03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کپڑوں کاپر زکوة کاحکم
78109زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

ایک  طلاق  یافتہ عورت  کے تین بچے  ہیں ،بڑی  بیٹی نویں کلاس  میں پڑتی  ہے،اس عورت کے  باپ کی جائداد   ہے  جو ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ،اس جائداد  میں  سے اسے ماہانہ  15000ہزار   ملتاہے ،اور بچوں کے  والد کی  طرف  سے بچوں  کو  ماہانہ 12000 ملتا ہے ،وہ کبھی دیتا ہے  اورکبھی نہیں ،اب اس عورت  نے بچوں  کو   خرچہ دلانے کے لئے  کپڑوں کا کاروبار شروع   کیا ہے ،جس میں   لوگوں پر تقریبا دوڈھائی  لاکھ  کا قرض ہے ،جو کپڑوں کی مد میں واپسی کا   ہے ،جوگ   قرضہ صحیح   واپس نہیں کرتے ،اب اس عورت کے پاس   دوڈھائی لاکھ  کا کپڑا  بیچنے کے  لئے  ہے ،اب  سوال یہ ہے کہ  اس  کا  جو  مال کپڑوں کی   حالت  میں  موجود ہے، اس کی زکوة ادا  کرے گی یا نہیں ؟ جبکہ اس کے گھر کا خرچہ   بڑی مشکل سے چلتا  ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس شخص کی ملکیت   میں   بقدر نصاب  مال ہو ﴿ یعنی   سونا  چاندی ،تجارت کی  نیت   سے خریدا  ہو  ا مال  ،ان سب کی  مجموعی قیمت  لگاکراس مجموعہ  میں   نقدی  شامل کی جائے  ، تو اگر سب کی مجموعی  مالیت ساڑھے  باون   تولے  چاندی  کی  قیمت  کے برابر یا اس  سے زیادہ  ہو﴾تو اس پر  زکوة  فرض  ہوجاتی ،جس دن  بقدر نصاب مال  ملک  میں آیا   ہےاس تاریخ  کو یا درکھنا  لازم ہے ،آیندہ  سال  بٕعینہ  اسی متعین  تاریخ  میں اگر نصاب برقرار  رہا  تو  زکوة  کی ادائیگی  لازم ہے ۔

لہذا  مسئولہ صورت میں اس عورت  پر  لازم  ہے کہ سالانہ  بنیاد  پر  اپنی ملک میں  موجودتجارتی مال اور سونا چاندی کی  قیمت  لگائے،اور اس میں نقدی  شامل کرے، پھراس  مجموعہ  میں سے  اپنے ذمے  واجب  الادا قرض  منہا  کرے ،اس کے بعد  جو رقم باقی بچے  اس کی زکوة   ڈھائی فیصد  کے حساب سے ادا کرے  ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 259)

﴿وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) (و) فارغ (عن حاجته الأصلية)  نام ولو تقديرا)

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

       دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

۸ ربیوالثانی  ١۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب