| 79057 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
عرض یہ ہے کہ میں نے ایک تحریر پڑھی ہے ،اس میں صراحت کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ تعویذ کرنا شرک ہے ، دلیل میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت پیش کرتے ہیں ،
مسند أحمد لأحمد بن حنبل (7/ 315)
عن عقبة بن عامر الجهنى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أقبل إليه رهط فبايع تسعة وأمسك عن واحد فقالوا يا رسول الله بايعت تسعة وتركت هذا قال ان عليه تميمة فادخل يده فقطعها فبايعه وقال من
علق تميمة فقد أشرك.
کہ دس افراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جن میں سے نو آدمی کو آپ نے بیعت فرمالیا ایک بندے کو چھوڑ دیا ، وجہ پوچھی گئی تو فرما یا کہ اس نے تعویذ پہنی ہوئی ہے ،اور تعویذ پہننا شرک ہے ،تب جاکر اس نے تعویذ اتار دی،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی بیعت فرمالی ۔
اور وہ شخص ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ تعویذ میں ایک دو آیتیں لکھی ہوتی ہیں ،آپ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ میرے پاس آجائیں کہ پورا قرآن یو ،ایس، بی میں بھر کر دیدیتا ہوں تم اس کو گلے میں لٹکا لو ،لہذا تعویذ کا عمل کرنا ایک فضول عمل ہے ۔آپ علماء سے میری گذارش یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں تعویذ کے عمل کے بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۔تعویذ اور دم کرنے کے جواز کی شرائط ؛
1۔ الفاظ صحیح ہوں ۔
2۔ الفاظ منقولہ قرآن وحدیث میں وارد شدہ ہوں یا اگر وارد شدہ نہ ہوں تو معنی کے لحاظ سے صحیح ہوں
3۔ شرکیہ الفاظ نہ ہوں ۔
4۔ تعویذ کو مؤثر بالذات نہ سمجھے بلکہ یہ عقیدہ رکھے کہ شفا دینا اللہ تعالی کے اختیار میں ہےتعویذمیں لکھے ہوئے اسماء الہیہ کی برکت سے ایک سبب کے درجے میں اللہ تعالی بیما ری سے شفا دیں گے۔
اگر مذکورہ شرائط پائی جائیں تو تعویذ ،دم کرنا کرانا جائز ہے اور اس پر اجرت لینابھی جائز ہے ،کیونکہ تعویذ علاج کی علاج کی ایک صورت ہےاور علاج ومعالجہ پر اجرت لینا جائز ہے۔
سوال میں مذکورروایت اور اسی طرح بعض دیگر روایات میں تعویذ کی ایک صورت﴿تمیمہ﴾لٹکانے کو شرک کہا گیا ہے اس کے بارے میں حضرات محدثین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں ایک مخصوص شرکیہ عقیدہ کےساتھ تعویذ گلے میں لٹکائی جاتی تھی ، کہ تعویذ خود فائدہ دیتی ہے ،حالانکہ تعویذ میں خود فائدہ پہنچانے کی صلاحیت نہیں ہوتی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شرکیہ عقائد کے ساتھ تعویذ پہننے سے منع فرمایا ہے ،لیکن اس عقیدے کے بغیر مذکورہ بالا شرائط کے مطابق تعویذ پہننے کی شریعت نے اجازت دی ہے ،لہذاہر تعویذ کو مطلقا شرک قرار دینا یہ جہالت ہے ، ایسے جاہل شخص کی بات پرعمل کرنا جائز نہیں ۔خصوصا جس تعویذ میں قرآنی آیت لکھی گئی ہو اس کو فضول عمل قرار دینا بڑی خطرناک گمراہی کی بات ہے ۔اس دور سے دور رہنا لازم ہے ۔
حوالہ جات
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (22/ 40، بترقيم الشاملة آليا)
قال النووي وغيره الجمهور على النهي كراهة تنزيه وقيل كراهة تحريم وقيل يمنع منه قبل الحاجة ويجوز إذا وقعت الحاجة وعن مالك تختص الكراهة من القلائد بالوتر ويجوز بغيرها إذا لم يقصد دفع العين هذا كله في تعليق التمائم وغيرها مما ليس فيه قرآن ونحوه فأما ما فيه ذكر الله فلا نهي عنه فإنه إنما يجعل للتبرك له والتعوذ بأسمائه وذكره وكذلك لا نهي عما يعلق لأجل الزينة ما لم يبلغ الخيلاء أو السرف
عون المعبود لمحمد آبادي (10/ 250)
وفي الحديث التمائم والرقي من الشرك وفي حديث آخر من علق تميمة فلا أتم الله له كأنهم كانوا يعتقدون أنها تمام الدواء والشفاء وإنما جعلها شركا لأنهم أرادوا بها دفع المقادير المكتوبة عليهم وطلبوا دفع الأذى من غير الله الذي هو دافعه انتهى
قال السندي المراد تمائم الجاهلية مثل الخرزات وأظفار السباع وعظامها وأما ما يكون بالقرآن والأسماء الإلهية فهو خارج عن هذا الحكم بل هو جائز
اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے تو ایسے میں تعویذ کرنا کرانا اور اس پر اجرت لینا جائز نہیں ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 363)
ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث في عوذته قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 57)
لأن المتقدمين المانعين الاستئجار مطلقا جوزوا الرقية بالأجرة ولو بالقرآن كما ذكره الطحاوي؛ لأنها ليست عبادة محضة بل من التداوي.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 429)
وعن «عروة بن مالك - رضي الله عنه - أنه قال: كنا في الجاهلية نرقي فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال اعرضوا علي رقاكم لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك» رواه مسلم وأبو داود اه
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۴ جمادی الثانیہ ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


