| 79490 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
زونگ ایپلیکیشن میں ایک آپشن کے ذریعے ایک روپے کے بدلے دس MBسے لے کر پانچ سو MB تک انٹر نیٹ دیا جاتا ہے ہے لیکن یہ مقدار متعین نہیں ہوتی، دس MB اور پانچ سو MB کے درمیان کسی بھی مقدار میں انٹرنیٹ ہو سکتا ہے،یعنی 10،20،40،80،100،150،200،300،400،500 میں سے کسی ایک مقدار میں انٹرنیٹ ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس معاملہ میں مبیع مجہول اور غیرمتعین ہے،تو کیا یہ معاملہ جائز ہو گا یا ناجائز ہوگا اور یہ قمار کے حکم میں ہو گا یا نہیں؟
وضاحت:اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جب صارف “ Shuffle” کا بٹن دباتا ہے تو اسکرین پر تقریباً آٹھ گول دائرے بنتے ہیں اورہر ایک دائرے میں متعین MB ہوتی ہیں۔صارف جس دائرے کا انتخاب کرتا ہے،اس میں موجود MBصارف کو مل جاتی ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیع کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط مبیع(خریدی جانے والی چیز) کی مقدار کا معلوم ہونا بھی ہے۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ مبیع مجہول ہے،لہذا یہ معاملہ جائز نہیں ۔ یہ معاملہ اگرچہ قمار کے حکم میں داخل نہیں،لیکن غرر بہر حال موجود ہے؛اس لیے کہ اس کی رقم ڈوبتی نہیں ۔لیکن مبیع 10 ایم –بی سے لے کر 500 ایم-بی تک ہونے میں غرر ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:وأما الثالث: وهو شرائط الصحة فخمسة وعشرون: منها عامة ومنها خاصة، فالعامة لكل بيع شروط الانعقاد المارة؛ لأن ما لا ينعقد لا يصح، وعدم التوقيت ومعلومية المبيع ومعلومية الثمن بما يرفع المنازعة، فلا يصح بيع شاة من هذا القطيع وبيع الشيء بقيمته أو بحكم فلان ،وخلوه عن شرط مفسد.(ردالمحتار:4/505)
قال جمع من العلماء رحمہ اللہ: وأما شرائط الصحة .....ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة ،فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح ،كبيع شاة من هذا القطيع وبيع شيء بقيمته وبحكم فلان.(الفتاوی الھندیۃ:3/3)
قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ:فالحاصل: أن كل جهالة تفضي إلى المنازعة مبطلة، فليس يلزم أن ما لا يفضي إليها يصح معها ،بل لا بد مع عدم الإفضاء إليها في الصحة من كون المبيع على حدود الشرع، ألا ترى أن المتبايعين قد يتراضيا على شرط لا يقتضيه العقد وعلى البيع بأجل مجهول كقدوم الحاج ونحوه، ولا يعتبر ذلك مصححا.كذا في فتح القدير وفي المعراج.(البحر الرائق:5/328)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:قوله( لأنه يصير قمارا)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد ؛لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة وفي الآخر الانتقاص فقط.(ردالمحتار:6403)
محمد عمربن محمد الیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
13رجب،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


