| 78588 | خرید و فروخت کے احکام | دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت |
سوال
ہنڈی کے کاروبار کرنے کا شرعا کیاحکم ہے ؟۲۔ اور اس کی آمدن کا کیاحکم ہے ؟۳۔اگر پورا لین دین کیش پر ہو اورادھار میں ریٹ چینج نہ ہو تو کیاحکم ہے ؟۴۔ اور اگر ادھار میں ریٹ چینج ہو تو کیاحکم ہوگا مثلا بندہ دبئی میں ہے اور درہم کی قیمت 60 روپے پاکستانی ہے ،پاکستان میں اداکرنے کی صورت میں 66 روپے کی بات طئے ہوئی اب کیاحکم ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
﴿1 ﴾ ہنڈی کا کاروبار اس کے ذریعہ ایک ملک سے دوسرے ملک رقم بھیجوانا تین شرائط کے ساتھ جائز ہے ۔
١۔ دوسرے ملک کی کرنسی کے ساتھ تبادلہ ثمن مثل کے ساتھ کیاجائے ۔ یعنی عام مارکیٹ میں معاملہ کے دن اس کرنسی کی جو قیمت ہے اسی قیمت سے تبادلہ کیاجائے ،قیمت اس سے کم زیادہ مقرر نہ کی جائے ۔
۲۔دونوںعوضوں میں سے کسی ایک پرمجلس عقد میں قبضہ کیاجائے ،یعنی اگردبئی میں درہم لیکر پاکستان میں ، پاکستانی روپے ادا کرنا چاہتا ہے تو پہلے مجلس عقد میں درہم پر قبضہ کرلے ۔
۳۔ ہنڈی کے ذریعہ رقم بھیجنا قانونا منع نہ ہو ۔
﴿2﴾ مذکورہ بالا شرائط میں سے اگر پہلی اوردوسری شرائط کا لحاط نہ رکھا گیا تو معاملہ سرے سے ناجائز ہوگا ،اور کمائی حرام ہوجائے گی ۔ اور اگر تیسری شرط کا لحاط نہ رکھا گیا تو قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا ،باقی معاملہ فی نفسہ درست رہے گا۔یعنی کمائی حرام نہیں ہوگی ۔
﴿ ماخذہ اسلام اور جدید معاشی مسائل مجموعہ رسائل شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثانی ﴾
اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کی مختلف شقوں کاحکم یہ ہے کہ پہلی صورت جس میں لین دین کیش پر ہو یعنی درہم مجلس عقد میں نقد ادا کیا جا ئے اور اس کے بدلے میں پاکستانی رقم بھی اسی مجلس میں ادا کی جائےیہ صورت ہنڈی کی نہیں ہے بلکہ نقد خرید وفروخت کی ہے اگر اور کوئی خرابی نہ ہو تو بلاشبہ جائز ہے ۔
دوسری صورت کہ ایک طرف سے درہم دبئی میں اد ا کرےاور اس کے مقابلے میں پاکستانی رقم پاکستان میں اد ا کی جائے اور ریٹ میں تبدیلی نہ ہو تو فی نفسہ یہ معاملہ جائز ہے،لیکن اس طرح پرائیویٹ طور پر ہنڈی کے کاروبار میں ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو نقصان پہنچتا ہے اس لئے حکومت کی طرف سے اس کاروبار پر پابندی ہے لہذاجب تک یہ پابندی بر قرار ہے حکومتی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہنڈی کا کاروبار كرنا جائز نہیں ہوگا ۔
تیسری صورت کہ سعر الیوم یعنی اس دن کی مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر فروخت کرنا مثلا معاملہ کے دن درهم كی قیمت 60 روپے پاكستانی هے اس كو ادھار 66 روهے پر فروخت کی یہ چونکہ سودی کاروبار کے لئےحیلہ بنتا ہے اس لئے جائز نہیں ۔
چوتھی صورت معاملہ ادھا ر کا ہو کہ 1000 دراہم کے عوض پاکستان میں 66000 ہزار ادا کئے جائیں لیکن دراہم بھی ادھارہوگا یعنی 1000 دراہم کو مجلس عقدمیں ادا نہیں کیا جائے گابلکہ بعد میں کسی اور وقت ادا کرے گا تو شرعا یہ معاملہ جائز نہیں کیونکہ کرنسی کی بیع میں دونوں فریق کا بغیر قبضہ جدا ہونے سے افتراق دین بدین لازم آرہا ہے، جوکہ شرعا ناجائز ممنوع ہے ، جیسا کہ وضاحت کے ضمن اس میں اس کی تفصیل آچکی ہے۔
حوالہ جات
فقہ البیوع ﴿2/739﴾
اما تبادل العملات المختلفة الجنس مثل الربیہ الباکستانیہ بالریا ل السعودی ، فقیاس قول الامام محمد رحمہ اللہ تعالی ان تجوز فیہ النسیئة ایضا ،لان الفلوس لو بیعت بخلاف جنسھا من الاثمان مثل الدراھم فیجوز فیھا التفاضل والنسیئة جمیعا ،بشرط ان یقبض احد البدلین فی المجلس ،لئلا یودی الی الافتراق عن دین بدین ۰۰۰۰ فلاتجوز النسیئة فی الموقف الثانی وتجوز فی الموقف الثالث ھو الذی اخترتہ فی رسالتی احکا م اوراق النقدیہ
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 172)
مطلب تجب طاعة الإمام فيما ليس بمعصية
قال في الظهيرية: وهو تأويل ما روي عن أبي يوسف ومحمد فإنهما فعلا ذلك لأن هارون أمرهما أن يكبرا بتكبير جده ففعلا ذلك امتثالا له لا مذهبا واعتقادا قال في المعراج لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة اهـ
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 179)
(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر
قال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی ؛ لأن ما في الأصل لا يمكن حمله، على أنه لا يشترط التقابض، ولو من أحد الجانبين، لأنه يكون افتراقا عن دين بدين وهو غير صحيح. فيتعين حمله على أنه لا يشترط منهما جميعا بل من أحدهما فقط
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۴ جمادی الاولی ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


