03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
  حلق کےبجائےقصر کروایاتودم یافدیہ وغیرہ لازم نہیں ہوگا
78460حج کے احکام ومسائلجنایات حج کا بیان

سوال

سوال:میں نے1979میں حج کیا،میں نے4ساتھیوں کےساتھ ایک چھوٹی کارمیں دمام سےسفر شروع کیا ،ہم پانچوں کاسامان ایک دوسرےساتھی کی بڑی کارمیں تھا،بڑی کارمیں ایک صاحب اپنی فیملی کےساتھ تھے،عرفات سےواپسی پرہم چھوٹی کاروالے5 ساتھی بڑی کار سےبچھڑگئے،اوراس طرح ہم کورات گزارنےاوردیگراخراجات کےلیےمشکل پیش آئی ،میں قربانی نہ کرسکااورنہ ہی سرکےبال پورےاترواسکا،فدیہ کتنا اداکیاجائے؟

تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ صرف حج ہی کااحرام باندھا تھا۔اورحلق نہیں کیا،البتہ سرکےکچھ بال کاٹ وہیں حرم میں ہی کاٹ دیےتھے،پورےبال نہیں اترواسکا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اِحرام سے حلال ہونے کے لیے ہے ’’حلق‘‘ یا ’’قصر ‘‘ ضروری ہے،اس کوچھوڑنےسےدم لازم ہوتاہے، افضل یہ ہے کہ مرد حضرات پورے سر کے بال منڈوائیں اسے ’’حلق‘‘  کہاجاتاہے۔اوراگر کوئی شخص حلق نہیں کروانا چاہتا تو  کم از کم چوتھائی سر کے بال ایک پورے کی مقدار قصر کرنا ضروری ہے، سر کےجس حصے سے بھی چوتھائی سر کی مقدار ایک پورے کے بقدر بال کاٹ دیے تو احرام سے حلال ہوجائے گا۔البتہ قصر کی صورت میں بھی بہتر یہ ہے کہ پورے سر کے بال ایک پورے کے برابر کاٹے۔  چوتھائی سر سے کم اور ایک پورے  کی لمبائی سے کم مقدار بال کاٹنا عمرہ یا حج کے احرام سے حلال ہونے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ لہٰذا اگر کسی مرد کے بال پہلے سے ایک پورے سے چھوٹے ہوں تو ایسی صورت میں قصر کی اجازت نہیں ہوگی، بہر صورت حلق ہی کرانا ہوگا۔ 

صورت مسئولہ میں سائل کی وضاحت کےمطابق چونکہ اتنےبال کٹ گئےتھے،جتنےقصرکےلیےشرعاضروری ہیں،لہذا آپ کاحج مکمل ہوگیاہےکوئی دم یافدیہ وغیرہ لازم نہیں  ہوگا۔

جہاں تک قربانی کامسئلہ ہےتو چونکہ آپ نےحج افراد کی نیت کی تھی،لہذاآپ پرشرعا قربانی لازم نہیں  تھی،لہذافدیہ بھی لازم نہیں ۔

حوالہ جات

۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

13/جمادی الاولی   1444ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب