03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امام کا نماز میں آیت کو دو مرتبہ پڑھنے کا حکم
78970نماز کا بیانقراءت کے واجب ہونے اور قراء ت میں غلطی کرنے کا بیان

سوال

فرض نماز کی تیسری اورچوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ میں سے کسی ایک آیت کا ایک سے زیادہ مرتبہ جان بوجھ  کر پڑھناکیسا ہے؟کوئی امام اگر ایسا کرےتو اُن کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (امام صاحب تیسری اور  چوتھی رکعت میں آہستہ سے پڑھتے ہیں، لیکن مائیک کی وجہ سے مقتدی کو سنائی دیتا ہے جس کے گواہ بھی موجود ہیں)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں  جان بوجھ کرکسی  آیت کو ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے  ،چونکہ جماعت کو مختصر کرنے کے متعلق احادیث میں ارشاد وارد ہوا ہے،  لہذا بہتر یہ ہے کہ بلا ضرورت تکرارِ آیت سے  بچا جائے، البتہ اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی  اور نہ سجدہ سہو لازم ہوتا ہے ۔اگر کوئی  امام ایسا کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

واضح رہے کہ اسپیکر سے آنے والی آوازکی بنیاد پر قرأت کے سری یا جہری ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جائےگا ، لہذا اگر امام سری قرأت کے موقع پر آہستہ آواز میں قرأت کرے ، لیکن مائیک کی وجہ سے اس کی آواز سنائی دے رہی ہو تو یہ سر ہی شمار ہوگا اس کو جہرا پڑھنا نہیں کہیں گے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 107)

وإذا كرر آية واحدة مرارا فإن كان في التطوع الذي يصلي وحده فذلك غير مكروه وإن كان في الصلاة المفروضة فهو مكروه في حالة الاختيار وأما في حالة العذر والنسيان فلا بأس هكذا في المحيط

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 220)

 وينبغي أن يقيد ذلك بالفرائض لأن تكرار الفاتحة في النوافل لم يكره كما في القهستاني

رد المحتار (4/ 160)

( و ) أدنى ( الجهر إسماع غيره و ) أدنى ( المخافتة إسماع نفسه ) ومن بقربه ؛ فلو سمع رجل أو رجلان فليس بجهر ، والجهر أن يسمع الكل خلاصة

حاشية ابن عابدين (1/ 535)

 فقد ظهر بهذا أن أدنى المخافتة إسماع نفسه أو من بقربه من رجل أو رجلين مثلا وأعلاها تصحيح الحروف كما هو مذهب الكرخي ولا تعتبر هنا في الأصح  وأدنى الجهر إسماع غيره ممن ليس بقربه كأهل الصف الأول وأعلاه لا حد له فافهم

عمر فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

۲۱/جمادی الثانیہ/۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب