03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سسرکے بہوکو چھونے سے حرمتِ مصاہرت کا ثبوت
78579نکاح کا بیانمحرمات کا بیان

سوال

ایک شخص نے علیحدگی کے وقت میں اپنی بہو کو گلے لگایا اور اس کے رخسار پر دو تین مرتبہ بوسہ لیا، پھر بہو کو جب اس کے خطرناک ارادے کا احساس ہوا تو وہ زبردستی چھڑا کر بھاگ گئی، سسراب اپنے اس فعل پر بہت نادم اور شرمندہ ہے، وہ کہتا ہے میں کفارہ وغیرہ ادا کرنے کو تیار ہوں، لڑکے والوں نے اہلِ حدیث مکتبِ فکر سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا حرمت ثابت نہیں ہوئی،کیونکہ کسی تیسرےآدمی کے فعل سے  زوجین کا نکاح ختم نہیں ہو سکتا۔اب لڑکی کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ آپ اہل حدیث کے فتوی پر عمل کرو اور اپنے خاوند کے گھر جاؤ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب لڑکی اپنے خاوند کے پاس جا سکتی ہے اور ان کا نکاح برقرار ہے؟ کیا ان کے درمیان حرمتِ مصاہرت ثابت ہو چکی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ دواعی زنا یعنی بغیر شہوت کے ساتھ  عورت (بیوی کے علاوہ کوئی بھی عورت خواہ، محرم ہو یا غیر محرم) كو چھونے یا مخصوص اعضاء کی طرف  دیکھنے سے فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کے نزدیک حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے، اس پر تمام فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کا اتفاق ہے اور حنابلہ کی بھی ایک روایت یہی ہے کہ دواعی زنا سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے، جہاں تک دلائل کا تعلق ہے تو بعض احادیث میں اس سےحرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کا ذکر صراحتاً موجود  ہے، ان ميں سے ايك  روایت یہ ہے:

 مصنف ابن أبي شيبة (3/ 481، رقم الحدیث: 16235) مكتبة الرشد، الرياض:

جرير بن عبد الحميد، عن حجاج، عن أبي هانئ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من نظر إلى فرج امرأة، لم تحل له أمها، ولا ابنتها»

اس روايت كو علامہ بيہقی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں ذکر کرکے اس پر ضعيف اور منقطع کا حکم لگایا ہے۔[1]

جبکہ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس روایت کو ذکر کر کے علامہ بیہقی رحمہ اللہ کے حوالے سے اس کی سند کو صرف مجہول قرار دیا ہےاورمجہول راوی کی وجہ سے سند میں ضعف آجاتا ہے، لیکن یہ ضعفِ شدید نہیں، کیونکہ ائمہ جرح وتعدیل رحمہم اللہ کے نزدیک یہ کمزور درجے کی جرح ہے  اور ایسی روایت احکام کے باب میں توابع اور شواہد کے طور پر قبول ہوتی ہے، باقی علامہ بیہقی رحمہ اللہ کا منقطع کہنا ارسال کی وجہ سے ہے، کیونکہ  اس كی سند ميں كسی اور جگہ انقطاع نہیں، اس لیے یہ روایت درحقيقت مرسل ہے اور مرسل روایت فقہائے حنفیہ اور جمہور محدثین رحمہم اللہ کے نزدیک مقبول ہے، بشرطیکہ روایت کرنے والا ثقہ ہو، اسی لیے علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے اس روایت کی سند پر تفصیلی کلام کرنے کے بعد اس کو  مرسل اور اس کی سند پر" حسن" کا حکم لگایا ہے۔[2]نیز علامہ ابوبکر جصاص اور علامہ بغوی رحمہما اللہ نے لکھا ہے کہ اکثر اہلِ علم کا اس پر اتفاق ہے کہ عورت کو شہوت کے ساتھ چھونا جماع یعنی ہمبستری کے قائم مقام ہے، جس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہےاور اہلِ علم کا کسی حدیث پر عمل ہونا معنوی اعتبار سے اس کی صحت کی علامت ہے،كماصرح ابن الهمام فی فتح القدير :3/ 493): "مما يصحّح الحديث أيضاعمل العلماء على وفقه"

نیز اگر اس روایت کو مجہول راوی کی وجہ سے ضعیف بھی کہا جائے  تب بھی اس مسئلے کی بنیاد کو کمزور نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ  اس روایت کی معتبر اور مقبول  اسناد سے مروی بعض آثارِ صحابہ وتابعین سے  تائید ہوتی ہے اور ان آثار میں دواعی زنا کی صورت میں حرمت کا ثبوت صراحتاً  موجودہے۔

چنانچہ علامہ سرخسی رحمہم اللہ، علامہ کاسانی، علامہ ابن الہمام  اور علامہ زیلعی رحمہم اللہ نے ان صحابہ کرام میں حضرت عمر، حضرت عائشہ، جابر بن عبداللہ، عمران بن حصین، ابی بن کعب، عبد اللہ بن مسعود اورعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے نام ذکر کیے ہیں، یہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی عورت کو شہوت کے ساتھ چھونے اور بوسہ وغیرہ دینے کی صورت میں حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کا موقف رکھتے تھے، اسی لیے علامہ سرخسی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ہم نے اس مسئلہ میں آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے استدلال کیا ہے اور ہمارے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال وافعال بھی حجت اور دلیل ہیں، کیونکہ وہ قرآن وسنت کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے۔ قال ابن الهمام: "فالحاصل أن قول الصحابي حجة فيجب تقليده عندنا إذا لم ينفه شيء آخر من السنة" (فتح القدير للكمال ابن الهمام :2/ 68)

ان آثار کو حنفیہ کے علاوہ دیگر مذاہب کے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے بھی ذکر کیا ہے، چنانچہ علامہ موفق الدین حنبلی رحمہ اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام ذکر کرنے کے بعد تابعین میں سے حضرت قاسم بن محمد، حسن بصری، امام مجاہد، امام مکحول، حماد بن ابی سلیمان اور دیگر اکابر تابعین رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب نقل کیا ہے،اسی لیے علامہ زیلعی رحمہ اللہ نے تبیین الحقائق میں تصریح کی ہے کہ جمہور تابعین کا بھی یہی موقف تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حنفیہ کے سب فقہائے کرام رحمہم اللہ اس مسئلہ میں متفق ہیں،تلاش کے باوجود ہمیں  حنفیہ کے درمیان کہیں اختلاف نہیں ملا،  چنانچہ ظاہر الروایہ ،متونِ معتبرہ، شروح اور فتاوی وغیرہ   سب میں دواعی جماع کی صورت میں حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کی  صراحت  کی گئی ہے۔

مذکورہ  بالا تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں سسر کے اپنی بہو کو گلے لگانے اور پھر رخسار پر دو یا تین مرتبہ بوسہ دینے سے زوجین کے درمیان حرمتِ مصاہرت ثابت ہوچکی ہے(لأن تقبيل الخد دليل الشهوة غالبا كما في رد المحتار) اور ان کا نکاح شرعاً فاسد ہو چکا ہے، اب ان دونوں کے درمیان رجوع یا دوبارہ کبھی نکاح نہیں ہو سکتا، بلکہ ان دونوں پر مفارقت (ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا) لازم ہے، جس کی صورت يہ ہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی ایک دوسرے سے کہہ دے کہ میں نے تمہیں چھوڑ دیا، اس کے بعد عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اپنی نفسانی خواہش کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ کے حکم میں آسانی تلاش کرنا ایک مسلمان کے لیے کسی طرح بھی جائز نہیں، اس لیے مرد پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے عورت کو چھوڑ دے، نیز اگر بالفرض مرد نہ چھوڑے تو عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ قانونی چارہ جوئی کر کے عدالت سے تنسیخِ نکاح کی ڈگری لےلے۔

 


[1] السنن الكبرى للبيهقي (7/ 276) دار الكتب العلمية، بيروت:

 يروى فيه عن النبي صلى الله عليه وسلم " إذا نظر الرجل إلى فرج المرأة حرمت عليه أمها وابنتها،۔۔۔۔۔۔۔۔۔وهذا منقطع ومجهول وضعيف، الحجاج بن أرطاة لا يحتج به فيما يسنده۔

[2] اعلاء السنن (ج:11ص:30) إدارة القران والعلوم الاسلامية، كراتشي:

قوله عن أم هانئ الخ: قال المؤلف" دلالته علي الباب صريحة، وهو إن كان ضعيفاّ، لكن يكفي للإعتضاد۔۔۔۔۔۔۔۔ فالسند حسن إلا أنه مرسل، وهو حجة عندنا وعند الجمهور من الإثر.

حوالہ جات

مصنف عبد الرزاق الصنعانی (7/ 201)  ط:المجلس العلمی، الهند:

   "عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن أم الحكم، أنه قال: قال رجل: يا رسول الله، إني زنيت بامرأة في الجاهلية وابنتها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " لا أرى ذلك، ولايصلح ذلك: أن تنكح امرأة تطلع من ابنتها على ما اطلعت عليه منها".

   مصنف ابن أبي شيبة (3/ 480) مكتبة الرشد – الرياض:

حفص، عن ليث، عن حماد، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال: «لا ينظر الله إلى رجل نظر إلى فرج امرأة وابنتها»

مصنف ابن أبي شيبة (4/ 11) مكتبة الرشد – الرياض:

حدثنا محمد بن يزيد، عن أبي العلاء، عن قتادة، وأبي هاشم، قالا: في الرجل يقبل امرأة أو ابنتها، قالا: «حرمت عليه»

موطأ مالك  (2/ 539) کتاب النکاح، باب النهي عن أن يصيب الرجل أمة كانت لأبيه،ط: دار احیاء التراث العربی، بیروت لبنان:

"حدثني يحيى، عن مالك أنه بلغه، أن عمر بن الخطاب وهب لابنه جاريةً، فقال: «لاتمسها، فإني قد كشفتها»، وحدثني عن مالك، عن عبد الرحمن بن المجبر، أنه قال: وهب سالم بن عبد الله لابنه جارية، فقال: «لاتقربها؛ فإني قد أردتها فلم أنشط إليها».

موطأ مالك  (2/ 539) کتاب النکاح، باب النهي عن أن يصيب الرجل أمة كانت لأبيه،ط: دار احیاء التراث العربی، بیروت لبنان:

وحدثني عن مالك، عن يحيى بن سعيد، أن أبا نهشل بن الأسود قال للقاسم بن محمد: " إني رأيت جاريةً لي منكشفاً عنها، وهي في القمر فجلست منها مجلس الرجل من امرأته، فقالت: إني حائض فقمت، فلم أقربها بعد، أفأهبها لابني يطؤها؟ فنهاه القاسم عن ذلك".

المغني لابن قدامة (7/ 121) مكتبة القاهرة، المصر:

[فصل: نظر إلى فرج امرأة بشهوة] ومن نظر إلى فرج امرأة بشهوة، فهو كلمسها لشهوة، فيه أيضا روايتان؛ إحداهما، ينشر الحرمة في الموضع الذي ينشرها اللمس. روي عن عمر، وابن عمر، وعامر بن ربيعة، وكان بدريا وعبد الله بن عمرو في من يشتري الخادم، ثم يجردها أو يقبلها، لا يحل لابنه وطؤها. وهو قول القاسم، والحسن، ومجاهد، ومكحول، وحماد بن أبي سليمان، وأبي حنيفة. لما روى عبد الله بن مسعود، عن النبي، أنه قال: «من نظر إلى فرج امرأة، لم تحل له أمها وبنتها. وفي لفظ: لا ينظر الله إلى رجل نظر إلى فرج امرأة وابنتها» والثانية، لا يتعلق به التحريم. وهو قول الشافعي، وأكثر أهل العلم۔

المبسوط للسرخسي (4/ 207) دار المعرفة، بيروت:

نستدل بآثار الصحابة - رضي الله عنهم -، فقد روي عن ابن عمر - رضي الله عنه - أنه قال: إذا جامع الرجل المرأة أو قبلها بشهوة أو لمسها بشهوة أو نظر إلى فرجها بشهوة حرمت على أبيه وابنه وحرمت عليه أمها وابنتها. وعن مسروق - رحمه الله تعالى - قال: بيعوا جاريتي هذه أما إني لم أصب منها ما يحرمها على ولدي من المس والقبلة، ولأن المس والتقبيل سبب.

يتوصل به إلى الوطء فإنه من دواعيه ومقدماته فيقام مقامه في إثبات الحرمة كما أن النكاح الذي هو سبب الوطء شرعا يقام مقامه في إثبات الحرمة إلا فيما استثناه الشرع وهي الربيبة، وهذا لأن الحرمة تنبني على الاحتياط فيقام السبب الداعي فيه مقام الوطء احتياطا۔

 

تفسير أبی محمد الحسین  البغوي (المتوفى: 510هـ) (2/ 191) دار طيبة للنشر والتوزيع:

ولو لمس امرأة بشهوة أو قبلها، فهل يجعل ذلك كالدخول في إثبات حرمة المصاهرة؟ وكذلك لو لمس امرأة بشهوة فهل يجعل كالوطء في تحريم الربيبة؟ فيه قولان، أصحهما وهو قول أكثر أهل العلم: أنه تثبت به الحرمة، والثاني: لا تثبت كما لا تثبت بالنظر بالشهوة.

أحكام القرآن لأبي بكر الجصاص (3/ 61) دار إحياء التراث العربي - بيروت:

أن اللمس عند الجميع في المرأة حكمه حكم الوطء ألا ترى أن الجميع متفقون على أن لمس المرأة الزوجة يحرم بنتها كما يحرمها الوطء وكذلك لمس الجارية بملك اليمين يوجب من التحريم ما يوجبه الوطء وكذلك من حرم بوطء الزنا حرم باللمس فلم لم يكن لمس الرجل موجبا للتحريم وجب أن يكون كذلك حكم وطئه لاستوائهما في المرأة قال أبو بكر واتفق أصحابنا والثوري ومالك والأوزاعي والليث والشافعي أن اللمس لشهوة بمنزلة الجماع في تحريم أم المرأة وبنتها فكل من حرم بالوطء الحرام أوجبه باللمس إذا كان لشهوة ومن لم يوجبه بالوطء الحرام لم يوجبه باللمس لشهوة ولا خلاف أن اللمس المباح في الزوجة وملك اليمين يوجب تحريم الأم والبنت إلا شيئا يحكى عن ابن شبرمة أنه قال لا تحرم باللمس وإنما تحرم بالوطء الذي يوجب مثله الحد وهو قول شاذ قد سبقه.

تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (2/ 106) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:

قال - رحمه الله - (والزنا واللمس والنظر بشهوة يوجب حرمة المصاهرة) وقال الشافعي - رحمه الله -: الزنا لا يوجب حرمة المصاهرة لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا يحرم الحرام الحلال» ولأنها نعمة فلا تناط بالمحظور ولأنه لو كان مؤثرا لحلّلها للمطلّق ثلاثا، وقال الشافعي لمن ناظره: أنت جعلت الفرقة إلى المرأة بتقبيلها ابن زوجها والله - تعالى - لم يجعلها إليها ولنا قوله تعالى {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم} [النساء: 22] والنكاح هو الوطء حقيقة؛ ولهذا حرم على الابن ما وطئ أبوه بملك اليمين وقال - عليه الصلاة والسلام - «ملعون من نظر إلى فرج امرأة وابنتها» وقال - عليه الصلاة والسلام - «من نظر إلى فرج امرأة لم تحل له أمها ولا ابنتها» وقال - عليه الصلاة والسلام - «من مس امرأة بشهوة» حرمت عليه أمها وابنتها وهو مذهب عمر وعمران بن الحصين وجابر بن عبد الله وأبي بن كعب وعائشة وابن مسعود وابن عباس وجمهور التابعين۔

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 247) دار الكتاب الإسلامي:

وفي البزازية وبثبوت حرمة المصاهرة وحرمة الرضاع لا يرتفع بهما النكاح حتى لا تملك المرأة التزوج بزوج آخر إلا بعد المتاركة، وإن مضى عليه سنون اهـ.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 185) دار الكتاب الإسلامي:

وظاهر كلامهم أن المتاركة لا تكون من المرأة أصلا كما قيده الزيلعي بالزوج لكن في القنية أن لكل واحد منهما أن يستبد بفسخه قبل الدخول بالإجماع وبعد الدخول مختلف فيه وفي الذخيرة ولكل واحد من الزوجين فسخ هذا النكاح بغير محضر من صاحبه عند بعض المشايخ وعند بعضهم إن لم يدخل بها فكذلك وإن دخل بها فليس لواحد منهما حق الفسخ إلا بمحضر من صاحبه اهـ. وهكذا في الخلاصة، وهذا يدل على أن للمرأة فسخه بمحضر الزوج اتفاقا ولا شك أن الفسخ متاركة إلا أن يفرق بينهما وهو بعيد والله سبحانه وتعالى أعلم.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 38) دار الفكر-بيروت:

قدمنا عن الذخيرة أن الأصل فيه عدم الشهوة مثل النظر، فيصدق إذا أنكر الشهوة إلا أن يقوم إليها منتشرا أي لأن الانتشار دليل الشهوة، وكذا إذا كان المس على الفرج كما مر عن الحدادي؛ لأنه دليل الشهوة غالبا، وما ذكره في الفتح بحثا من إلحاق تقبيل الخد بالفم أي بخلاف الرأس والجبهة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

22/جمادى الاولى 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب