03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متولی کا ذاتی جھگڑے کی بناء پر کسی کو مسجد سے روکنا
79110وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

ایک شخص یہ کہے کہ فلاں شخص میری مسجد میں نہ نماز پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی داخل ہوسکتا ہے،اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

سوال کا پس منظر یہ ہے کہ موبائل استعمال کرنے پر استاد اور مہتمم کا جھگڑا ہوگیا،،بعد میں استاد نے مدرسے سے جواب دے دیا،جس پر مہتمم نے مذکورہ بالا شرط بھی لگائی کہ وہ استاد اس کی مسجد و مدرسہ میں داخل نہیں ہوگا۔

نیز مسجد میں ہی مدرسہ قائم ہے،جس کی وجہ سے مہتمم نے کہا کہ مسجد ومدرسہ میں داخل نہیں ہوسکتا،اب اس استاد کی محلے کی مسجد بھی وہی ہے،باقی مساجد کافی دور ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد کسی کی ذاتی ملکیت اور جاگیر نہیں،بلکہ اللہ کا گھر ہے،جو اس کی عبادت کے لیے بنایا جاتا ہے،اس لئے ذاتی جھگڑے کی بناء پر کسی متولی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی کے نماز کے لئے مسجد آنے پر پابندی عائد کرے،لہذا مذکورہ صورت میں مہتمم کی جانب سے لگائی گئی پابندی کا شرعا کوئی اعتبار نہیں اور وہ استاد اس مسجد میں جاکر نماز پڑھ سکتا ہے۔

تاہم استاد کو بھی اس بات کی رعایت رکھنی چاہیے کہ وہ فقط عبادت ہی کی نیت سے مسجد جائے،کسی بھی قسم ایسے قول و عمل سے اجتناب کرے جو انتشار کا سبب بنے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

29/جمادی الثانیہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب