| 78185 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں بچوں ی پرورش کا حق کس کو حاصل ہے؟ میرے دو بچے ہیں، ایک پانچ سال کا اور دوسرا ڈیڑھ ماہ کا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
علیحدگی کے بعد شرعی اعتبار سے بچوں کی پرورش کا سب سے پہلا حق ماں کو حاصل ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ بیٹا سات سال تک ماں کی پرورش میں رہے گا اور بیٹی بالغ ہونے تک ماں کے پاس رہے گی، بشرطیکہ اس دوران ماں بچوں کے کسی غیر محرم رشتہ دار سے شادی نہ کرے اور نہ ہی کوئی ایسی ملازمت اختیار کرے کہ جس کی وجہ سے بچوں کی تربیت میں خلل واقع ہوتا ہو، ورنہ ماں کا پرورش کا حق ساقط ہو جائے گا۔ ماں کے پاس پرورش کے دوران بچوں کے کھانے پینے، علاج معالجے اور تعلیم وغیرہ کے تمام اخراجات باپ برداشت کرے گا۔لہذا اگر بالفرض شوہر بچوں کو خرچہ نہ دے اور وہ بچوں کو اپنے قبضہ میں لینے کی کوشش کرے تو آپ عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں اور عدالت قانون کے مطابق بچوں کا فیصلہ آپ کے حق میں کر دے گی اور بچوں کا ماہانہ خرچہ بھی شوہر کے ذمہ لازم کردے گی۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 283) دار احياء التراث العربي – بيروت:
" وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد " لما روى أن امرأة قالت يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وحجري له حواء وثديي له سقاء وزعم أبوه أنه ينزعه مني فقال عليه الصلاة والسلام: " أنت أحق به مالم تتزوجي " ولأن الأم أشفق وأقدر على الحضانة فكان الدفع إليها أنظر وإليه أشار الصديق رضي الله عنه بقوله ريقها خير له من شهد وعسل عندك يا عمر قاله حين وقعت الفرقة بينه وبين امرأته والصحابة حاضرون متوافرون.
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 284) دار احياء التراث العربي – بيروت:
"والأم والجدة أحق بالغلام حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده ويستنجي وحده وفي الجامع الصغير حتى يستغني فيأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده " والمعنى واحد لأن تمام الاستغناء بالقدرة على الاستنجاء.
ووجهه أنه إذا استغنى يحتاج إلى التأدب والتخلق بآداب الرجال وأخلاقم والأب أقدر على التأديب والتثقيف والخصاف رحمه الله قدر الاستغناء بسبع سنين اعتبارا للغالب " والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض " لأن بعد الاستغناء تحتاج إلى معرفة آداب النساء والمرأة على ذلك أقدر وبعد البلوغ تحتاج إلى التحصين والحفظ والأب فيه أقوى وأهدى وعن محمد رحمه الله أنها تدفع ألى الأب إذا بلغت حد الشهوة لتحقق الحاجة إلى الصيانة " ومن سوى الأم والجدة أحق بالجارية حتى تبلغ حدا تشتهى وفي الجامع الصغير حتى تستغنى " لأنها لا تقدر على استخدامها ولهذا لا تؤاجراها للخدمة فلا يحصل المقصود بخلاف الأم والجدة لقدرتهما عليه شرعا.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
17/ربيع الثانی 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


