہیں مانتا کہ میں اب اس کی بیوی ہوں۔ اب 2 دن پہلے پھر اس نے کہا کہ اب میں تمہارا خرچہ نہیں بھیجوں گا، جہاں سے مرضی پورا کرو۔

برائے مہربانی شریعت کے مطابق مجھے اس کا حل بتائیں جس میں میری دنیا آخرت کی بہتر ی ہو۔

وضاحت: سائلہ نے فون پر بتایا کہ ابھی تین ماہ اور چند دن پہلے جو شوہر نے جو مجھے "تمہیں طلاق چاہیے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کے الفاظ کہے،  اس کے بعد سے میری تین ماہواریاں گزرچکی ہیں۔ میرے شوہر باہر ملک میں ہوتے ہیں، اس دوران انہوں نے رجوع کی کوئی بات نہیں کی ہے، بلکہ وہ سرے سے طلاق سے مکر گئے ہیں کہ میں نے طلاق نہیں دی۔

o

سوال میں آپ نے جس فتوی کا حوالہ دیا ہے، اس کی رو سے آپ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی تھی۔ بہن کے گھر جانے کے ساتھ اس نے جو صریح طلاق معلق کی تھی، چونکہ وہ شرط اس وقت پائی گئی تھی جب آپ دونوں کا نکاح ختم ہوچکا تھا اور آپ کی عدت بھی گزر گئی تھی، اس لیے وہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔   

تجدیدِ نکاح کے بعد اب آپ کے شوہر نے جو الفاظ کہے ہیں، ان کا حکم یہ ہے کہ "تمہیں طلاق چاہیے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" سے شرعا ایک طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے، اس کے بعد کے الفاظ "اپنا سامان اٹھاؤ اور نکل جاؤ ادھر سے، اگر نہیں نکلتی تو میرا باپ آ کے نکالے گا، میں اب بچو ں کا خرچ بھیجوں گا، تمہارا نہیں" کنایہ کے وہ الفاظ ہیں جن سے طلاق واقع ہونے کے لیے ہر حال میں نیت ضروری ہوتی ہے؛ لہٰذا اگر یہ الفاظ مستقل نئی طلاق کی نیت سے نہ کہے جائیں تو ان سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن کیا اس سے پہلے والی رجعی طلاق، بائن بنے گی یا نہیں؟ تو اس میں عقلا دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ شوہر نے یہ الفاظ اس طلاقِ رجعی کی وضاحت کرتے ہوئے نکاح ختم کرنے کی نیت سے کہے ہوں، کہ چونکہ اس طلاق سے نکاح ختم ہوچکا ہے؛ اس لیے اپنا سامان اٹھاؤ اور نکل جاؤ، اس صورت میں ان الفاظ سے وہ رجعی طلاق، بائن بن جائے گی۔ جبکہ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس نے یہ الفاظ اس رجعی طلاق کی وضاحت کرتے ہوئے نکاح ختم کرنے کی نیت سے نہ کہے ہوں،، بلکہ ویسے ہی محاورتاً بغیرکسی نیت کے کہے ہوں، اس صورت میں وہ رجعی طلاق، بائن نہیں بنے گی۔ عقلی طور پر ان الفاظ میں یہ دونوں احتمال ہیں، لیکن یہاں دوسرا احتمال بعید معلوم ہوتا ہے، کیونکہ سامان اٹھانے اور نکل جانے میں عرف اور محاورے کے پیشِ نظر پہلا احتمال راجح ہے؛ اس لیے ان الفاظ سے مستقل نئی طلاق کی نیت نہ ہونے کی صورت میں سابقہ طلاق کو بائن مانا جائے گا، (باستفادۃٍ من امداد المفتین: ص 521 تا 523، کفایت المفتی:6/390، و فتاوی دار العلوم دیوبند:9/171)۔ اگر بالفرض پہلے احتمال کو لیا جائے، تب بھی جب اس نے عدت کے اندر رجوع نہیں کیا؛ تو اس صورت میں بھی عدت گزرنے سے وہ رجعی طلاق، بائن ہوگئی ہے۔

خلاصہ یہ  کہ اگر آپ کے شوہر نے "تمہیں طلاق چاہیے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے بعد "اپنا سامان اٹھاؤ اور نکل جاؤ، اگر نہیں نکلتی تو میرا باپ آ کے نکالے گا، میں اب بچو ں کا خرچ بھیجوں گا، تمہارا نہیں" کے الفاظ مستقل نئی طلاق کی نیت سے نہیں کہے تھے اور اس بات پر وہ قسم بھی اٹھالے تو آپ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے اور آپ دونوں کا نکاح ختم ہوگیا ہے، اب آپ دونوں تجدیدِ نکاح کے بغیر ساتھ نہیں رہ سکتے۔ دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں آپ کے شوہر کو صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا، یعنی اگر وہ آپ کو مزید ایک طلاق دے گا تو کل تین طلاقیں پوری ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائے گی جس کے بعد نہ رجوع ہوسکے گا، نہ تحلیل کے بغیر نکاح؛ اس لیے دوبارہ نکاح کے بعد آئندہ  طلاق کے معاملے میں سخت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔

حوالہ جات

البحر الرائق (3/ 310):
 قوله ( أنت طالق بائن أو البتة أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان أو البدعة أو كالجبل أو أشد الطلاق أو كالف أو ملء البيت أو تطليقة شديدة أو طويلة أو عريضة فهي واحدة بائنة إن لم ينو ثلاثا ) بيان للطلاق البائن بعد بيان الرجعي.  
وإنما كان بائنا في هذه؛ لأنه وصف الطلاق بما يحتمله وهو البينونة؛ فإنه يثبت به البينونة قبل الدخول للحال وكذا عند ذكر المال وبعده إذا انقضت العدة. وأورد عليه أنه لو احتمل البينونة لصحت إرادتها بطالق وقد قدمنا عدم صحتها، وأجيب بأن عمل النية في الملفوظ لا في غيره، ولفظ بائن لم يصر ملفوظا به بالنية، بخلاف طالق بائن، وفيه نظر مذكور في فتح القدير. 
قيد بكون بائن صفة بلا عطف؛ لأنه لو قال أنت طالق وبائن، أو قال أنت طالق ثم بائن وقال لم أنو بقولي بائن شيئا فهي رجعية، ولو ذكر بحرف الفاء والباقي بحاله فهي بائنة، كذا في الذخيرة.  وأفاد بقوله "فهي واحدة إن لم ينو ثلاثا" أنه لو نوى ثنتين لا يصح لكونه عددا محضا، إلا إذا عنى بأنت طالق واحدة، وبقوله بائن أو البتة أو نحوهما أخرى يقع تطليقتان بناءً على أن التركيب خبر بعد خبر، وهما بائنتان؛ لأن بينونة الأولى ضرورة بينونة الثانية؛ إذ معنى الرجعي كونه  بحيث يملك رجعتها، وذلك منتفٍ باتصال البائنة الثانية، فلا فائدة في وصفها بالرجعية، وكل كناية قرنت بطالق يجري فيها ذلك، فيقع ثنتان بائنتان.
 
خلاصة الفتاوی (2/86):
وفي الفتاوی: لو قال لامرأته "أنت طالق"، ثم قال للناس "زن بر من حرام است" وعنی به الأول أو لا نیة له فقد جعل الرجعي بائنا، وإن عنی به الابتداء فهي طالق آخر بائن.
الهداية (1/ 243):
وفي كل موضع يصدق الزوج على نفي النية إنما يصدق مع اليمين؛ لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره، والقول قول الأمين مع اليمين.
الدر المختار (3/ 397):
باب الرجعة: ( هي استدامة الملك القائم ) بلا عوض ما دامت ( في العدة ….  وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطأ ( بنحو ) متعلق باستدامة ( راجعتك ورددتك ومسكتك ) بلا نية؛ لأنه صريح ( و ) بالفعل مع الكراهة…… الخ
رد المحتار (3/ 398):
 قوله ( بنحو راجعتك ) ……  هذا بيان لركنها، وهو قول أو فعل،  والأول قسمان: صريح كما مثل، ومنه النكاح والتزويج كما يأتي وبدأ به؛ لأنه لا خلاف فيه، وكناية مثل أنت عندي كما كنت وأنت امرأتي فلا يصير مراجعا إلا بالنية، أفاده في البحر و النهر. قوله ( راجعتك ) أي في حال خطابها، ومثله راجعت امرأتي في حال غيبتها وحضورها أيضا، ومنه ارتجعتك ورجعتك،  فتح.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  3/ربیع الثانی/1444ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے