021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جائیداد مشترک ہونے کی بنا پر شرکت کا دعویٰ اور مشترکہ رقم سے ذاتی کام کرنا
78083شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

میرا مسئلہ یہ ہے کہ زلزلہ 2005ء میں میری بیٹی مکان گرنے کی وجہ سے شہید ہوگئی تھی۔ اس وقت حکومت ان لوگوں کو جن کے گھر میں کوئی حادثاتی فوتگی ہوئی تھی، ایک لاکھ روپیہ بطورِ تالیفِ قلب ادا کرتی تھی؛ لہٰذا میری بیٹی کی شہادت کی بناء پر مجھے بھی ایک لاکھ روپیہ دیا گیا۔ میں نے ان پیسوں سے گھر کے ساتھ ایک پلاٹ خریدا جس میں خالص وہی رقم لگی۔

بعد میں جن لوگوں کے گھر منہدم ہوگئے تھے، ان کو بھی حکومت ایک لاکھ پچاس ہزار روپیہ دے رہی تھی، اس میں مجھے اور میری والدہ کو دو چیک ملے۔ ہمارا جو گھر منہدم ہوا تھا جس کی وجہ سے ہمیں یہ پیسے ملے وہ مشترکہ تھا جس میں ہم والدہ سمیت چار بھائی رہتے تھے۔ ان پیسوں سے میں نے ایک مشترکہ استعمال کے لیے ایک بھینس خریدی، چھوٹے بھائی کی شادی کرائی، اور باقی رقم سے میں نے جو پلاٹ خریدا تھا اس پر اور پرانے گھر پر دو بڑے کمرے تعمیر کرائے۔

اب میرا بھائیوں (جو مجھ سے چھوٹے ہیں) سے کہنا یہ ہے کہ جو پلاٹ میں نے بچی کی وفات پر ملنے والے پیسوں سے خریدا تھا اور اس پر اس رقم سے کمرہ تعمیر کیا تھا جو حکومت نے گھر کی تعمیر کے لیے ہمیں دئیے تھے، وہ مشترکہ جائیداد میں شامل نہیں ہے، وہ میرا خریدا ہوا ہے اور اس پر میں جو کمرہ تعمیر کیا وہ اپنے لیے کیا تھا، اس لیے وہ صرف میرا ہے۔ البتہ اس پلاٹ کی تعمیر پر میں نے مشترکہ گھر کے لیے ملنے والی رقم سے جو پیسے لگائے ہیں، میں وہ بھائیوں کو مشترکہ حساب میں دینے کے لیے تیار ہوں، لیکن یہ پلاٹ اور اس پر بنی ہوئی تعمیر صرف میری ہے۔ اور جو ہمارے باپ دادا کا قدیمی گھر ہے، اس میں سب کا برابر حصہ ہے۔  

ان کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ ہم نے ابھی بٹوارہ نہیں کیا ہے یعنی باپ دادا کی جو زمینیں اور گھر ہیں وہ سب مشترکہ ہیں؛ اس لیے یہ بھی اس میں داخل ہے اور مشترکہ جائیداد کا حصہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں میں حق پر ہوں یا وہ؟  

o

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق حکومت نے آپ کی بیٹی کی حادثاتی موت کی وجہ سے آپ کو جو رقم دی تھی، وہ آپ ہی کی تھی، اس لیے اس سے خریدا ہوا پلاٹ بھی آپ کا ہے۔ البتہ مشترکہ گھر منہدم ہونے کی وجہ سے جو رقم ملی تھی، اس میں آپ سب شریک تھے، اگر آپ نے دیگر شرکاء کی رضامندی کے بغیر اس میں سے اپنے لیے یہ کمرہ تعمیر کیا تھا تو یہ کمرہ اگرچہ آپ کا ہوگا، لیکن ایسا کرنا جائز نہیں تھا، یہ غصب کے حکم میں داخل ہے جس کی وجہ سے آپ گناہ گار ہوئے ہیں، آپ پر لازم ہے کہ سب سے پہلے ہر شریک کو اس کے حصے کی رقم واپس کریں، پھر ان سے بھی معافی مانگیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بھی گڑ گڑا کر توبہ واستغفار کریں۔ اور اگر ہر شریک کو اپنی طرف سے اس کے حصے سے کچھ زیادہ رقم دیدیں تو یہ تلافی کی ایک اچھی صورت ہے۔ لیکن آپ کے بھائیوں کا یہ کہنا کہ چونکہ ابھی تک ہماری آبا واجداد والی جائیداد تقسیم نہیں ہوئی؛ اس لیے یہ پلاٹ اور اس پر بنی ہوئی تعمیر بھی مشترکہ ہوگی، درست نہیں۔  

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  5/ربیع الثانی/1444ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے