| 78856 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
كبوتر بازى كى شرعی حیثیت کیاہے ؟کیاکبوترپالنا بھی گناہ ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کبوتر بازی بہت سے خرابیوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ، اس میں وقت کا ضیاع ہے ، اسی طرح گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر کبوتر اڑایاجاتاہے جس سے دوسروں کے گھروں میں نظر پڑتی ہے، یہ بھی شرعاً درست نہیں ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔البتہ کبوتر پالنے کی گنجائش ہے بشرطیکہ اس کی ضروریات کا خیال رکھا جائے ۔
حوالہ جات
عن أنس قال كان النبي صلى الله عليه وسلم أحسن الناس خلقا، وكان لي أخ -يقال له: أبو عمير- قال: أحسبه فطيم، وكان إذا جاء قال: يا أبا عمير، ما فعل النغير ! نغر كان يلعب به، فربما حضر الصلاة وهو في بيتنا، فيأمر بالبساط الذي تحته فيكنس وينضح، ثم يقوم ونقوم خلفه فيصلي بنا.
(صحیح البخاری: ( رقم الحدیث: 6203)
لا بأس أن یعطی الصبي الطیر لیلعب به من غیر أن یعذبه .(مرقاۃ المفاتیح: 4/ 659 )
عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنه أن رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم رأی رجلا یتبع حمامة فقال شیطان یتبع شیطانة. (سنن أبی داؤد: رقم الحديث :5940)
یکرہ إمساک الحمامات ولو فی برجھا إن کان یضر بالناس بنظر أوجلب .... وأما للاستیناس فمباح .
(ردالمحتار: 6 / 401 )
محمدادریس
دارالافتاء،جامعۃ الرشید، کرچی
/22 جماد ی الاولی /1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


