03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وقف کی جائیداد میں حق وراثت کے ثبوت کا حکم
78788وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرحِ دینِ متین:

دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک عالمِ دین نے  1975 ء میں ایک ضلعی مقام پر دینی مدرسہ قائم کیا ۔اس میں حفظ، ناظرہ اور درسِ نظامی کے ساتھ ساتھ تدریب المعلمین اور ہائی اسکول قائم کیا۔مہتمم کی اولاد میں سے ایک عالم دین بیٹے(زید) بھی  بلا معاوضہ ان کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ 1986 ء میں مولانا  محترم کا انتقال ہو گیا۔مولانا کے انتقال کے بعد سے لے کر آج 2022ء تک ان کا بیٹا(زید) سنبھالتا آرہا ہے۔انہوں نے نئے شعبے قائم کئے ایک ہائی اسکول بنایا۔(پہلا ہائی اسکول طلبہ کی کم تعداد ہونے کی وجہ سے مولانا محترم کی زندگی میں ہی ختم ہوگیا تھا) عمارات میں تقریبا  80 فی صد اضافہ کیا۔مدرسے میں فی الحال حفظ و ناظرہ  تدریب المعلمین و المعلمات ، ترجمہ قرآن کلاسز (برائے خواتین) اور اسکول کی جماعت نہم و دہم کے ساتھ ساتھ دو مساجد کا انتظام و انصرام اور مختلف تبلیغی و فلاحی پراجیکٹس شامل ہیں۔البتہ مجلسِ منتظمہ نے شعبہ درسِ نظامی کو طلبہ کی کم تعدادکی وجہ سے ختم کردیا ہے۔

ہائی اسکول کے حوالے سے مجلسِ منتظمہ نے فیصلہ کیا ہے کہ  :

اب مولانا محترم مرحوم کی دیگر اولاد(بیٹے اور بیٹیاں) مدرسہ کے قیام کے 47 سال بعد اور مولانا مرحوم کے انتقال کے 36 سال بعد چاہتے ہیں کہ  مولانا کے وارث ہونے کی وجہ سے  اب  مدرسہ انہیں دے دیا جائے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ چوں کہ مجلس منتظمہ نے درسِ نظامی کو ختم کردیا ہے باقی کام دینی کام نہیں ہیں لہذا مدرسہ کی پراپرٹی انہیں دی جائے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ  :

  1. کیا مدرسہ کی جائیداد اور انتظامات وراثتی ہو سکتے ہیں؟
  2. کیا درسِ نظامی  ہی اصل دینی کام ہے باقی نہیں؟

مضاربت کے اصول پر تنخواہوں کے بجائے منافع میں حصہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. مدرسہ کی جائیداداور انتظامات میں وراثت جاری نہیں ہو سکتی،بلکہ وقف کرنے والا خود یا اس کی وصیت کے مطابق یا قاضی جسے متولی بنائیں، درست ہے۔   اور  جب کوئی متولی بن جائے تو بلا وجہ اس کو معزول کرنا جائز نہیں۔ہاں اگر کبھی  متولی کی طرف سے مالِ وقف میں خیانت   ظاہر ہوگئی تو اس موقع پر متولی کو معزول کیا جا سکتا ہے۔
  2. درسِ نظامی اگر چہ اہم دینی کام ہے ۔لیکن اگر کسی مجبوری کے تحت یا حالات کے پیشِ نظر مدرسہ میں درسِ نظامی کی تعلیم و تعلم کو موقوف کردیا جائے یا ختم کردیا جائے تو اس کی وجہ سے یہ سمجھنا کہ مدرسے کا مقصد ہی ختم ہو گیا، یہ درست نہیں ہے، بلکہ قرآن مجید کا ناظرہ حفظ وغیرہ کی تعلیم و تعلم  بھی دینی مدارس کا فریضہ ہے۔

 تیسرے سوال میں کچھ ابہام ہے۔ مستفتی سے رابطہ کیا لیکن  ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔

حوالہ جات

أربعون حديثا في فضائل القرآن (ص: 4):

(12) عن عثمان بن عفان رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : خيركم من تعلم القرآن وعلمه.

أخرجه البخاري: حديث/ 4739، 4/1919، وابن حبان: حديث/ 118، 1/324، والترمذي: حديث/ 2907، والنسائي في الكبرى: 8037، 5/19، وأبو داود: حديث/ 1452، 2/70، 5/173، وأحمد: حديث/ 500، 1/69، والدارمي: حديث/ 3337، 2/528. وفي رواية عند البخاري أيظاً: عن عثمان رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أفضلكم من تعلم القرآن وعلمه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين:(4/ 421):

مطلب ولاية نصب القيم إلى الواقف ثم لوصيه ثم للقاضي،قوله:( ولاية نصب القيم إلى الواقف) قال في البحر :قدمنا أن الولاية للواقف ثابتة مدة حياته وإن لم يشترطها وأن له عزل المتولي، وأن من ولاه لا يكون له النظر بعد موته أي موت الواقف إلا بالشرط على قول أبي يوسف.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 382):

 إذا كان للوقف متول من جهة الواقف أو من جهة غيره من القضاة لا يملك القاضي نصب متول آخر بلا سبب موجب لذلك وهو ظهور خيانة الأول أو شيء آخر.

محمد جمال ناصر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

15/جمادی الثانیۃ/ 1444ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمال ناصر بن سید احمد خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب