03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فاریکس Short term ٹریڈنگ کا حکم
79505خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

Forex Trading   دو صورتوں میں کی جاتی ہے آپ کسی بھی کرنسی Pair کو Buy بھی کر سکتے. اور sell‏بھی، جس کو Trading کی زبان میں Long Term اور Short Tom‏ کی اصطلاح سے بھی پکارا جاتا ہے ۔ آیا short Term‏ جائز ہے یا نہیں۔

‏پھر  News Tradingکی جاتی ہے کہ کسی بھی کرنسی pair کے بارے میں مارکیٹ میں خبر آجاتی ہے کہ اس کرنسی کو Buy کر لیں یا sell تو اُس News سے پہلے ‏ Trade لی جاتی ہے جس سے اچھا خاصا منافع کمایا جاتا ہے ۔ کیا یہ Trade لینا جائز ہے یا نہیں؟

اس کے علاوہ Forex Trading کی مزید قباحتیں جو آپ کے علم میں ہوں وہ بھی Share کر دیں۔ آیا یہ مسئلہ جواز اور عدم جواز کا ہے یا حلال اور حرام کے درجے میں آتا ہے اس پر وضاحت ضرور فرما دیں۔ کیونکہ حلال اور حرام کا تعین تو نص قطعی سے کیا جاتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کا اصولی حکم یہ ہے کہ کرنسی کی خرید و فروخت کے لیے تین شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

1۔اس کی لین دین حقیقی ہو، فقط اکاؤنٹ میں ظاہر نہ کی جاتی ہو۔

2۔اسے بیچنے والا اس کا حقیقتاً مالک بھی ہو اور بیچنے والے نے اس پر قبضہ بھی کیا ہو۔

3۔مختلف ممالک کی کرنسیوں کالین دین ہو تو عقد کی مجلس میں ہی کسی ایک کرنسی پر حقیقتاً یا حکماً  قبضہ کر لیا جائے۔

حقیقی خرید و فروخت نہ ہونے کی بنا پر اکثر صورتوں میں ’’بیع الدین بالدین‘‘ (ادھار کی بیع ادھار کے ساتھ) ہوتی ہے جوکہ ناجائز ہے۔

فیوچر سیل کی جو صورت اوپر بیان ہوئی ہے وہ بیع ناجائز ہے؛ کیونکہ بیع کا فوری ہونا ضروری ہے۔ مستقبل کی تاریخ پر خرید و فروخت ناجائز ہے۔

فاریکس ٹریڈنگ میں  اسکرین پر محض اعداد و شمار کے بڑھنے اور گھٹنے کو نفع اور نقصان شمار کیا جاتا ہے۔ حسی طور پر کسی چیز پر قبضہ نہیں ہوتا۔ اس لحاظ سے اس میں قمار کی قباحت  پائی جاتی ہے۔ اس لیے یہ ناجائز ہے۔

اس طریقہ کاروبار میں ایک قباحت ''بیع قبل القبض'' کی بھی ہے۔ کیونکہ قریباً تمام لوگ  خریداری محض کر نسی ریٹ کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے نفع حاصل کر نے کے لیے کرتے ہیں ، ان کا مقصد اس پر حسی یا حقیقی قبضہ نہیں ہوتا۔ یوں سب لوگ بغیر قبضہ کیے اس کو آگے فروخت کر دیتے ہیں جو کہ جائز نہیں ہے۔

الغرض فاریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ کاروبار قمار (سٹہ) ، بیع المعدوم(غیر موجود شئی کی بیع) ، بیع قبل القبض (قبضہ سے پہلےمبیع آگے فروخت کرنا) اور بیع الکالی بالکالی(قرض کا قرض کے بدلے بیع)پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے  اور اس میں سرمایہ  کاری شرعا جائز نہیں اس لئے مسلمانوں پر اس سے احتراز لازم ہے۔

News trading فی نفسہ جائز ہے البتہ فاریکس ٹریڈنگ کے ناجائز ہونے کی وجہ سے فاریکس میں اس کا اعتبار نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

قال الله تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔(المائده:90)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505)

 وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 561)

ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة

المبسوط للسرخسي (14/ 4)

ولأن هذا العقد مبادلة الثمن بالثمن والثمن يثبت بالعقد دينا في الذمة والدين بالدين حرام في الشرع لنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الكالئ بالكالئ فما يحصل به التعيين وهو القبض لا بد منه في هذا العقد

احمد الر حمٰن

دار الافتاء، جامعۃ الرشید کراچی

23/رجب/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احمد الرحمن بن محمد مستمر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب