03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مجبوری میں تحریری طلاق پر دستخط کا حکم
78902طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

جناب مجھے طلاق کے متعلق چند باتیں پوچھنی ہیں کیونکہ میری فیملی نے اور لڑکی کی فیملی نے میری زبردستی طلاق کروائی ہوئی ہے، ،تو کیاایسی طلاق ہوجاتی ہے؟

تفصیل : جناب میں نے اور میری بیوی نے عدالت میں پسند کی شادی کی ہوئی تھی، گھروالے راضی نہیں تھے،لڑکی خود راضی تھی ،اسکی خوشی سے Court_Marrige کی تھی۔  جب فیملی کو پتاچلا تو اس وقت ہم الگ رہ رہے تھے ،فیملی نے آپس میں جرگہ کرکے ہمیں گھر بلا لیا کہ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ دونوں کوالگ نہیں کریں گے، واپس گھر آجاؤ، ہم دونوں گھر آگئے، جب گھر آئے تو لڑکی کی فیملی نے جرگہ کی صورت میں، میری فیملی سے بات وغیرہ کی کہ لڑکی کو دودن کے لیے اپنے ماں باپ کے ہاں بھیج دیں، میں نہیں جانے دے رہا تھا،مگر لڑکی کی فیملی نے ہم سےوعدہ کیا، کلمہ پڑھ کر اقرار کیا کہ آپ لڑکی کو دودن کے لیے بھیجیں، ہم اس کی رخصتی کردیں گے، لیکن دو دن گزرنے کے بعدجب ہم نے پتا کیا تو انھوں نے لڑکی کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجا،پھر جب ہم لوگوں نے دوبارہ بات کی تو لڑکی کے بھائی اور اس کی فیملی نے ہم سے15 لاکھ روپے اور 2 تولہ سونا مانگنا شروع کر دیا،جو ہم نہیں کر سکتےتھے، میری فیملی نے 3لاکھ روپے اور 3تولہ سونا لڑکی کو دینا چاہا اور دے بھی رہے تھے اور ساتھ ہی دوکمرے کا گھربھی، لیکن لڑکی کی فیملی نے کہا کہ ہمیں 15 لاکھ روپے اور 7 تولہ سونا بھی چاہئے جو ہم نہیں دے سکتے تھے،لڑکی طلاق نہیں لینا چاہتی تھی ، میں  بھی طلاق نہیں دے رہا تھا، پھر میری فیملی نے مجھے زبردستی فورس کیا اور مجھے کہا کہ اگر طلاق دینی ہے تو ٹھیک ہے، نہیں تو اس گھر سے جا سکتے ہوہماری طرف سے، تم سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے،لیکن میں پھر بھی گھر پر رہا اور یہی ضد کررہا تھاکہ طلاق نہیں دینی ہے، لیکن میری فیملی نے اور لڑکی کی فیملی نےفورس کرکے اکساکر مطلب(Hyper )کر کے مجھ سے زبرستی طلاق دلوادی ،میں رورہاتھا سب کے آگے کسی نے کوئی بات نہ سنی،تو سوال یہ ہے کہ اس طرح سے طلاق ہوجاتی ہے یا نہیں؟ اگر ہوتی ہے تو کیا کرنا چاہئے؟ اگر ایسے زبردستی طلاق نہیں ہوتی تو کیا کرنا چاہئے؟اس بات کو 4/5 ماہ ہوئے ہیں۔ اگر طلاق نہیں ہوئی تودوبارہ نکاح کرنا پڑتا ہے یا نہیں؟ اور دوبارہ اگر اسی لڑکی سے کرتا ہوں تو کیا کیاجائے گا اور کیسے کیا جائے گا؟ یہی مسئلہ تھا جو پوری تفصیل کے ساتھ لکھ کر آپ کوبھیجا ہوا ہے تو آپ پلیز اس کے بارے میں تفصیل سے بتادیں گے، آپ کی بہت مہربانی ہوگی۔

نوٹ:سائل نے فون پر بتایاکہ گھر والوں نے عاق کرنے اور گھر سے نکالنے کی دھمکی دی ہے،نیز لڑکی والے بھی دھمکی دے رہے ہیں اور وہ پیسوں کے اعتبارسے طاقتور ہیں، لڑکے نے فقط دستخط کیے ہیں،زبان سے طلاق نہیں دی ہے،نہ تحریری طلاق پڑھی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کا معاملہ شرعاً انتہائی نازک اور حلال و حرام کا ہے۔ اس میں کسی دارالافتاء سے فتوی لے کر اس کا اطلاق اپنی

خواہش کے مطابق کرنے  سے کوئی شخص اللہ کے نزدیک  گناہ سے بچ نہیں سکتا۔ لہذا ایسے کسی فعل سے اجتناب

کرنا لازمی ہے۔

اکراہ(مجبور کرنے) کی دو قسمیں ہیں:

1۔  اکراہ تام:  جس میں جبر کرنے والا کسی ایسی چیز کی دھمکی دے جس سے ڈر کر انسان طبعی طور پر کام کرنے پر مجبور ہو جائے جیسے قتل، عضو کاٹنے یا اس طرح مارنے کی دھمکی دینا جس سے کوئی عضو ضائع ہو جائے۔

‌2۔  اکراہ ناقص:         جس میں دھمکی مذکورہ بالا صورت سے کم درجے کی ہو لیکن اس قدر  غیر معمولی ہو کہ انسان اپنی رضامندی کے بغیر کوئی کام کرنے پر خود کو مجبور سمجھے اور کام نہ کرنے پر نتائج کو اپنی برداشت سے باہر سمجھے۔ اس قسم کے اکراہ کے تحقق کے لیے جان سے مارنے یا عضو تلف کرنے کی دھمکی دینا ضروری نہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ ایسے معمولی نتیجے کی دھمکی نہ ہو جسے عموماً برداشت کے قابل سمجھا جاتا ہو۔

اکراہ کی ان دونوں قسموں میں تحریری طور پر طلاق لکھ دینے یا لکھی ہوئی طلاق پر دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ البتہ زبان سے طلاق کے  الفاظ کی ادائیگی سے طلاق واقع ہوگی۔تاہم اکراہ کے ثابت ہونے کے لیے چار شرائط ہیں:

1۔ مجبور کرنے والا اس کام کی قدرت رکھتا ہو جس پر وہ مجبور کر رہا ہو۔ یہ قدرت ذاتی طور پر بھی ہو سکتی ہے اور کسی کارندے یا تعلق دار کی مدد سے بھی۔

‌2۔ جسے مجبور کیا جائے اسے کم از کم غالب گمان کے درجے میں یہ خوف ہو کہ کام نہ کرنے پر فوری نتیجہ  دھمکی کے مطابق نکل سکتا ہے۔

‌3۔  دھمکی کسی ایسی چیز کی ہو جس سے جان جانے ، عضو ضائع ہونے کا خطرہ ہو، یا کم سے کم ایسی غیر معمولی صورت حال سے دوچار کرنے کی ہو جس سے عموماً مجبور کیے جانے والے اس جیسے شخص کی رضامندی ختم ہو جاتی ہو۔

‌4۔  جس چیز پر مجبور کیا جائے اس سے مجبور ہونے والا شخص اس اکراہ سے پہلے رکا ہوا ہو اور وہ کام نہ کرنا چاہتا ہو۔

یہ چاروں شرائط پائی جائیں تو اکراہ درست ہوگا اور اس کے احکام لاگو ہوں گے۔

لہذاصورت مسئولہ میں اگرآپ کو واقعتا گھر سے نکالنے اور قطع تعلق کی دھمکی دی گئی تھی اور آپ کو یقین تھاکہ وہ

یہ دھمکی پوری کرسکتے ہیں اور پوری کریں گےاور آپ نے زبان سے کہے بغیرصرف تحریری صورت میں موجودطلاق پر دستخط کیے ہیں تو وہ   طلاق واقع نہیں ہوئی۔اور اگر مجبوری کی یہ حالت نہیں تھی ،یا آپ نے زبان سے

الفاظ طلاق اداکیے ہیں تو پھر طلاق واقع ہوگئی ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 25 / ص 76):

( كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا ) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن ، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال. “

  البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي (16 / 252):

وفي المحيط قال مشايخنا: إلا إذا كان الرجل صاحب منصب يعلم أنه يتضرر بضرب سوط أو

حبس يوم فإنه يكون إكراها وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الاكراه لما يجئ به من الاغتمام

البين ومن الضرب ما يجد به الالم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه ،لانه يختلف باختلاف أحوال الناس، فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديدوحبس مديد، ومنهم من يتضرر بأدنى شئ كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملا من الناس أو بحضرة السلطان. “

 

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 9 / ص 138):

لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق ؛لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع۔

بدائع الصنائع (7/175):

وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر۔۔۔ وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (6/129):

(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع) كشرب الخمر والزنا

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

81/جمادی الثانیہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب