| 79024 | جائز و ناجائزامور کا بیان | علاج کابیان |
سوال
دوسرا سوال یہ ہے کہ آج کل ڈاکٹرکہتے ہیں کہ لڑکا اور لڑکی شادی سے پہلے ٹیسٹ کروائیں کہ آیا وہ اولاد پیدا کرنے کے قابل ہیں یا نہیں. اس کی شرعی حثیت کیا ہے؟اگر کسی شخص کو شک ہو کہ کہیں اس میں کوئی مسئلہ نہ ہو تو شک کو دور کرنے کے لئے شادی سے پہلے یہ ٹیسٹ کروائے جا سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر واقعتاً کچھ علامات کی رو سے یا خاندانی کیفیت کی رو سے ٹیسٹ ضروری معلوم ہوتے ہوں تو اس میں حرج نہیں،نیز اگر مستورہ اعضاء کو دیکھے بغیر اور شرعاًکسی ناجائز کام کا ارتکاب کئے بغیریہ ٹیسٹ ممکن ہوتو محض شک دور کرنے کی خاطر بھی اس میں حرج نہیں،لیکن اگر کشفِ عورت یا ناجائز کام کا ارتکاب کرنا پڑتا ہو تو پھر محض شک کو دور کرنے کی خاطر اس طرح ٹیسٹ کروانے کی اجازت نہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 399)
ويجوز أن يستمني بيد زوجته وخادمته اهـ وسيذكر الشارح في الحدود عن الجوهرة أنه يكره ولعل المراد به كراهة التنزيه فلا ينافي قول المعراج يجوز تأمل وفي السراج إن أراد بذلك تسكين الشهوة المفرطة الشاغلة للقلب وكان عزبا لا زوجة له ولا أمة أو كان إلا أنه لا يقدر على الوصول إليها لعذر قال أبو الليث أرجو أن لا وبال عليه وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم .
شعب الایمان(7/329)
"عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "سبعة لاينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة، ولايزكيهم، ولايجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه: الناكح يده، والفاعل والمفعول به، والمدمن بالخمر، والضارب أبويه حتى يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتى يلعنوه، والناكح حليلة جاره". " تفرد به هكذا مسلمة بن جعفر هذا ". قال البخاري في التاريخ".
محمدمصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
24/جمادی الثانیہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


