| 78529 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
آج کل لوگ دستار بندیوں کے موقع پر مشہور خطباء حضرات کو بلاتے ہیں اور یہ خطیب حضرات ایک ایک
بیان کے تقریبا بیس سے پچیس ہزار روپے لیتے ہیں،واضح رہے کہ یہ رقم خطیب کی گاڑی کے کرایہ سے دو تین گنا زیادہ ہوتی ہے،کیا خطیب حضرات کے لئے یہ رقم لینا شرعا درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وعظ و تقریر دین کی تبلیغ کا ایک حصہ ہے جو بغیر کسی دنیاوی طمع و لالچ کے ہونی چاہیے،لیکن اگر کسی عالم کو لوگ اکثر و بیشتر وعظ و تقریر کے لئے بلاتے رہتے ہوں جس کی وجہ سے ان کا اچھا خاصا وقت اس میں صرف ہوجاتا ہو اور انہوں اس مقصد کے لئے اپنے اوقات کو فارغ کیا ہو تو ان کے لئے اس پر اجرت لینا جائز ہے۔
("احسن الفتاوی":7/ 300)
لہذا آمد ورفت کے کرایہ سے زیادہ رقم لینے کی بھی شرعا گنجائش ہے۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (6/ 55):
"(قوله ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى اهـ، وقد اقتصر على استثناء تعليم القرآن أيضا في متن الكنز ومتن مواهب الرحمن وكثير من الكتب، وزاد في مختصر الوقاية ومتن الإصلاح تعليم الفقه، وزاد في متن المجمع الإمامة، ومثله في متن الملتقى ودرر البحار،وزاد بعضهم الأذان والإقامة والوعظ، وذكر المصنف معظمها".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
20/جمادی الاولی1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


