| 78611 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
کسٹم مال کےخریدنے اوربیچنےکاحکم تفصیل سے بیان فرمائیں اوراگرکسی سرکاری بندےسےاس مال کوخریداجائے توکیاحکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسٹم کا مال نیلام کے وقت یا کسٹم کے کسی ملازم سے خریدنے کی تفصیل درج ذیل ہے:۔
(1)۔جس چیز کی قانونا اجازت ہوتی ہے کسٹم افسران کا بلا وجہ اس کو ضبط کرنا یا بندے کو اس بات پر مجبورکرنا کہ وہ چیز چھوڑ کر چلا جائے ، صریح ظلم ہے ،اس ظلم سے توبہ کرنا اور اصل مالک کو تلاش کرکے اس کی اشیاء اسے واپس پہنچانا شرعاً ضروری ہے، اور جس شخص کو کسی متعین شیٔ یا اشیاء کے بارے میں اس صورتِ حال کا یقینی طور سے علم ہواس کےلیے ان اشیاء کو اصل مالک کی اجازت کے بغیر خریدنا یا استعمال کرنا جائز نہ ہوگا۔
(2)۔اسمگلر اپنا سامان چھوڑ کر بھاگ جائے اور سامان کا مالک نا معلوم ہو اور کوئی شخص اس سامان کی ملکیت کا دعویٰ
بھی نہ کرے تو اس صورت میں لقطہ کا حکم جاری ہوگا ،یعنی اس سامان کے مالکوں کو تلاش کیا جائے اگر وہ مل جائیں اور قانونی طور پر ٹیکس دینے کے لیے تیار ہوں تو انہیں ان کا مال قانونی کاروائی کے بعدواپس کردیا جائے ۔اور اگر اس سامان کے مالک اپنا مال لینے کے لیے نہ آئیں اور ان سے رابطہ بھی ممکن نہ ہو اور اعلان کے باوجود اتنی معتدبہٖ مدّت بھی گذر جائے کہ ظنِ غالب کے مطابق مالک کی واپسی اب بظاہر ممکن نہ ہو تو یہ سامان لقطہ ہےاور چونکہ یہ لقطہ حکومت کے قبضہ میں ہے اس لیے یہ اشیاء بیچ کر اس کی رقم لاوارث اور محتاج فقراء اور مساکین پر صرف کی جائے کیونکہ لقطہ کے اصل مستحق یہی مذکورہ افراد ہیں۔
(3)۔ اگر حکومت ان اشیاء کو فروخت کرکےان کی رقم سرکاری خزانہ میں جمع کردے اور مصالح مسلمین پر صرف کردے یا یہ اشیاء قانون کے مطابق اپنے کسی ملازم کو مالکانہ طور پربطورِ انعام دیدے یا ان اشیاء کو فروخت کرکے ان کی رقم قانون کے مطابق ملازمین میں تقسیم کردے تو بھی شرعاً ان ملازمین کے لیے یہ اشیاء لینا یا ان کی رقم کا لینا جائز
ہوگا،ان ملازمین کے لیے ملکیت ثابت ہوجائے گی اور انہیں یہ اشیاء استعمال کرنے اور آگے فروخت کرنے کی بھی
شرعاً اجازت ہوگی ۔
(4) ۔ حکومت کی طرف سے بااختیار مجاز افسران کا ملازمین میں سے کسی کو ضبط شدہ مال محکمہ کے ضابطہ کے مطابق بطور انعام دینا جائز ہے اور جس ملازم کو یہ اشیاء ملیں اس کے لئے یہ حلال ہیں ۔اور وہ آگے بیچ سکتا ہے،اس سے یہ مال خریدنا بھی جائز ہے۔
(4) افسر مجاز کی(ضابطہ کے مطابق)قانونی کاروائی کےبغیر کسی ملازم کا ان اشیاء کو لے لینا شرعاً جائز نہیں،یہ چوری اور غصب میں داخل ہے،لہذاعلم ہوتے ہوئے ایسے ملازم سے یہ خریدنا بھی ناجائز ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم: (النساء، الایة: 29):
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا۔
مشکوۃ المصابیح: (1/255):
وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه ؓ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه ".رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى.
السنن الكبرى للبيهقي (5/548):
"عن شرحبيل مولى الأنصار عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " من اشترى
سرقةً وهو يعلم أنها سرقة فقد أشرك في عارها وإثمها .
البحر الرائق: (5/170):
"(قوله: وينتفع بها لو فقيراً وإلا تصدق على أجنبي ولأبويه وزوجته وولده لو فقيراً) أي ينتفع الملتقط باللقطة بأن يتملكها بشرط كونه فقيراً نظراً من الجانبين كما جاز الدفع إلى فقير آخر، وأما الغني فلايجوز له الانتفاع بها، فإن كان غير الملتقط فظاهر للحديث فإن لم يجئ صاحبها فليتصدق بها، والصدقة إنما تكون على الفقير كالصدقة المفروضة وإن كان الملتقط فكذلك ... وإنما فسرنا الانتفاع بالتملك؛ لأنه ليس المراد الانتفاع بدونه كالإباحة، ولذا ملك بيعها وصرف الثمن إلى نفسه كما في الخانية أطلق في عدم الانتفاع للغني فشمل القرض ولذا قال في فتح القدير وليس للملتقط إذا كان غنياً أن يتملكها بطريق القرض إلا بإذن الإمام وإن كان فقيرا فله أن يصرفها إلى نفسه صدقةً لا قرضاً اه".
الدر المختار مع رد المحتار: (5/390):
"قلت: وسيجيء في الحجر أنه يباع ماله لدينه عندهما وبه يفتى وحينئذ فلا يتأبد حبسه فتنبه.
(قوله: وحينئذ فلايتأبد حبسه) أي على قولهما، وكذا على قوله إن كان ماله غير عقار ولا عرض بل كان من الأثمان، ولو خلاف جنس الدين كما قدمناه".
و فیه ایضاً: (5/387):
" لايبيع القاضي عرضه ولا عقاره للدين خلافاً لهما، وبه أي بقولهما يبيعهما للدين يفتى، اختيار، وصححه في تصحيح القدوري ويبيع كل ما لايحتاجه للحال اه".
و فیه ایضاً: (5/98):
"وفيه: الحرام ينتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلينا ملكه وصح بيعه، لكن لايطيب له ولا للمشتري منه".
(قوله: الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك، ويأتي تمامه قريباً (قوله: ولا للمشتري منه) فيكون بشرائه منه مسيئاً؛ لأنه ملكه بكسب خبيث، وفي شرائه تقرير للخبث، ويؤمر بما كان يؤمر به البائع من رده على الحربي؛ لأن وجوب الرد على البائع إنما كان لمراعاة ملك الحربي ولأجل غدر الأمان، وهذا المعنى قائم في ملك المشتري كما في ملك البائع الذي أخرجه
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
22/جمادی الاولی1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


