03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ارحم یا راحم نام رکھنا
79058جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

بچے کا نام اَرحم یا راحِم رکھنا کیسا ہے؟  کیا یہ اللہ تعالی کا  ذاتی  نام  یا   صفاتی  ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

"اَرحم " کا معنی    زیادہ رحم دل ہے۔ "راحِم"  کے معنی مہربان، رحم کرنے والے کے ہیں۔ ان  دونوں ناموں کے معنی اچھے ہیں اور  دونوں قریب المعنی ہیں،  اس اعتبار سے  "اَرحم" اور  "راحِم" نام رکھنا درست ہے۔ اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔نیز یہ اللہ تعالی کا نہ  ذاتی نام ہے ،نہ ہی صفاتی نام۔

حدیث میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ’’ارحم امتی‘‘ یعنی امت کا سب سے زیادہ رحیم شخص کہا گیا ہے۔حضرت انسں بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے  آپ ﷺ سے زیادہ کسی اور کو اپنے اہل وعیال پر رحم کرنے والا نہیں دیکھا، یہاں آپ ﷺ کے لیے بھی ’’ارحم‘‘ (رحم کرنے والا) کا لفظ استعمال کیا  گیاہے،  اس لیے ’’ ارحم‘‘ نام رکھنا جائز ہے۔

اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ "اَرحم " نام رکھنا اس لیے مناسب نہیں کیونکہ "اَرحم" زیادہ رحم کرنے والے  کو کہتے ہیں، اور وہ ذات اللہ تعالی کی ہے، تو یہ شبہ درست نہیں ہے ؛ اس لیے کہ "اَرحم" اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور یہ  مشترکہ اسماء میں سے ہے، اللہ کے علاوہ اور مخلوق کے لیے بھی اس کا  استعمال کیا گیا ہے، نیز عام طور پر اللہ کے لیے یہ لفظ جب استعمال ہوتا ہے تو  "ارحم الراحمین"  استعمال ہوتا ہے۔

حوالہ جات

{قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ (92)} [يوسف: 92]

{وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ (83) } [الأنبياء: 83]

صحيح مسلم (4/ 1808):

 "عن أنس بن مالك، قال: «ما رأيت أحدا كان أرحم بالعيال من رسول الله صلى الله عليه وسلم»"

المستدرك على الصحيحين للحاكم (4/ 541):

"ثم يقول الله: أنا أرحم الراحمين فيخرج من النار أكثر مما أخرج من جميع الخلق برحمته "، قال: " ثم يقول: أنا أرحم الراحمين."

سنن الترمذي ت شاكر (5/ 664):

" عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أرحم أمتي بأمتي أبو بكر». "

الأدب المفرد مخرجا (ص: 137):

"عن أبي هريرة قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل ومعه صبي، فجعل يضمه إليه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «أترحمه؟» قال: نعم، قال: «فالله أرحم بك منك به، وهو أرحم الراحمين»"

الفتاوى الهندية (5/ 362):

"التسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة لأنه من الأسماء المشتركة ويراد في حق العباد غير ما يراد في حق الله تعالي."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 417):

"جاز التسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى."

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

26/جمادی الثانیہ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب