| 18618 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
ہمارے ہاں یہ رواج ہےکہ شادی بیاہ میں لڑکی کا والد لڑکے کے گھر والوں سے جہیز کے نام پر پانچ لاکھ روپے لیتے ہیں اور انہی پیسوں سے جہیز بھی لیکر دیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے والوں سے رقم لینے کی مختلف صورتیں ہیں جن کا حکم بھی مختلف ہے،لہذاذیل میں اس قسم کی رقم کی شرعی اور فقہی حیثیت کے بارے میں تفصیل لکھی جاتی ہے :
۱۔نکاح کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے لڑکی کے حق مہر کے علاوہ جہیز کے نام پر رقم وصول کرنا ناجائز اور رشوت کے زمرے میں آتا ہے،اور یہ رسم قابل ترک اور قابل اصلاح ہے۔(فتاوی رحمیمہ: ج۸،ص۲۳۳) اس لیے کہ جہیز در حقیقت والدین کی طرف سے شادی کے موقع پر ملنے والا تحفہ اور ہدیہ ہے، لہذا اس کے لیے شوہر سے رقم کا مطالبہ درست نہیں۔
ہاں اگرلڑکی کےوالدین کی طرف سےکوئی مطالبہ نہ ہو،لیکن لڑکےوالےاپنی طرف سےاس مقصد کےلیےلڑکی والوں کو کچھ رقم دیں کہ وہ ان کے وکیل کی حیثیت سےلڑکی کےلیےاس کی مرضی کےمطابق کپڑےوغیرہ خریدلیں تولڑکے والوں کےلیےشادی کے سامان کی خریداری اس طریقہ سےکرنا جائزہے،مگر واضح رہے کہ ایسی صورت میں اس سامان کا مالک لڑکا یا اس کے اہل خانہ والد وغیرہ ہی ہونگے۔
۲۔ اگر یہ رقم خالص مہر کے طور پر ہو تو یہ لڑکی کا حق ہے،لہذااس سے اس کے جہیز کا سامان یا زیوارات وغیرہ خریدنا تو جائز ہے،لیکن لڑکی کی طرف سے دعوت وغیرہ یا کسی بھی طرح لڑکی کے والدین یا گھر والوں کا اسے ذاتی استعمال میں لاناجائز نہیں، (امدادالفتاوی:ج۲،ص۲۱۱، فتاوی حقانیہ :۴،ص۳۶۴)نیز باپ وغیرہ کسی بھی سرپرست کا لڑکی سے دلی رضامندی کے بغیر معاف کروانے یا بخشش کا بھی شرعا اعتبار نہیں،لہذا اس رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا بھی قطعا جائز نہیں۔
۳۔ اگریہ رقم لڑکی کاعوض ہو یا اس میں عوض کا پہلو بھی نمایاں ہو یعنی لڑکی کےسرپرست اس کواپنا حق سمجھ کر لیتےہو یااس کاعرف و رواج ہو تو یہ ناجائز اور حرام ہے۔
۴۔ اسی طرح اگر یہ رقم مہر اور عوض کے علاوہ ہویعنی لڑکی کی رخصتی کرانے کے لیے دی گئی ہو تو یہ رشوت ہے ،لہذاان دونوں صورتوں میں اس رقم کا لوٹانا ضروری ہے،البتہ مہر کی صورت میں یہ لڑکی کا حق ہوگا،جس کا اس کی دلی رضامندی کے بغیرلینا یاذاتی استعمال جائز نہ ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 113)
ولا بد من رضاها. ففي هبة الخلاصة خوفها بضرب حتى وهبت مهرها لم يصح لو قادرا على الضرب. اهـ.
الفتاوى الهندية (1/ 327)
ولو أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده؛ لأنه رشوة، كذا في البحر الرائق
الفتاوى الهندية (1/ 328)
تزوجها وأعطاها ثلاثة آلاف دينار بدست بيمان وهي بنت موسر ولم يعطها الأب جهازا أفتى الإمام جمال الدين وصاحب المحيط بأنه يتمكن من مطالبة الجهاز من الأب على قدر العرف والعادة، وإن لم يجهز له طلب دست بيمان قال وهذا اختيار الأئمة۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۲رجب۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


