| 79286 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
سوال:کیافرماتےہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کےبارےمیں
محترم و محترم مفتی صاحب، معزز صحابہ کرام، السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کاروبار پر زکوۃ سے متعلق سوال:
ہم ایک پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی چلارہے ہیں، ہمارے پاس ساری پیمنٹ باہر سے آتی ہے۔
سوالات سے پہلے کچھ شقیں ہیں جو مسئلے کو سمجھنے کے لیے ذکر کرنا ضروری ہیں:
شق نمبر 1: ہمارے پاس کاروبار کرنے کے لیے پر اڈکٹس (سامان) نہیں ہوتا ہم سروسز دیتے ہیں، ۔جیسا کہ ویب سائٹ ،سافٹ وئیر بنانا، ان کی اصلاح کرنا ،ان فنون کی آن لائن تعلیم دینا، ساتھ ساتھ آن لائن کچھ زبانیں بھی سکھاتے ہیں۔۔
شق نمبر2 : ہماری پیمنٹ ساری بابر (امریکا) سے آتی ہے جو مختلف طریقوں اورمختلف ترتیب سے آتی ہے۔
شق نمبر3: ہماری کچھ رقم پر ہمیں اختیار کل ہوتاہے، اور کچھ رقم پر بالکل اختیار نہیں ہوتا۔
شق نمبر 4: ہمارے پاس ماہانہ آنے والے رقم میں سے 90 فیصد سے 95 فیصد تک رقم اخراجات تنخواہوں اور مارکیٹنگ کے اخراجات میں خرچ ہوتی ہے۔
شق نمبر 2:رقم آنے کی ترتیب و تفصیل:
ہماری رقم ایک پیمنٹ گیٹ وے (انوائس اور کارڈ سے پیمنٹ کی سہولت فراہم کرنے والا سافٹ وئیر) کے ذریعے انکی پالیسی کے حساب سے آتی ہے۔
الف: ہمارے کلائنٹ(خدمات حاصل کرنے والےکسٹمر) مختلف جگہوں اور ممالک سے رقم کی ادائیگی اس پیمنٹ گیٹ وے کے ذریعے بردن اپنی مقررہ تاریخ کو کرتے ہیں۔
ب:یہ پیمنٹ گیٹ وے ایک ہفتے کی روزانہ کی ادائیگیاں اپنے پاس امریکا میں الگ جمع کرتا ہے، پھر مزید ایک ہفتہ انتظار کرتا ہے اور تیسرے ہفتے کے شروع میں ایک ساتھ ہمارے پاس یہاں پاکستانی بینک میں بھیجتا ہے، یعنی پہلے ہفتے رقم جمع ہوتی ہے، دوسرا ہفتہ بھی وہ اپنے پاس رکھتے ہیں اور تیسرے ہفتے کے شروع میں ہمارے پاس بھیجتے ہیں، جس میں آتے آتے تین سے چار دن مزید لگ جاتے ہیں یعنی اس پورے عمل میں کم و پیش بیس دن لگ جاتے ہیں۔
ت: اسی طرح اس بھیجنے والی رقم میں سے وہ اپنی فیس کاٹتےہیں اور کچھ رقم اپنے پاس مزید 90 دنوں کے لیے سیکورٹی ڈیپازٹ (تحفظ) کے لیے رکھتے ہیں، کہ اگر کوئی خریدار سروس اچھی نہ ملنے پر رقم کی واپسی کا مطالبہ کرے تو انکے پاس واپسی کے لیے رقم ہو، یا کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے۔ واللہ اعلم
ث: اسی طرح اس مندرجہ بالا اپنے پاس سیکورٹی میں رکھے ہوئے رقم میں سے 90 دنوں کے بعد کچھ رقم ہمارے پاس آنے والے رقم کے ساتھ بھیجتےہیں، یعنی شروع کے دو، تین ماہ تک کچھ رقم اپنے پاس صرف رکھواتے رہے، اس کے بعدہرہفتے ہماری نئی آنے والے رقم میں سے کچھ اپنے پاس رکھتے ہیں، اور کچھ رقم رکی ہوئی رقم میں سے ریلیز (واپس) کرتے ہیں۔
شق نمبر 3 :رقم پر اختیارکل :
جس طرح شق نمبر 1میں ذکر ہے کہ ہمیں ہماری کچھ رقم پر اختیارکل ہوتاہےجویہاں پاکستانی بینک میں پہنچ گئ ہوتی ہے، لیکن شق نمبر 2 کے ب،ت،اورث میں جو رقم مذکور ہے جوکہ ابھی تک پاکستانی بینک میں نہیں پہنچی یاپیمنٹ گیٹ وے نے روک رکھی ہے،اس پرہمیں کوئی اختیارنہیں ہوتا،جب تک یہ پاکستان نہ پہنچے۔
سوال : سوال یہ ہے کہ یہ جس رقم پر ہمیں اختیار کل نہیں جو پیمنٹ گیٹ وےنے روکی ہے یا آنےمیں ٹائم ہے،اس پرزکوۃ ہےیانہیں؟دوسرےلفظوں میں اس پراس سال زکوۃ ہوگی یااگلےسال زکوۃ کی رقم میں شمارہوگی؟یعنی جب ہمیں اس پراختیارکل حاصل ہوجائے۔
نوٹ: واضح رہے کہ یہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ رقم ہماری ہے اور ڈالر میں اتنی بنتی ہے،بس آنےمیں ٹائم ہوتاہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔ ایسی رقم پراس وقت زکوۃ واجب ہوتی ہےجب وہ نصاب کےبقدروصول ہوجائے(بشرطکیہ اس رقم کےعلاوہ صاحب نصاب نہ ہو)اوراگرپہلےسےصاحب نصاب ہوتوجتنی رقم وصول ہوتی رہے،باقی مال کےساتھ ملاکر زکوۃ اداکی جائےگی، اگروصول ہونےمیں دوتین سال لگ جائیں تووصول ہونےکےبعددوتین سال کی ایک ساتھ زکوۃ اداکرنی لازم ہوگی۔
البتہ وصول ہونےسےپہلےوصول شدہ رقم کااندازہ لگاکراس رقم کی زکوۃبھی نکالی جاسکتی ہے۔
مثلاآپ کی زکوۃ اداکرنےکی تاریخ 26 نومبر ہے26نومبر تک جتنی رقم وصول ہوجائے،زکوۃ کی رقم میں اس کوشامل کرکےزکوۃ اداکی جائےگی۔جورقم 26 نومبر تک وصول نہ ہو،اس پرزکوۃ ابھی واجب نہیں ہوگی،جب وصول ہوجائےتوجیسےجیسےرقم وصول ہوتی رہےاس کاچالیسواں حصہ بطورزکوۃ دیاجاتارہے۔ہاں اگرآپ 26نومبر کوہی مکمل رقم(جس کااگلےدوتین مہینےمیں ملنےکاقوی امکان ہے)کی زکوۃ اداکرناچاہیں توشرعااداء کرسکتےہیں۔
حوالہ جات
"رد المحتار " 7 / 97:
( و ) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة : قوي ، ومتوسط ، وضعيف ؛ ( فتجب ) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول ، لكن لا فورا بل ( عند قبض أربعين درهما من الدين ) القوي كقرض ( وبدل مال تجارة ) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم ( و ) عند قبض ( مائتين منه لغيرها ) أي من بدل مال لغير تجارة وهو المتوسط كثمن سائمة وعبيد خدمة ونحوهما مما هو مشغول بحوائجه الأصلية كطعام وشراب وأملاك ۔
"نور الإيضاح 1 / 52:
زكاة الدين الدين ثلاثة أنواع قوي ومتوسط وضعيف ۔۔۔۔۔۔والدين المتوسط هو بدل ما ليس للتجارة كثمن ثياب البذلة وعبد الخدمة ودار السكنى ونحو ذلك مما تتعلق به حاجته الأصلية وحكمه انه لا تجب الزكاة فيه ما لم يقبض نصابا ويعتبر لما مضى من الحول في صحيح الرواية۔۔۔۔۔
"فتح القدير " 3 / 491:
وفي المتوسط لا تجب ما لم يقبض نصابا وتعتبر لما مضى من الحول في صحيح الرواية ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
07/رجب 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


