| 78836 | زکوة کابیان | جانوروں کی زکوة کابیان |
سوال
میرے پاس تین عدد گائے بمع ایک بچھیا جن کی کل مالیت تقریباً چار لاکھ روپے ہے اور تین عدد بکریاں جن کی کل مالیت تقریبا ایک لاکھ روپے ہے،تقریباً دو سال سے ہیں اور یہ سارے جانور میرے اور میرے ایک دوست کے درمیان آدھ پر ہیں۔اس مال میں زکوۃ لاگو ہو گی یا نہیں،اوراگر ہو گی تو کتنی ہو گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ جانور تجارت کے لیے ہوں تو سال پورا ہونے پرجانوروں کی کل مالیت کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ میں دینا لازم ہوگا، اور اگر ان سے مقصد دودھ حاصل کرنا یا ان کی نسل کشی ہو تو نصاب ِ زکوۃ کی شرائط نہ پائے جانے کی وجہ سےان میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: باب السائمة :هي الراعية........، لكن في البدائع لو أسامها للحم فلا زكاةفيها ،كما لو أسامها للحمل والركوب، ولو للتجارة ففيها زكاة التجارة.(ادرالمختار:2/275)
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ: تجب الزكاة في ذكورهاوإناثها ومختلطهما، والسائمة هي التي تسام في البراري لقصد الدر والنسل والزيادة في السمن والثمن ،حتى لو أسيمت للحمل والركوب لا للدر والنسل فلا زكاة فيها ،كذا في محيط السرخسي. وكذا لو أسيمت للحم، ولو أسيمت للتجارة ففيها زكاة التجارة دون السائمة هكذا في البدائع.(الفتاوی الھندیۃ:1/176)
وقالوا أیضاً:لا شيء في الخيل، ....إلا أن تكون للتجارة كذا في الكافي. فإن كانت للتجارة فحكمها حكم العروض يعتبر أن تبلغ قيمتها نصابا سواء كانت سائمة أو علوفة كذا في المضمرات. والحمير والبغال والفهد والكلب المعلم إنما تجب فيها الزكاة إذا كانت للتجارة.(الفتاوی الھندیۃ:1/178)
محمد عمر الیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
15 جمادی الثانی،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


