| 78502 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں ایک کمپنی میں مارکیٹنگ کاکام کرتاہوں اوردوسری کمپنیوں سےآڈرلیتا ہوں،جس کےعوض مجھے کمیشن ملتا ہے،ایک کمپنی ہےجس کاپرچیزر مجھےاس شرط پرکام دیتاہے کہ جو بھی ریٹ طےہوتا ہے اسکےبعدوہ اپناکچھ حصہ اس میں ایڈکردیتاہے،مثلا کسی چیزکاریٹ 1 روپے پرپیس طےہوا،اس کےبعدجو پرچیزرہےوہ کہتاہے کہ آپ کاریٹ1روپیہ ہی ہے،لیکن بل آپ 1.20 کے حساب سےبناؤگےاوریہ جو 20 پیسے ہیں،وہ آپ مجھےدوگے۔اب اگر 20 پیسےاسکے شامل نہیں کرتےتووہ کام نہیں دےگا۔اب میرےلئےکیاحکم ہے؟کیامیں اس کےساتھ کام کرسکتاہوں؟برائےمہربانی رہنمائی فرمائیں۔شکریہ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ طریقہ دھوکہ ، فریب اور خیانت اور رشوت میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، اس لیے کہ پر چیزر اپنی کمپنی کا ملازم ہے اور اس کو اس کی اجرت ملتی ہے اور وہ کمپنی کے لیے حقیقی قیمت پر آرڈر دینے کا پابند ہے ، جبکہ اس طرز عمل میں وہ ایک طرف تو کمپنی سے کئے گئےمعاہدے کی رو سے اپنی منصبی ذمہ داری میں کوتاہی کا مرتکب ہورہا ہے تو دوسری طرف وہ آپ سے(آپ کی کمپنی کےذمہ داران کے علم میں یہ کاروائی ہونے کی صورت میں) آرڈر کے بدلے رشوت بھی مانگ رہا ہے اور(کمپنی کی لاعلمی کی صورت میں)غلط بیانی سے اس کی وصولی اپنی کمپنی سے کروارہا ہے، لہذا یہ معاملہ جائز نہیں اوررشوت ہونے کی صورت میں پرچیزرکایہ اضافی رقم لیناتوکسی طرح جائز نہیں اوراس کو رشوت دینے کی بھی گنجائش نہیں۔
حوالہ جات
۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۹جمادی الاولی۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


