03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ،بیوہ،دوبیٹوں اورچاربیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم
79013میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والدکاانتقال ہوا،انہوں نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا،اس کوفروخت کرکے ایک فلیٹ خریداگیا ہے، جس کی موجودہ قیمت 2454545 روپے ہے،ورثہ میں والدہ،اہلیہ،دوبیٹے اور4بیٹیاں ہیں،ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے انتقال کے وقت  جائیداد سمیت جومنقولہ اورغیرمنقولہ سامان اورنقدرقم چھوڑی ہے،اس میں سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات اداکئے جائیں،اگریہ اخراجات کسی وارث نےاحسان کے طورپراداکردئیے ہیں تواس صورت میں یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے، اس کے بعددیکھیں اگر  ان کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں۔اس کے بعددیکھیں اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں،اس کے بعد باقی مال کوموجود ورثہ میں تقسیم کردیں۔

ترکہ کی تقسیم درج ذیل ہے:

نمبرشمار

ورثہ

فیصدی حصہ

ترکہ کی تقسیم

1

والدہ

12.5

306818.125

2

بیوہ

16.666

409090.843

3

بیٹا

17.708

434659

4

بیٹا

17.708

434659

5

بیٹی

8.854

217329.5

6

بیٹی

8.854

217329.5

7

بیٹی

8.854

217329.5

8

بیٹی

8.854

217329.5

ٹوٹل

8

100

2454545

 

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

     ۲۵/جمادی الثانی ۱۴۴۴ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب