| 79013 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والدکاانتقال ہوا،انہوں نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا،اس کوفروخت کرکے ایک فلیٹ خریداگیا ہے، جس کی موجودہ قیمت 2454545 روپے ہے،ورثہ میں والدہ،اہلیہ،دوبیٹے اور4بیٹیاں ہیں،ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے انتقال کے وقت جائیداد سمیت جومنقولہ اورغیرمنقولہ سامان اورنقدرقم چھوڑی ہے،اس میں سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات اداکئے جائیں،اگریہ اخراجات کسی وارث نےاحسان کے طورپراداکردئیے ہیں تواس صورت میں یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے، اس کے بعددیکھیں اگر ان کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں۔اس کے بعددیکھیں اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں،اس کے بعد باقی مال کوموجود ورثہ میں تقسیم کردیں۔
ترکہ کی تقسیم درج ذیل ہے:
|
نمبرشمار |
ورثہ |
فیصدی حصہ |
ترکہ کی تقسیم |
|
1 |
والدہ |
12.5 |
306818.125 |
|
2 |
بیوہ |
16.666 |
409090.843 |
|
3 |
بیٹا |
17.708 |
434659 |
|
4 |
بیٹا |
17.708 |
434659 |
|
5 |
بیٹی |
8.854 |
217329.5 |
|
6 |
بیٹی |
8.854 |
217329.5 |
|
7 |
بیٹی |
8.854 |
217329.5 |
|
8 |
بیٹی |
8.854 |
217329.5 |
|
ٹوٹل |
8 |
100 |
2454545 |
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۵/جمادی الثانی ۱۴۴۴ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


