| 78804 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
عرض ہے کہ میرے والد صاحب کا انتقال 2016 میں ہواگیاتھا ،اور دااور دادی جان کا جو حصہ بنتا تھا اتنی ہماری گنجائش نہیں تھی ، دونوں کو دس دس ہزار دیئے تھے ، دادا جان کا انتقال فروری 2021 میں ہوا ، یعنی میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد دادا جان کی جو وراثت بنی ہے اس میں ہم بہن بھائیوں کا حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟ رہنمائی فرمادیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح ہوکہ میراث اس مال کو کہا جاتا ہے جو مرحوم کے انتقال کے وقت اس کی ملک میں موجود ہو ، اور میراث کےحقدار صرف وہ ورثہ ہیں جو مرحوم کے انتقال کے وقت زندہ ہوں ۔
چونکہ آپ کے والد کا انتقال آپ کے دادا سے پہلے ہوچکا ہے اس لئے آپ کے دادا کی میراث میں آپ کے والد کا کوئی حصہ نہیں ہے ، لہذا داداکی میراث میں سے آپ بھائی بہنوں کو حصہ نہیں ملے گا۔البتہ مرحوم کے ورثا ءکو چاہئے ھدیة کےطورپرآپ بھائی بہنوں کو کچھ مال دیدیں ۔یہ ورثاء کی طرف سے تبرع واحسان ہو گا میراث کا حصہ نہیں ۔
حوالہ جات
{لرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (7) وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا (8) } [النساء: 7 - 9]
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 769)
" بيانه أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث،
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
١۵ جمادی الثانیہ ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


