| 78459 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
سوال:1979سےمجھ پرزکوۃ واجب تھی 1999تک بغیر حساب زکوۃ ادا کی ،سن 2000سےحساب لگاکرزکوۃ اداکی،2012 میں میں نےرہائشی مکان فروخت کردیااوراس سےحاصل شدہ رقم پرزکوۃ اداکررہاہوں،2012سےاب تک میری ملکیت میں دوسراکوئی مکان نہیں ہے،استعمال کی اشیاء ہیں،سوناچاندی نہیں ہے،موجودہ بیوی اپنی زکوۃ خوداداکرتی ہے،معلوم کرناہےکہ اب میں کتنی زکوۃ اداکروں،اورگزشتہ سالو ں کی زکوۃ کاکیاحکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
"سونا،چاندی،نقدی اورمال تجارت" یہ سب یا ان میں سےبعض کامجموعہ ساڑھےباون تولہ چاندی کی قیمت کےبرابر پہنچ جائے تو زکوۃ واجب ہوجاتی ہے،صورت مسئولہ میں چونکہ آپ کےپاس فروخت شدہ مکان کی نقدی موجود ہےلہذاآپ پرزکوۃ واجب ہے(اگرچہ ملکیت میں کوئی مکان،سوناچاندی وغیرہ نہ ہو )،سوال کےمطابق آپ 2012 سے زکوۃ (گزشتہ سالوں کی زکوۃ ) ادا کررہےہیں تو جب تک آپ کی ملکیت میں ساڑھےباون تولہ چاندی کی قیمت کےبرابر رقم موجودرہےگی آپ پرزکوۃ واجب ہوگی۔
استعمال کی اشیاء پرزکوۃ واجب نہیں ہوتی ۔
جتنی رقم ہو،اس کاچالیسواں حصہ زکوۃ کےطورپر دینا لازم ہوتاہے۔
حوالہ جات
۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
13/جمادی الاولی 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


