03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت کے مال میں ماں ،بیوی اور بیٹی کا حصہ
78582میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ!

عبد العزیز بن خیال اعظم خان جو عرب امارات میں مزدوری کر رہاتھا عبد العزیز کی وفات سے پہلے خیال اعظم خان فوت ہوچکے تھے،عبدالعزیز ولد خیال اعظم خان عرب امارات میں ہی فوت ہوگئے۔انہوں نے وہاں جتنے پیسے کمائے تھے وہ اپنے بھائی محمد داؤد ولد خیال اعظم خان کو سارے پیسے بھیج دیے تھے،عبد العزیز کے بھائی محمد داؤد نے سارے پیسے اپنے کاروبار میں استعمال کئے ہیں ،مذکورہ بیان سے درج ذیل سوالات اخذ ہیں:۔

عبدا لعزیز کے کمائے ہوئے پیسوں میں اس کی ماں ،بیوی اور ایک بیٹی کا حصہ ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عبد العزیز اور محمد داود مشترکہ طور پر گھر چلارہے تھے،جس میں آنے والا خرچ ،کاروبار اور نفع ان کے درمیان مشترک تھا،دونوں کے منافع کی حد بھی معلوم نہیں تھی،اس لیے سب چیزوں میں یہ برابر شریک شمار ہوں گے۔لہذا جو حصہ اس میں سے عبد العزیز کا بنے گا،اس میں ماں،بیٹی اور بیوی کا حصہ بھی ہوگا ۔البتہ مکمل حصوں کی تفصیل تمام ورثہ کی تعداد اور فوت شدہ شخص کے ساتھ ان کا رشتہ بتانے پر موقوف ہے۔

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

23/جمادی الاولی1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب