| 78060 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
مجھےایک مسئلےکےبارےمیں رہنمائی درکارہے،مجھ پر تقریباً 5 لاکھ روپے قرض ہے،میں ایک معذور انسان ہوں اور مزدوری کرکے ماہانہ 8 ہزار تک کماتا ہوں،شادی شدہ اورایک بیٹی کاباپ ہوں، میری بیوی کےپاس تقریباً آدھا تولہ سونے کا زیور ہے،جو کہ اسےاسکی والدہ نے دیا تھا،میرے پاس ذاتی سوناچاندی وغیرہ نہیں ہے۔ کیا میں کسی سےخالصتاً قرض کی ادائیگی کیلئے زکوۃ لیکر قرض ادا کرسکتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب آپ کی ملکیت میں نصاب کے بقدر سونا چاندی نقدی مال تجارت نہیں، بلکہ آپ مقروض بھی ہیں تو ایسی صورت میں آپ زکوۃ کی رقم لے سکتے ہیں،جس سے قرضے بھی ادا کرسکتے ہیں،خود پراور اپنی بیوی پر بھی خرچ کرسکتے ہیں،اگرچہ وہ صاحب نصاب ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 343)
(ومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) وفي الظهيرية: الدفع للمديون أولى منه للفقير.
(قوله: لا يملك نصابا) قيد به؛ لأن الفقر شرط في الأصناف كلها إلا العامل وابن السبيل إذا كان له في وطنه مال بمنزلة الفقير بحر، ونقل ط عن الحموي أنه يشترط أن لا يكون هاشميا (قوله: أولى منه للفقير) أي أولى من الدفع للفقير الغير المديون لزيادة احتياجه.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۳۰ربیع الاول۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


