021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چلتےکاروبار میں شرکت کاحکم
78085شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

عرض   یہ ہے کہ  ہمارے  ایک عزیز ایک بڑے  کاروبار کا مالک  ہے ، انہوں  نے اپنے  کاروبار کو   وسعت   دینے کے لئے  اپنے رشتے دار اور دیگر  لوگوں  سے  اس  شرط پر  رقم لی  کہ  منافع  کی مد میں   ہر ماہ  دو تین فیصد  دونگا ۔اس  کے علاوہ  کوئی اور  شرط طے  نہیں  کی تھی ،کاروبار  میں  بڑا  نقصان  ہوگیا  ہے ، اب لوگ  اپنی   رقوم  کی واپسی  کا مطالبہ  کررہے  ہیں ،یہ رقم  کروڑں میں  ہے،اس کے  پاس  ذاتی  کوئی  جائداد  نہیں  ہے  ،اور  ذاتی  اثاثے  بھی  بالکل  ختم ہوگئے ۔

اب سوال  یہ ہے کہ   کیااس طرح  دوتین  فیصد منافع لینے  کا   معا ملہ جائز ہے یانہیں ؟

o

دوسروں سے  رقم لیکر  اپنے کاروبار  کو وسعت دینا یہ شرکت مضاربت  ہے  اور صحت مضاربت  کی بنیادی  شرائط  درج ذیل ہیں

 1۔  رقم مضارب کے حوالے  کردی جائے  2 ۔کہ اصل رقم گارنٹیڈ ﴿مضمون  ﴾ نہ ہو کہ ہر حال میں اس کی واپسی  کمپنی کے ذمہ لازم ہو 3۔رب المال ﴿سرمایہ دینےوالا﴾ خود کاروبار کی عملی سرگرمیوں میں  شریک ہونے کی شرط  نہ لگائے 4۔  نفع میں ہر شریک  کا حصہ حاصل  ہونے والے  نفع میں  کسی خاص تناسب سے طےہوسرمایہ کا  کائی خاص تناسب طے نہ ہو نیز نفع  میں دونوں  کی  شرکت   فیصدی طریقہ پر ہو،نفع کی کوئی  خاص مقدار کسی کے لئے  مخصوص نہ ہو 5۔ اگر نقصان  ہوجائےتو دیکھا جائے  اس سے پہلے اس تجار  ت میں اگرکوئی  نفع  حاصل ہوا  ہوتو  نقصان کی تلافی  اس سے کی جائے گی، اگر  ابھی نفع نہیں ہوا یا نفع سے تلافی  نہیں  ہو پارہی    تو  نقصان   رب المال یعنی  سرمایہ  فراہم کرنے   والے کے ذمہ  ہوگا۔

لہذا چلتے کاروبارمیں  شرکت کرنے  کی جو  صورت  سوال میں  مذکور ہے ،کہ  کاروبار  میں رقم  جمع  کروانے سے  ہرماہ منافع کے نام پر متعین  رقم  ملنی  شروع  ہوجاتی  ہے، اور سرمایہ  لگانے  والوں کا سرمایہ  محفوظ  رہے گا ۔تو اس تناظر  میں شرعی لحاظ سے یہ معاملہ  شرکت کا نہیں ہے  بلکہ  قرض   دیکر  سود  وصول کرنے کا  بنتا  ہے، کیونکہ گاہک کی اصل  رقم محفوظ  رہنے کی  یقین دہانی اور دئیے گئے سرمایہ کے ایک خاص  فیصد کے ساتھ نفع دینے کی شرط لگائی گئی ہے،لہذا اس صورت میںآپ کا عزیز گاہک  کی طرف سے جمع کردہ  رقم پر  جو اضافی  رقم ادا  کررہا  ہے ،  یہ قرض پر سود کی ادائیگی ہے، اوریہ   ایک سودی  معاملہ ہونے  کی بنا ء پرشرعا  ناجائز اور حرام  ہے ، اس کے عزیز کے ساتھ اس طرح شراکت  داری جائز نہیں ، اس سے اجتناب لازم  ہے۔جن  لوگوں  نے اس  کے ساتھ  شرکت کرلی  ہےان پر معاملے  کو ختم کرنا  ضروری  ہوگا ۔ اصل رقم  کی واپسی لازمی ہے، البتہ اگر اس سے  زائد کوئی نفع   کسی نےکمایا  ہے   تو وہ بغیر نیت  ثواب کے صدقہ کرنا  لازم ہے ۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 200)
قال: "المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين" ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين "والعمل من الجانب الآخر" ولا مضاربة بدونها؛ ألا ترى أن الربح لو شرط كله لرب المال كان بضاعة، ولو شرط جميعه للمضارب كان قرضا.الی قولہ ۰۰۰قال: "ولا بد أن يكون المال مسلما إلى المضارب ولا يد لرب المال فيه" لأن المال أمانة في يده فلا بد من التسليم إليه، وهذا بخلاف الشركة لأن المال في المضاربة من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر، فلا بد من أن يخلص المال للعامل ليتمكن من التصرف فيه.
الی قولہ ۰۰۰قال: "ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة" من الربح لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما ولا بد منها كما في عقد الشركة.   

 احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

۵ربیع  الثا نی  ١۴۴۴ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے