| 78106 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
عرض یہ ہے کہ میں نے 1992 میں ایک مکان خریدا جس کو اپنے اور میرے بھائی کے نام رجسٹرڈ کروایا ،اس مکان کی پوری رقم میں نے ادا کی اس میں چھوٹے بھائی کا کوئی اختیار نہیں تھا ، اس کا صرف رہائشی اختیار تھا ،کچھ عرصے کے بعد اوپر کا پوریشن بنانے کی ضرورت پیش آئی تو اس کے بنانے میں چھوٹے بھائی کے تین لاکھ اور میرے ڈھائی لاکھ لگے۔ چھوٹے بھائی سے جو تین لاکھ لئے وہ صرف ساتھ رہنے کی نیت سے لئے ،اور کوئی بات نہیں کی ،چھوٹے بھائی کا انتقال 2002 کو ہوگیا ،اب ان کی اولاد بڑی ہوگئی وہ مجھ سے مکان میں حصے کا مطالبہ کر رہی ہے ،خریداری کے وقت مکان صرف نیچے بنا ہواتھا بعد میں اوپر بنایا ۔اوپر کے حصے میں میری رہائش ہے،اور نیچے کے حصے میں بھائی کے بچے رہتے ہیں ۔
﴿نوٹ ؛ سائل سے فون پر سوال ہوا کہ آپ نے چھوٹے بھائی کانام رجسٹری میں کس نیت سے ڈالااور اوپر کی منزل کی تعمیر میں بھائی کی رقم کوکس نیت سے لگایا ؟تو ان کی طرف سے جواب آیا کہ ہم کو ئٹہ سے کراچی منتقل ہوئے سب بھائیوں نے الگ الگ پلاٹ خرید لیا ، چھوٹے بھائی نے نہیں خرید ا تھا ،تو میں نے اس نیت سے اس کا نام شامل کیا کہ ہم دونوں اس مکان میں رہائش اختیار کریں گے۔﴾
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کی تحریر اور آپ کی زبانی بیان سے اندازہ ہوا کہ آپ کا مقصد اپنے چھوٹے بھائی کو اس مکان میں حصہ دینا تھا ،اسی وجہ سے آپ نے چھوٹے بھائی سے تعمیر مکان کےلئے بلا کسی شرط کے رقم بھی لی ہے ، اوراس کےبعد اتنے عرصےتک بلا کسی کرایہ کے بھائی کو اور ان کے انتقال کے بعد ان کی اولاد کو اس مکان میں ر کھا ہواہے ،ان تمام وجوہا ت کی بناء پرآپ کے ذمے لازم ہےکہ آپ اپنے مرحوم چھوٹے بھائی کی اولا د کو مکان میں ان کا جائز حق دیدیں۔ یہ کام اپنی زندگی میں کرلیں تاکہ بعد میں آپ کی اولاد کوئی مشکل پیدا نہ کریں ۔
حوالہ جات
....
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۷ ربیع الثانی ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


