| 78863 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
ایک شخص کو کمپنی والے قرض کے طور پر دس لاکھ روپے گھر بنانے کے لیے دے رہے ہیں ، اور دس سال کے بعدکمپنی ان سے بارہ لاکھ وصول کرے گا ، رہنمائی فرمائے کیا یہ معاملہ اسلام میں جائز ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ قرضہ کی رقم سے زائد رقم کا لین دین کرناسودی معاملہ ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ کمپنی سے دس لاکھ کا قرضہ لے کر دس سال کے بعد بارہ لاکھ روپے قرضہ لوٹانے کا معاملہ کیاگیا ہے تو ایساشرعا ناجائز ہے۔یادرہے کہ اسلامی بینک اور بعض اداروں کی طرف سے " شرکۃ متناقصۃ " کے اسلامی اصولوں کے تحت فنڈز جاری کیے جاتے ہیں یہ بطور قرضہ نہیں ہوتے ۔ لہذا ان سے شراکت داری اور کرایہ داری کے طور پر آمدن درست ہوتی ہے ۔
حوالہ جات
عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء.
( صحيح مسلم :4093)
وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام. (الدرالمختار: 166/5)
قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا. (إعلاء السنن :14/513 )
محمدادریس
دارالافتاء،جامعۃ الرشید، کرچی
25/جماد ی الاولی /1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


