03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہنڈی کے کاروبار کرنے والوں کے ہاں دعوت کھانے کاحکم
78589جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

جو  لوگ ہنڈی کا   کاروبار کرتے  ہیں  ان کے  گھر دعوت   کھانا جائز ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہنڈی کے کاروبار  کی مختلف  صورتوں کا حکم  سوال نمبر1  کے ضمن میں  بیان ہوچکا ہے ،جن کا  خلاصہ یہ ہے اگر اس  میں  سودی  معاملے شامل ہوجائیں   تو  آمدن حرام  ہے ،اگر  سودی  معاملے شامل نہ ہوں  لیکن  حکومتی   پابندی  کی خلاف  ورزی کی  بناء  پر   معاملہ ناجائز  ہو اور  کسی   نے ایسا  معاملہ  کرلیا    تو اس حاصل  ہونے والی   آمدنی  کا استعما  ل مکروہ تنزیہی  ہے ،اجتناب  اولی اور بہتر  ہے ۔

دعوت کھانے کا حکم  یہ ہے کہ  اگر کوئی خالص حرام آمدنی  سے  یا  مخلوط غالب حرام    پیسے سے   دعوت  کھلائے  تواس کھانے میں شرکت کرنا  حرام  ہے  ،اجتناب واجب ہے۔ اگر  کسی کا  مال  حلال  وحرام سے  مخلوط  ہو اورغالب حلال  ہو اس  دعوت  مین   شرکت  کی گنجائش ہے بشرطیکہ حرام سے  دعوت  کا یقین نہ ہو تاہم  اس سےبھی اجتناب اولی   ہے

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (43/ 334)

اكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل ، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه ، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها ، كذا في الملتقط

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

۲۴ جمادی الاولی ١۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب