| 78245 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
مسئلہ نمبر 1: زمین کی فائل کے کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے؟جائز ہےیا ناجائز ؟اگرچہ اس فائل کے عوض ایک زمین بھی مقرر ہو، خالی فائل ہی نہ فروخت کی جا رہی ہو ۔
سوال نمبر 2: اگر خالی فائل ہو، اس کے پیچھے متعین زمین نہ ہو، البتہ زمین کا مجموعی رقبہ متعین ہو کہ اس رقبہ کے اندر اتنے گز کا پلاٹ ملے گا تو اس صورت میں کیا حکم ہے ؟
سوال نمبر 3: کیا ایک پراپرٹی ڈیلر کسی گاہک سے فائل خرید کر آگے بیچ سکتا ہے؟جبکہ وہ فائل گاہک نے قسطوں پر لی ہو اور ابھی قسطیں بھی باقی ہوں،نیز اوپن فائل اور نامزد فائل دونوں کا حکم بیان کر دیجیے، اوپن فائل کا مطلب یہ ہے کہ وہ فائل کسی شخص کے نام پر نہیں ہوتی۔
سوال نمبر 4: اگرکمپنی کا پراپرٹی ڈیلر کمپنی کو کچھ رقم ادا کرکے فائليں خريد كر آگے پرافٹ پر بیچے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جبکہ اس میں کمپنی اور ڈیلر کے درمیان باقاعدہ پلاٹ کی خریدوفروخت نہیں ہوتی۔
وضاحت:
سائل نے بتایا کہ مارکیٹ میں تین قسم کے ڈیلر (بروکر) رائج ہیں:1۔ پلاٹینیم ڈیلر2۔گولڈ ڈیلر3۔سلور ڈیلر، پلاٹینیم ڈیلر سے سب سے زیادہ، گولڈ ڈیلر سے اس سے کم اور سلور ڈیلر سے اس سے بھی کم رقم وصول کی جاتی ہے، اسی رقم کے حساب سے فائلیں دی جاتی ہیں، پلاٹینیم ڈیلر کو سب سے زیادہ، گولڈ کو اس سے کم اور سلور ڈیلر کو اس سے بھی کم فائلیں دی جاتی ہیں، یہ بات یاد رہے کہ کمپنی آتھورائزیشن (Authorization) کی کوئی فیس نہیں لیتی، بلکہ کمپنی رقم کے بدلے میں فائلیں دیتی ہے اور مارکیٹ میں اس رقم کو فائلوں کی قیمت ہی سمجھا جاتا ہے اور ان فائلوں کومارکیٹ میں مال ہی سمجھا جاتا ہے، ہر خریدار فائل خرید کر اپنے آپ کو فائل کا مالک سمجھتا ہے، البتہ ان ڈیلرز کا کمپنی سے پلاٹوں کی خریداری کا معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ اوپن فائلیں ہوتی ہیں جو ڈیلرز ان فائلوں کو آگے بیچ کر نفع حاصل کرتے ہیں۔
پھربعض کمپنی والے ڈیلر کو اختیار دیتے ہیں کہ جتنی فائلیں فروخت نہ ہوں وہ واپس کی جا سکتی ہیں، جبکہ بعض کمپنیز جن کی مارکیٹ بہت اچھی ہوتی ہے وہ فائلیں واپس کرنے کا اختیار نہیں دیتیں، لیکن خواہ فائلیں واپس کی جائیں یانہ کی جائیں، کمپنی لی گئی رقم بہرصورت واپس نہیں کرتی، البتہ فائلیں واپس ہونے کی صورت میں ان کے بدلے میں کمپنی دوسری فائلیں دے دیتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ فائل واپس کرکے جمع کروائی گئی رقم لے لی جائے۔ البتہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کمپنی کے پاس پلاٹ کم پڑنے کی وجہ سے فائلوں کا ریٹ بڑھ جائے تو کمپنی زیادہ قیمت پر اپنے ڈیلرز سے فائل واپس خرید لیتی ہے۔
سوال نمبر 5: اگر ایک شخص کسی رئیل اسٹیٹ سوسائٹی کا ڈیلر ہو، جو کمپنیوں کو اپنی رقم ادا کر کے فائلیں وصول کرتا ہو، مگر ان فائلوں کا مالک نہ بنتا ہو، بلکہ ایک بروکر کی حیثیت سے ان کو فروخت کرتا ہو تو کیا ایسی خرید وفروخت جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید جاننا چاہیے کہ جب کوئی سوسائٹی لانچ کی جاتی ہے تو مارکیٹ میں عام طور پر پلاٹوں کی خریدوفروخت کی چار اقسام رائج ہیں:
نمبر1: اندازے سے فائلیں جاری کر دی جاتی ہیں اور کسٹمر کو صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ اس زمین میں کسی جگہ پر ایک پلاٹ ملے گا، پھر اس میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ زمین کم ہوتی ہے اور فائلیں زیادہ تعداد میں جاری کر دی جاتی ہیں، یہ اس وقت کیا جاتا ہے جب بلڈر کو بڑی مقدار میں رقم مطلوب ہو، اس لیے وہ اندازے سے فائلیں جاری کر دیتا ہے، لہذا ایسی صورت میں یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ پلاٹ نہ ملے اور پھرفائل کمپنی کو واپس کرکے اپنی رقم واپس لینا پڑے۔ اس طرح پلاٹوں کی خریدوفروخت کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس میں زمین کا مجموعی رقبہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بیچےجانے والے پلاٹ کے نفسِ وجود کے بارے میں شک کی کیفیت پائی جاتی ہے اور خریدوفروخت کی شرائط میں سے ایک شرط فروخت کی جانے والی چیز کا یقینی طور پر موجود ہونا بھی ہے، جبکہ مذکورہ صورت میں یہ شرط نہیں پائی جا رہی۔
نمبر2: زمینی نقشہ بنائے بغیر زمین کی حد بندی اور اس کے مجموعی رقبہ کے مطابق فائلیں جاری کرکے کسٹمرز کو صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سیکٹر کی حدود میں ایک پلاٹ ملے گا، یہ نہیں بتایا جاتا کہ پلاٹ نمبرکون سا ہو گا؟ مسجد، پارک اور روڈ سے کتنے فاصلے پر ہو گا؟ اس مرحلے پر سوسائٹی سے پلاٹ خریدنا جائز ہے، البتہ اضافی رقم پر آگے بیچنا جائز نہیں، اس کی مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔
- زمینی نقشہ بنانے سے پہلے کاغذی یا ڈیجیٹل نقشہ بنا کر کسٹمر کو سیکٹر، بلاک، پلاٹ نمبر، روڈ اور مسجد وغیرہ سے کتنے فاصلے پر ہو گا؟ سب کچھ بتا دیا جاتا ہے، البتہ زمینی نقشہ نہ بننے کی وجہ سے زمین پرجگہ کی تعیین نہیں ہوتی کہ یہ پلاٹ کون سی جگہ پر ہو گا؟ اس مرحلے پر بھی اگر یہ نقشہ حتمی ہو اور حکومت کے مجاز ادارے سے منظور شدہ ہو تو پلاٹ سوسائٹی سے خریدنا اور آگے پرافٹ پر بیچنا دونوں صورتیں جائز ہیں، کیونکہ اس میں پلاٹ کے اوصاف اور محلِ وقوع (Location)بڑی حد تک معلوم ہو جاتا ہے اور جہالت کا عنصر بہت کم رہ جاتا ہے، اس لیے اس کی اجازت ہے۔
- زمینی نقشہ بنانے اور پلاٹ کی تعیین کے بعد پلاٹ فروخت کیا جائے، اگرچہ مارکیٹ میں ایسا بہت کم ہوتا ہے،کیونکہ عام طور پر سوسائٹی یا ٹاؤن بناتے وقت زمینی نقشہ بنانے سے پہلےفائلوں کی خریدوفروخت شروع کی جاتی ہے، تاکہ رقم وصول ہونے پر زمینی نقشہ پر کام شروع کیا جا سکے، کیونکہ زمینی نقشہ بنانے کے لیے کافی رقم درکار ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر بھی سوسائٹی سے پلاٹ خریدنا اور آگےنفع پر بیچنا جائزہے۔
مذکورہ تمہید کے بعد سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ فرمائیں:
- اگرزمینی نقشہ بن چکا ہو اور فائل خریدنے والے شخص کو خریدے جانے والےپلاٹ کا علم ہو توکمپنی سے فائل خریدنا اور آگے بیچنا جائز ہے، کیونکہ ایسی صورت میں فائل ایک متعین پلاٹ کی نمائندگی کرتی ہے، اس لیے یہ صرف فائل کی خریدوفروخت نہیں، بلکہ شرعی اعتبار سے یہ متعین زمین کی خریدوفروخت شمار ہوگی، یہی وجہ ہے کہ اس میں پلاٹ پر قبضہ کا ہونا بھی شرط نہیں، بلکہ بغیر قبضہ کے آگے بیچنا درست ہے۔ خواہ مکمل قیمت ادا کرکے فائل خریدی گئی ہو یا قسطوں پر، بہر صورت ایسی فائل کی خریدوفروخت جائز ہے۔
- اگرزمین پر ابھی نقشہ نہ بناہو، البتہ زمین کی حد بندی ہو چکی ہو تو تمہید میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اس کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت یہ کہ کاغذی یا ڈیجیٹل شکل میں نقشہ تیار ہو چکا ہو اوراس نقشہ کی مدد سے پلاٹ کے اوصاف اور اس کا محل وقوع (Location)معلوم کیا جا سکتا ہو تو اس صورت میں بھی سوال نمبر1کے جواب میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق پلاٹ سوسائٹی سے خریدنا اور اس کو آگے بیچنا درست ہے۔
دوسری صورت یہ کہ کاغذی نقشہ نہ بنا ہو یا صرف عارضی نقشہ بنایا گیا ہو، جس کی مدد سے پلاٹ کا محلِ وقوع معلوم نہ کیا سکتا ہو، بلکہ صرف اتنا معلوم ہو کہ اس مجموعی رقبہ میں اتنے گز کا پلاٹ بیچا جا رہا ہے تو اس میں فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کا اختلاف ہے، حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ایسی صورت میں زمین متعین اور معلوم نہ ہونے کی وجہ سے خریدوفروخت فاسد اور ناجائز ہے، جبکہ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کا موقف یہ ہے کہ اس جہالت کو ختم کرنا خریدوفروخت کرنے والوں کے اختیار میں ہے، لہذا مشاع حصے کی خریدوفروخت پر قیاس کرتے ہوئے یہ خریدوفروخت بھی جائز ہے، حنفیہ کے اکثر متون میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا موقف لیا گیا ہے، صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو ترجیح دی ہے، کیونکہ اس میں پلاٹ متعین نہ ہونے کی وجہ سے جھگڑے اور نزاع کا احتمال ہے،وجہ اس کی یہ ہے کہ محلِ وقوع کے اعتبار سے پلاٹ کی قیمت پر بہت اثر پڑتا ہے، چنانچہ جو پلاٹ روڈ، پارک، اسکول اور مارکیٹ وغیرہ کے نزدیک ہو اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، جبکہ جو پلاٹ ان جگہوں سے دور ہو اس کی قیمت کم ہوتی ہے، اس لیے عام حالات میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر ہی فتوی دیا جاتاہے، البتہ بعض حالات میں جب فریقین کے درمیان نزاع اور جھگڑے کا احتمال نہ ہو تو ضرورت کے پیشِ نظر حضراتِ صاحبین رحمہما اللہ کے موقف پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے اور مذکورہ صورت میں عام طور پر زمینی نقشہ اور پلاٹوں کی کٹنگ لوگوں سے رقوم وصول ہونے کے بعد کی جاتی ہے، کیونکہ زمینی نقشہ بنانے اور ہر پلاٹ کی سیکٹر اور بلاک کے حساب سے تعیین اور حد بندی میں اچھی خاصی محنت اورسرمایہ خرچ ہوتا ہے، اس لیے مجبوری کے پیشِ نظرصاحبین رحمہما اللہ کے موقف پر عمل کرتے ہوئےکسی بھی ٹاؤن یا سوسائٹی سے ابتدائی طور پر زمینی نقشہ بننے سے پہلے پلاٹ کی فائل خریدنا جائز ہے، بشرطیکہ ایسی صورت میں فریقین کے درمیان نزاع نہ ہو اور آج کل عام طور پر اس میں کمپنی اور کسٹمر کے درمیان نزاع اور اختلاف نہیں ہوتا، بلکہ کسٹمر اس سوسائٹی میں کسی بھی جگہ پر پلاٹ ملنے پر راضی ہوتا ہے اور فریقین کے درمیان نزاع نہ ہونے کی صورت میں حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم نے فقہ البیوع میں صاحبین کے موقف پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے۔
البتہ اس صورت میں اگر یہ شخص یہی فائل آگے کسی کو بیچنا چاہے تو اس کےبیچنےکی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت: پہلی صورت یہ ہے کہ فائل قیمتِ اسمیہ (Face Velue)یعنی اسی قیمت پر فروخت کی جائے جس قیمت پر فائل خریدی گئی ہے تو اس صورت میں صاحبین کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے یہ خریدوفروخت جائز اور درست ہے، خواہ یہ اوپن فائل ہو، یعنی اس کے خریدار نے کمپنی سے پلاٹ نہ خریدا ہو یا یہ کہ نامزد فائل (جو کسی خاص نام سے جاری ہوئی ہو) ہو، یعنی کسٹمر نے اس فائل کے ذریعہ کمپنی سے پلاٹ خرید لیا ہو، بہرصورت اس کو قیمتِ اسمیہ پر بیچنا جائز ہے،کیونکہ حضراتِ صاحبین رحمہما اللہ کے موقف کے مطابق اصولی طور پر اس میں پلاٹ کی خریدوفروخت ہوئی ہے، اس لیے قیمت اسمیہ پر اس کو بیچا جا سکتا ہے، البتہ پرافٹ پر آگے بیچنا جائز نہیں، جس کی تفصیل صورت نمبر2 کے تحت آرہی ہے۔
دوسری صورت: دوسری صورت یہ کہ کمپنی سے فائل خرید کر آگے پرافٹ یعنی نفع پر اس کو فروخت کیا جائے، تو یہ خریدوفروخت سدا للذریعہ (مفاسد کا دروازہ بند کرنے کے لیے) جائز نہیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ مارکیٹ میں عام طور پر زمینی نقشہ بننے سے پہلے فائلوں کی خریدوفروخت صرف نفع کے حصول کے لیے کی جاتی ہے، اس سے پلاٹ کی خریدوفروخت مقصود نہیں ہوتی، جس سے کئی مفاسد کا دروازہ کھلتا ہے، مثلا:پراپرٹی ایجنٹ پلاٹ کی قیمت بڑھانے کے لیے ایسی فائلوں پر فرضی اور جعلی معاملات کرتے ہیں، نیزان فائلوں کی خریدوفروخت سے عملی لین دین مقصود نہیں ہوتا، بلکہ صرف قیمت بڑھنے کی صورت میں قیمتوں کا فرق لے دے کر نفع حاصل کرنامقصود ہوتا ہے، جوکہ سٹہ کی ایک صورت ہے، کیونکہ لوگ خالی فائل زیادہ قیمت پرایک دوسرے کو آگے فروخت کرتے رہتے ہیں، جس میں یہ احتمال بھی ہوتا ہے کہ زمینی نقشہ کے بعد اس فائل کے پیچھے موجود پلاٹ کی اتنی قیمت نہ ہو، جتنے کی فائل مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہو۔لہذا ان مفاسد سے بچنے کے لیے ایسی فائل کو نفع پر بیچنے کے حوالے سے سدا للذریعہ ہمارا فتوی عدمِ جواز کا ہی ہے۔
- سوال نمبر1کے جواب میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر زمینی نقشہ بن چکا ہو اور فائل اوپن نہ ہو، بلکہ کسی خاص فرد کے نام پر جاری کی گئی ہو تو اس صورت میں اس فائل کو آگے بیچنا جائز ہے، خواہ نقد رقم کے عوض پلاٹ خریداہو یا قسطوں پر خریدا گیا ہواور ابھی قسطوں کی ادائیگی بھی باقی ہو، اسی طرح خواہ ڈیلر گاہک سے فائل خرید کر نفع پر بیچے یا گاہک ڈیلر سے خرید کر بیچے دونوں صورتیں جائز ہیں۔
لیکن اگر زمینی نقشہ نہ بنا ہو، بلکہ ابھی صرف کاغذی نقشہ بنا ہو اور صرف اتنا معلوم ہو کہ اس مجموعی رقبہ میں کسی بھی جگہ پر پلاٹ موجود ہے تو اس صورت میں عام طور پر فروخت کنندہ اور خریدار کے درمیان نزاع نہ ہونے کی وجہ سے حضراتِ صاحبین رحمہما اللہ کے موقف پر عمل کرتے ہوئے کمپنی یا کمپنی کے کمیشن ایجنٹ سے فائل خریدنا توجائز ہے، لیکن زمینی نقشہ بننے یاکم از کم ڈیجیٹل نقشے کے ذریعہ پلاٹ کے اوصاف اور محلِ وقوع معلوم ہونے سے پہلےاس فائل کو آگے نفع پر بیچنا جائز نہیں، خواہ اوپن فائل ہو یا نامزد (خواہ نقد رقم پر خریدا ہو یا قسطوں پر) دونوں صورتوں کا یہی حکم ہے، جيسا كہ اس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
لہذا پراپرٹی ڈیلر کے لیے بھی وہی حکم ہے جو اصل خریدار اور فروخت کنندہ کا ہے،جس صورت میں پلاٹ کی خریدفروخت جائز ہے اس صورت میں کمیشن ایجنٹ بننا اور بروکر بننا بھی جائز ہے اور جس صورت میں پلاٹ کی خریدوفروخت جائز نہیں، اس صورت میں پلاٹ کو بیچنے کے لیے کوشش کرنا اور خریدوفروخت کرنے والوں کے درمیان واسطہ اور بروکر بننا بھی جائز نہیں۔
- ڈیلرزسے لی گئی معلومات سے معلوم ہوا کہ ابتداء جب کمپنی اوپن فائلیں اپنے ڈیلرز کو فروخت کرتی ہے تو کمپنی اور ڈیلرز کے درمیان باقاعدہ پلاٹ کی خریدوفروخت کا معاملہ نہیں ہوتا، اسی لیے فائل کی قیمت پلاٹ کی قیمت سے بہت کم ہوتی ہے، مثلا: پلاٹ کی قیمت اگر بیس لاکھ روپیہ ہے تو فائل کی قیمت ایک، دو لاکھ (بعض حضراے نے بتایا کہ یہ قیمت پلاٹ کی کل قیمت کا دس فیصد ہوتی ہے) روپیہ یا اس سے کچھ کم وبیش ہوتی ہے،خاص طور پر بحریہ ٹاؤن کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان اوپن فائلوں کی خریدوفروخت بحریہ کی مارکیٹنگ ٹیم خود کرواتی ہے، اسی لیے چار پانچ ماہ تک اوپن فائلوں کی خریدوفروخت کے دوران بحریہ کی طرف سے پلاٹوں کی باقاعدہ رجسٹریشن اور قسطوں کی وصولی شروع نہیں ہوتی، اسی وجہ سے مارکیٹ میں بعض لوگ اس کو سٹہ سمجھتے ہیں، کیونکہ ان فائلوں کے خریداروں کا مقصد پلاٹ خریدنا نہیں ہوتا، بلکہ اسی فائل کی بنیاد پر نفع حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلہ میں پلاٹوں کی صرف مارکیٹنگ کرنا مقصود ہوتا ہے اور اپنی اصل کے اعتبار سے یہ معاملہ اجارہ (جس میں ڈیلر کی حیثیت کمیشن ایجنٹ کی ہو)کے قریب تھی، لیکن مارکیٹ کی مروجہ صورتِ حال کے مطابق اس میں اجارہ کی شرائط نہیں پائی جا رہیں، لہذا شرعاً اس معاملہ کو اجارہ قرار دے کر ان ڈیلرز کو کمپنی کا کمیشن ایجنٹ نہیں کہا جا سکتا، جس کی تین وجوہ ہیں:
الف: مارکیٹ کے عرف میں ہر ڈیلر کمپنی سے فائلوں کی ہی خریدوفروخت کرتا ہےاور خریدنے کے بعد انہیں فائلوں کو اپنا مال سمجھتا ہے۔
ب: عام طور پر کمپنی اپنے ڈیلرز کو فائلیں بیچنے کے بعد واپس نہیں لیتی، بلکہ فائلیں خریدنے کے بعد نفع اور نقصان کی تمام تر ذمہ داری ڈیلرز پر ہی ہوتی ہے، نیز اگر کوئی ڈیلرکمپنی کی پالیسی یا اپنے ذاتی تعلقات وغیرہ کی بناء پر فائلیں واپس کرنا چاہے تو کمپنی لی گئی رقم واپس نہیں کرتی، بلکہ ان فائلوں کے بدلے میں دوسری فائلیں دے دیتی ہے، جن کی مارکیٹ میں طلب (Demand) نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔
ج: کمیشن ایجنٹ کا معاملہ شرعاً اجارے کا معاملہ ہے، جبکہ کمپنی اور ڈیلرز کے درمیان باقاعدہ اجارے کا کوئی معاملہ منعقد نہیں ہوتا، اس لیے ڈیلرز کے کمپنی سے فائلیں خریدنے کے معاملے کو اجارہ اور بروکری (دلالی) قرار دینا مشکل ہے۔
اس لیے شرعاً یہ بیع الحق (پلاٹ فروخت کرنے کا حق بیچنا) ہےاور فقہی اعتبار سے اس کا تعلق حقوقِ مجردہ (جو کسی عین کے ساتھ متعلق نہ ہوں) سے ہے اور فقہائے کرام رحمہم اللہ نے حقوقِ مجردہ کی خریدوفروخت کو بعض شروط کے ساتھ جائز قرار دیا ہےاور وہ شرطیں یہاں نہیں پائی جارہیں، اس لیے محض فائل کی خریدوفروخت شرعاً باطل اور کالعدم ہے، کیونکہ شرعی اعتبار سے محض فائل مال نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں کمپنی کا اپنے ڈیلرز کو فائلیں بیچ کر رقم وصول کرنا جائز نہیں،لہذا کمپنی کا یہ اوپن فائلیں اپنے ڈیلرز کو بیچنا اور پھر ڈیلرز کا آگے دیگر ڈیلرز یا کسٹمرز کو بیچنا درحقیقت بیع الحق ہی ہے، جس کی خریدوفروخت کی شرعاً اجازت نہیں۔
اس کی شرعاً جائز صورت یہ ہے کہ کمپنی ان ڈیلرز کو باقاعدہ کمیشن ایجنٹ بنائے، جس میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
الف: کمپنی فیصد یا لم سم صورت میں ڈيلر كا باقاعده كميشن طے کرے، خواہ فی فائل کی فروختگی کے حساب سے طے ہو یا تمام فائلیں فروخت کرنے پر مجموعی کمیشن طے کیا جائے۔
ب: کمیشن ایجنٹ کے پاس يہ فائليں بطورِ امانت ہوں گی اور بغیر کوتاہی اور غفلت کے یہ فائلیں ضائع ہونے کی صورت میں ڈیلر پر کسی قسم کا ضمان واجب نہیں ہو گا۔
ج: کمپنی ڈیلرز سے بطورِ سیکورٹی بھی کچھ رقم لے سکتی ہے، البتہ اس صورت میں اگر کسی وجہ سے فائلیں فروخت نہ ہوں تو کمپنی کی ذمہ داری ہے کہ وہ فائلیں واپس لے اور بطورِ سیکورٹی لی گئی رقم ڈیلر کو واپس کرے، کیونکہ شرعی اعتبار سے اس رقم کی حیثیت امانت کی ہو گی، البتہ عرف میں اس کے استعمال کی اجازت ہونے کی وجہ سے اس پر قرض کا حکم لگے گا، [1]اس لیے فائلیں فروخت ہو جانے یا کمپنی کو فائلیں واپس کرنے کی صورت میں ڈیلرز کو یہ رقم واپس کرنا ضروری ہے۔
و: چونکہ محض فائل کی خریدوفروخت غیر مملوک، ٹاپ مارنے اور غیرواقعی قیمت بڑھانے کا ذریعہ بنتی ہے، اس لیےیہ بھی شرط ہے کہ کمپنی ڈیلر کومحض فائل فروخت کرنے کا نہ کہے، بلکہ پلاٹ فروخت کرے اور فروختگی کے وقت پلاٹ کی قیمت پر ہی معاملے کو حتمی اور فائنل کیا جائے، اگرچہ قسطوں کی ادائیگی بعد میں شروع ہو۔
- اس کا جواب سوال نمبر4کے ضمن میں گزر چکا ہے کہ اگر کمپنی اور ڈیلر کے درمیان باقاعدہ کمیشن ایجنٹ ہونے کا معاملہ طے ہوتا ہے اور نمبر4کےتحت ذکر کی گئی شرائط کا لحاظ رکھا جاتا ہے تو ڈیلر کی حیثیت کمیشن ایجنٹ کی ہو گی اور یہ معاملہ حقیقت میں اجارہ کا ہو گا نہ کہ خریدوفروخت کا اور اس میں ڈیلر سے لی گئی رقم کی حیثیت قرض کی ہو گی جو ڈیلر کو واپس کرنا ضروری ہو گی۔
[1] اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ اس صورت میں اجارہ کے معاملے میں شرط فاسد لگانا لازم آتا ہے، کیونکہ اس میں کمپنی کا نفع ہے اور اجارہ کا معاملہ شرطِ فاسد سے فاسد ہوجاتا ہے۔ اس کا جواب یہ کہ اگرچہ اصولی اعتبار سے یہ اجارہ مع شرط القرض ہے اور یہ شرط فاسد ہے، مگر آج کل مارکیٹ کے عرف میں یہ شرط رائج ہو چکی ہے اور جو شرطِ فاسد عرف میں رائج ہوجائے اس کے لگانے سے معاملہ فاسد نہیں ہوتا، جیسے کرایہ پر گھر لینے میں سیکورٹی ڈپازٹ رکھنا وغیرہ معاشرے میں رائج ہو چکا ہے، اس لیے معاصر علمائے کرام نے اس کی اجازت دی ہے، خصوصا جبکہ اس طرح کے معاملات میں سیکورٹی کے طور پر رقم لینے کی ضرورت بھی ہے۔
حوالہ جات
ملتقى الأبحر (ص: 18) دار الكتب العلمية،بيروت:
وصح بيع عشرة أسهم من مائة سهم من دار لا بيع عشرة أذرع من مائة ذراع منها وعندهما يصح فيهما
تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (4/ 7) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
قال (وفسد بيع عشرة أذرع من دار لا أسهم) أي لا يفسد بيع عشرة أسهم من دار وهذا مشكل فإنه لو باع عشرة أسهم من دار وغيرها ولم يقل من مائة سهم ونحوه يفسد؛ لأنه مجهول لا تعرف نسبته إلى جميع الدار، بخلاف ما إذا قال عشرة أسهم من مائة سهم أو من ثلاثين مثلا حيث يجوز؛ لأنه معلوم، عشر أو ثلث ولعل الشيخ قصد هذا ولكن إجحافه في الاختصار أداه إليه، وقوله وفسد بيع عشرة أذرع من دار هو قول أبي حنيفة - رحمه الله -، واختلف المشايخ على قولهما فمنهم من قال: لا يجوز عندهما للجهالة بمنزلة ما لو اشترى سهما منها أو عشرة أسهم منها ولم يقل من كذا سهما ومنهم من قال: يجوز؛ لأن هذه الجهالة يمكن رفعها بالذرع فتعرف فلا تفضي إلى المنازعة، بخلاف ما لو اشترى سهما منها أو عشرة أسهم إذ لا يمكن رفع الجهالة فيه ولو باع عشرة أذرع من مائة ذراع فسد عنده وعندهما يجوز إذا كانت الدار مائة ذراع لأنه عشرها فأشبه عشرة أسهم من مائة سهم، وله أن الذراع اسم لآلة يذرع بها واستعير لما يحله الذراع وهو معين لا مشاع ثم لا يعلم محله من أي الجوانب هو على التعيين فلا يجوز كما لو باع أحد العبدين، بخلاف ما إذا باع عشرة أسهم من مائة سهم؛ لأنه شائع فلا يفضي إلى المنازعة، وذكر الخصاف أن جملة الذرعان، وأما إذا علم جملتها فيجوز عنده فجعلها نظير بيع شياه من القطيع كل شاة بدينار فإنه إن علم عددها جملة يجوز عنده وإلا فلا والصحيح أنه لا يجوز عنده مطلقا.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 276) دار الفكر،بيروت:
ولما وضع المسألة في الجامع في عشرة أذرع من مائة ذراع ظهر أن ما قال الخصاف من أن الفساد عنده فيما إذا لم يعرف جملة الذرعان؛ وأما إذا عرف جملتها فالبيع عنده صحيح غير واقع من جهة الرواية، وكذا من جهة الدراية فإن الفساد عنده للجهالة كما قلنا، وبمعرفة قدر جملة المبيع
لا تنتفي الجهالة عن البعض الذي بيع منه، واختلف المشايخ على قولهما فيما إذا باع ذراعا أو عشرة أذرع من هذه الأرض، ولم يسم جملتها فقيل على قولهما لا يجوز؛ لأن صحته على قولهما باعتبار أنه جزء شائع معلوم النسبة من الكل، وذلك فرع معرفة جملتها، والصحيح أنه يجوز لأنها جهالة بأيديهما إزالتها بأن تقاس كلها فيعرف نسبة الذراع أو العشرة منها فيعلم قدر المبيع.
العناية شرح الهداية (6/ 275) دار الفكر،بيروت:
ولا فرق عنده بين ما إذا علم جملة الذرعان كما إذا قال عشرة أذرع من هذه الدار من مائة ذراع، وبين ما إذا لم يعلم، كما إذا قال عشرة أذرع من هذه الدار من غير ذكر ذرعان جميع الدار في الصحيح لبقاء الجهالة المانعة من الجواز خلافا لما يقوله الخصاف أن الفساد إنما هو عند جهالة جملة الذرعان............وذكر أبو زيد الشروطي رحمه الله إنه على قولِ أبي حنيفة رحمه الله البيع فاسد وإن علم جملة الذرعان وهو جواب الجامع الصغير وهو الصحيح.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 315) دار الكتاب الإسلامي، بيروت:
(قوله وفسد بيع عشرة أذرع من دار لا أسهم)، وهذا عند أبي حنيفة، وقالا هو جائز كما لو باع عشرة أسهم من دار ومبنى الخلاف في مؤدى التركيب فعندهما شائع كأنه باع عشر مائة وبيع الشائع جائز اتفاقا وعنده مؤداه قدر معين والجوانب مختلفة الجودة فتقع المنازعة في تعيين مكان العشرة فيفسد البيع فلو اتفقوا على مؤداه لم يختلفوا فهو نظير اختلافهم في نكاح الصابئة. فالشأن في ترجيح المبنى هو يقول الذراع اسم لما يذرع به فاستعير لما يحله ومعين بخلاف عشرة أسهم؛ لأن السهم اسم للجزء الشائع فكان المبيع عشرة أجزاء شائعة من مائة سهم أطلقه فشمل ما إذا بين جملة الذرعان كأن يقول من مائة ذراع أو لم يبين وبه اندفع قول الخصاف إن محل الفساد عنده فيما إذا لم يبين جملتها وليس بصحيح، ولهذا صور المسألة في الهداية فيما إذا سمى جملتها لكن اختلف المشايخ على قولهما فيما إذا لم يسم جملتها والصحيح الجواز عندهما؛ لأنها جهالة بأيديهما إزالتها وقوله لا أسهم معناه لا يفسد بيع عشرة أسهم من دار وهو مقيد بما إذا سمى جملتها؛ لأن عند عدمها يفسد البيع للجهالة؛ لأنه لا يعرف نسبته إلى جميع الدار.
فقه البيوع للشيخ محمد تقي العثماني (377/1) مكتبة معارف القران كراتشي:
وقد تباع قطعة من الأرض مقدرة بالخطوات أو الأمتار، ولكن يترك تعيينها للمستقبل وهذا يكون عادة في أرض واسعة تشتريها شركة، ثم تبيع قطعاتها لعامة الناس تقدر بالخطوات أو الأمتار، فمثلا: كل قطعة منها بقدر خمس مائة متر، ولكن لا يتعين محل تلك الخمسمائة عند الشراء. وإنما يتعين حسب التصميم الذي تعمله الشركة فيما بعد.
فالسؤال: هل يصح هذا البيع على أنه بيع حصة مشاعة من تلك الأرض الواسعة؟ وهل يجوز لمن يشتريها أن يبيعها إلى آخر؟ وتخرج هذه المسئلة على ما ذكره الفقهاء الحنفية من أن من باع عشرة أذرع غير معينة من دار، فإن هذا البيع فاسد عند الإمام أبي حنيفة رحمه الله تعالى، لجهالة قدر المبيع،
فإن جوانب الدار مختلفةالجودة، فتقع مشاعة من الدار، وبيع المشاع جائز. ثم فسر بعض الفقهاء قولهما بأنه يصح البيع عندهم على أساس الشيوع بشرط أن يعلم مقدار جملة الدار، ولکن قال اخرون: قولهما لايقتصر علي تلك الصورة، بل الصحيح أنه يجوز البيع عندهما، وإن لم يكن مقدار الكل معلوما، لإن هذه جهالة بيدهما إزالتها.
وعلى هذا، فإن بيع قطعة غير معيّنة من جملة القطعات لايجوز عند الامام أبي حنيفة رحمه الله تعالى، ويجوز عند صاحبيه. والظاهر أنه إن كانت جهالة التعيين تفضي إلى المنازعة، فالإخذ بقول الإمام أبي حنيفة أولى، وإن لم تكن مفضية إلى المنازعة فقول الصاحبين أولى.
بحوث في قضايا فقهية معاصرة(ج:2ص:96) للشيخ محمد تقي العثماني، مكتبه دارالعلوم كراچي:
خلاصة حكم هذا النوع من الحقوق :
ومن المناسب قبل أن تتقدم أن نحرر ما تحصل مما سبق من النصوص الفقهية ، وهي أمور:
1۔إن تعريف البيع أمر اختلف فيه الفقهاء ، فالشافعية والحنابلة يشترطون في المبيع أن يكون عينا ، پل بجوزن بيع المنافع المؤيدة وكذلك يظهر من بعض فروع المالكية .
2۔ إن الحنفية وإن اشترطوا في البيع أن يكون المبيع عينا ، ولكنهم أجازوا بيع حق المرور ، وعللوا ذلك بأنه حق يتعلق بعين ،فأخذ حكمه في جواز البيع
3۔ ويظهر من ذلك أن الحقوق المتعلقة بالأعيان حكمها عندالحنفية حكم الأعيان ، فيجوز بيعها ما لم يكن هناك مانع آخر من البيع ، مثل الغرر أو الجهالة .
4 ـ إن الحقوق التي لاتتعلق بالأعـيـان ، مثل حق التعلى لايجوز بيعها عند الحنفية ، ولكن يجوز الاعتياض عنها بطريق الصلح على ما ذكره بعضهم . وفي ضوء هذه النقاط الأربعة نستطيع ان نقول : إن بيع هذا النوع من الحقوق العرفية ، وهو حق الإنتفاع بالاعيان ، جائز عند الأئمة الثلاثة الحجازيين ، وإنما منع منه الحنفية ، فقالوا : لايجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة ، ولكن هذا الحكم عندهم ليس بهذا العموم الذي يتوهم
من لفظه ، بل استثنى منه الفقهاء بعض الحقوق التي تتعلق بالأعيان . وإن للعرف مجالا في إدراج بعض الاشياء في العموم الأموال ، فإن المالية كما يقول ابن عابدين ـ رحمه الله يثبت بتمول الناس . فلو كانت بعض الحقوق تعتبر في العرف أموالامتقومة ، وتعامل بها الناس تعامل الأموال ، ينبغي أن يجوز بيعها عندهم أيضا بشروط آتية :
1 ـ أن يكون الحق ثابتا في الحال ، لامتوقعا في المستقبل.
2 ـ أن يكون الحق ثابتا لصاحبه أصالة ، لالدفع الضرر عنه - تثبت- والأموال في تداولها.
3 ـ أن يكون الحق قابلا للانتقال من واحد إلى آخر
4 ـ أن يكون الحق منضبطا بالضبط ، ولايستلزم غررا أوجهالة.
5ـ أن يكون في عرف التجار يسلك به مسلك الأعيان والأموال في تداولها.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
17/ربيع الثانی 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


