| 79023 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
مفتی صاحب سوال ہے کہ ایک لڑکی بچپن سے بہت بیمار تھی ۔دم رکھنے والے آسیب بتاتے تھے،جبکہ ڈاکٹر نفسیاتی مرض(او سی ڈی یعنی وہم کا مرض) بتاتے تھے۔کم عمر ہونے اور کم ہمت ہونے کی وجہ سے اس وقت اپنی بیماری کو نہیں سمجھ سکتی تھی۔مگر اب کچھ سال ہو گئے ہیں شکر ہے بہت بہتر ہے۔ صرف کچھ حد تک وساوس آتے جاتے رہتے ہیں۔
سوال یہ ہےکہ اب گھر والے بھی اور وہ لڑکی خود بھی شادی کی خواہش رکھتی ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ اگر کوئی رشتہ آئے اور بات بننے لگے تو کیا لڑکی کے مرض کا بتانا ضروری ہے۔جبکہ اب لڑکی بہت حد تک بہتر ہے۔ لڑکی نے اپنی تعلیم بھی مکمل کی ہے۔گھر گھرستی بھی جانتی ہے۔میں نے دیوبند کے فتوی میں کچھ اس طرح پڑھا کہ اگر ازدواجی تعلق رکھنے پر کوئی قدرت رکھتا ہو تو ہلکی پھلکی بیماری کا بتانا ضروری نہیں۔لڑکی کا کہنا ہے کہ اگر پھر بھی شادی کے بعد شوہر کو کچھ زیادہ مسئلہ ہوا تو وہ اپنے حق سے دستبردار بھی ہو جائے گی۔برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس صورت میں بھی دھوکہ دہی کا خدشہ ہو گا؟اگر ہاں تو کوئی بہتر صورت بتائیں جس سے لڑکی کی شادی کا مسئلہ حل ہو سکے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر ان وساوس وغیرہ کی کیفیت سے صحت پر غیر معمولی اثر ہو یا ازدواجی زندگی اور گھر کے کام کاج میں یہ چیز غیر معمولی اثر انداز ہوتی ہو تو پھرامانت کا تقاضایہی ہے کہ اس عیب سے لڑکے والوں کو آگاہ کیا جائے ،ورنہ یہ دھوکہ دہی ہوگی،جس سے حدیث پاک میں منع کیا گیا ہے۔البتہ اگر بیماری ایسی غیر معمولی نہ ہو تو پھر بتانا ضروری نہیں۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (1/ 99)
وحدثني يحيى بن أيوب، وقتيبة، وابن حجر، جميعا عن إسماعيل بن جعفر، قال ابن أيوب: حدثنا إسماعيل، قال: أخبرني العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني».
سنن أبي داود (3/ 272)
حدثنا أحمد بن محمد بن حنبل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر برجل يبيع طعاما فسأله كيف تبيع؟ فأخبره فأوحي إليه أن أدخل يدك فيه، فأدخل يده فيه فإذا هو مبلول، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من غش».
محمدمصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
24/جمادی الثانیہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


