| 78538 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
بینک میں خیروبرکت کے لیے یومیہ تلاوت کرنا اور اجرت لینا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خیروبرکت کےلیےقرآنِ پاک پڑھنا اوراُس پراُجرت لینافی نفسہ جائز ہےجس کاثبوت حدیثِ پاک میں موجود ہے۔لیکن اس میں اس بات کو ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے کہ کسی ناجائز کام میں اضافے کے لیے قرآنِ پاک پڑھنا یا کسی جائز کام لیے قرآن ِپاک پڑھ کر اس کی اجرت حرام مال سے حاصل کرنا نا جائزوحرام ہے۔لہذا اگر کوئی بینک سودی لین دین کرتا ہے تو اس میں اضافے کے لیے قرآنِ پاک پڑھنا اور بینک کی حرام آمدن میں سے اجرت حاصل کرنا دونوں نا جائز وحرام کام ہونگے،بلکہ اس کو حلال سمجھ کر کرنے میں کفر کا اندیشہ بھی ہے۔البتہ اگر کوئی بینک غیر سودی ہے تو اس میں خیر و برکت کے لیے قرآنِ پاک پڑھنا اوراس پر اجرت لینا جائز ہو گا۔
حوالہ جات
روی الإمام البخاری رحمہ اللہ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال:أن نفرا من أصحاب النبي صلى اللہ عليه وسلم مروا بماء، فيهم لديغ أو سليم، فعرض لهم رجل من أهل الماء، فقال: هل فيكم من راق، إن في الماء رجلا لديغا أو سليما، فانطلق رجل منهم، فقرأ بفاتحة الكتاب على شاء، فبرأ، فجاء بالشاء إلى أصحابه، فكرهوا ذلك وقالوا: أخذت على كتاب اللہ أجرا، حتى قدموا المدينة، فقالوا: يا رسول اللہ، أخذ على كتاب اللہ أجرا، فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم:إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب اللہ.(صحيح البخاري:رقم الحدیث5405)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:وتحرم عند استعمال محرم، بل في البزازية وغيرها يكفر من بسمل عند مباشرة كل حرام قطعي الحرمة.(رد المحتار:1/80)
قال العلامۃ شهاب الدين محمود الألوسي رحمہ اللہ: التسمية على الحرام والمكروه مما لا ينبغي بل هي حرام في الحرام لا كفر على الصحيح مكروهة في المكروه وقيل مكروهة فيهما إن لم يقصد استخفافا، وإن قصده- والعياذ باللہ تعالى- كفر مطلقا.
محمد عمر الیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
20جمادی الاولی،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


