| 79287 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
سوال:اگر رکی ہوئی رقم پرزکوۃ ہے،تواس سےواجب الاداءاخراجات کیسےنکالےجاسکتےہیں؟کیونکہ اس رقم سے جو اخراجات نکلیں گے وہ آنےکےبعد نکلیں گے،جب زکوۃ کی تاریخ گزرجائےگی،جیسےہماری وجوب زکوۃ کی تاریخ یکم جمادی الاولی ہے،جو اس سال عیسوی تاریخ 26 نومبر بنتی ہے،اب 26نومبر تک واجب الاداء اخراجات توسمجھ آتےہیں،لیکن یہ رکی ہوئی رقم ہمارے پاس عیسوی تاریخ کےاگلےماہ دسمبرمیں آئےگی اورجورقم 90 دنوں کےلیےرکی ہوئی ہےوہ اس حساب سےتین ماہ میں آئےگی۔
سوال : اگر ہم آنے والے اخراجات (جوکہ لاکھوں میں ہیں اور اسی آنےولی رقم سے ہونےہیں) کو نہیں نکال سکتے،تواس صورت میں زکوة کی رقم بہت بڑھ جاتی ہے،جیسےمذکورہےکہ 90فیصداخراجات ہیں،جس میں تنخواہیں اوردوسرےضروری اخراجات شامل ہیں،توکیازکوۃ میں شامل رقم سےجواخراجات ہوں گےاورجوپہلےسےمعلوم ہےوہ واجب الاداء اخراجات میں نہیں آتے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۲۔زکوۃ کی ادائیگی کےمہینےتک جتنی رقم آپ پرقرض ہے،یامختلف اخراجات کی مدمیں واجب ہوچکی ہوتوزکوۃ اداکرنےسےپہلےاس رقم کو منہاء کیاجائےگا،اس کےبعد ڈھائی فیصدبطور زکوۃ کےنکالاجائےگا۔
زکوۃ کی ادائیگی کی تاریخ کےبعدکےاخراجات کی رقم کو پہلےسےنکالنادرست نہیں ہوگا،مثلااگر اخراجات ابھی تک ہوئےنہ ہوں اورآپ کویقین ہوکہ اگلےمہینےاتنےاخراجات ہوجائیں گے،اس وجہ سےتومیں ابھی سےہی اخراجات کی رقم زکوۃ سےمنہاء کرلیں تو یہ شرعادرست نہیں ہوگا۔
۳۔یہ اخراجات اگرپہلےہی واجب ہوچکےتھےتورقم وصول ہونےکےبعدان اخراجات کومنہاء کیاجاسکتاہے،مثلا 26نومبرتک کی تنخواہیں،اورکاروباری قرضےمنہاء کیےجاسکتےہیں۔
صورت مسئولہ میں زکوۃ کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہوسکتاہےکہ جورقم وصول ہونےوالی ہےاس کاحساب لگاکراس سےواجب الاداء اخراجات کی رقم منہاکرکےزکوۃ ادا کردیں۔پھرجب حقیقتارقم وصول ہوتوکمی بیشی کاحساب لگا لیاجائےزکوۃ کم اداہوئی ہوتومزید دیدی جائے۔
مثلا آپ نےاندازہ لگایاکہ جورقم وصول ہوگی وہ 10 لاکھ ہے اور اس میں سے مثال کےطورپر 3 لاکھ روپے اس سال کےاخراجات تھے وہ منہا ء کیےگئےتوباقی 7 لاکھ کا چالیسواں حصہ بطور زکوۃ ادا کردیا۔
بعدمیں جب وصولی ہوئی تو دس لاکھ کے بجائے گیارہ لاکھ وصو ل ہوگئےتواب گیارہ لاکھ میں سے تین لاکھ نکا ل کر 8 لاکھ کی زکوۃ ادا ہونی چاہیے،اس میں سے 7لاکھ کی زکوۃ آپ دےچکےتومزید ایک لاکھ کی زکوۃ اداء کرلی جائےتومکمل زکوۃ اداہوجائےگی۔
حوالہ جات
"رد المحتار"6 / ،462،455:
فارغ ( عن حاجته الأصلية ) لأن المشغول بها كالمعدوم ۔
وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه ( نام ولو تقديرا ) بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه ۔
( قوله : وفارغ عن حاجته الأصلية ) أشار إلى أنه معطوف على قوله عن دين ( قوله وفسره ابن ملك ) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها ، وذلك حيث قال : وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين ، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك ، فإذا كان له دراهم مستحقة بصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة ، كما أن الماء المستحق بصرفه إلى العطش كان كالمعدوم وجاز عنده التيمم ۔
وظاهر قوله فإذا كان له دراهم إلخ أن المراد من قوله : وفارغ عن حاجته الأصلية ما كان نصابا من النقدين أوأحدهما فارغا عن الصرف إلى تلك الحوائج ، لكن كلام الهداية مشعر بأن المراد به نفس الحوائج ، فإنه قال : وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة ؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلية وليست بنامية ۔
"حاشية رد المحتار 2 / 283:
وقد عللوا سقوط الزكاة بالدين بأن المديون محتاج إلى هذا المال حاجة أصلية، لان قضاء الدين من الحوائج الاصلية والمال المحتاج إليه حاجة أصلية لا يكون مال الزكاة۔
تأمل.قوله: (أو مؤجلا الخ) عزاه في المعراج إلى شرح الطحاوي، وقال: وعن أبي حنيفة لا يمنع..وقال الصدر الشهيد: لا رواية فيه، ولكل من المنع وعدمه وجه. زاد القهستاني عن الجوهرة: والصحيح أنه غير مانع۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
07/رجب 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


